اعجاز میر
سرینگر //کشمیر اور جموں خطوں کے درمیان رابطے کو بڑھانے کے لیے، سڑک ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کی وزارت نے ایک بڑے ہائی وے پروجیکٹ (نیشنل ہائی وے701A )کو منظوری دی ہے۔ راجوری کو بارہمولہ سے جوڑنے والی شاہراہ پر کام جلد شروع ہونے والا ہے۔ اس حصے کو تعمیر کے لیے بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے پر، جس کی لاگت تقریباً 3,300 کروڑ روپے ہے، جوجموں ڈویژن کے راجوری اور پونچھ اضلاع کو موجودہ مغل روڈ کے ذریعے وادی کشمیر سے جوڑے گا، جس کی وادی کشمیر میں گلمرگ اور بارہمولہ کے علاقوں تک توسیع کے منصوبے ہیں۔پروجیکٹ، جس کا مقصد سرینگر-جموں قومی شاہراہ کا ایک متبادل ہر موسمی راستہ فراہم کرنا ہے۔ ہائی وے کا منصوبہ پہلے سے ہی اپنے ابتدائی مرحلے میںہے۔”تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (DPR) کی تیاری پر کام فعال طور پر جاری ہے، ٹیمیں فیلڈ کے حالات کا جائزہ لے رہی ہیں اور منصوبہ بند ہائی وے حصے کو حتمی شکل دے رہی ہیں،” ۔اس کے ساتھ ہی حکام زمین کے حصول کے عمل کو شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔موجودہ ضوابط کے تحت، تعمیر کے آغاز سے پہلے 90 فیصد اراضی کا حصول مکمل کرنا ضروری ہے۔
مجوزہ شاہراہ
قومی شاہراہNH-701A شوپیان سے ماگام تک 2لین پر مشتمل ہوگی۔مجوزہ NH-701A شاہراہ ناربل کے قریب سرینگر بارہمولہ قومی شاہرا ہ کے جنکشن سے شروع ہوگی اور پونچھ میں سرنکوٹ کے قریب NH-144A کے ساتھ جنکشن پر ختم ہو گی۔ماگام اور سرنکوٹ(پونچھ)کے درمیان کا حصہ 159 کلومیٹر پر محیط ہے۔ یہ کئی اہم مقامات یوس مرگ اور دودھ پتھری، چرار شریف، کنہ دجن، پکھر پورہ، کیلر، شوپیان اور بفلیاز سے بھی گزرے گی۔ززناڑ شوپیان کے مقام پر یہ موجودہ مغل روڑ کیساتھ مل جائے گی جہاں ٹنل کی تعمیر کی جائے گی۔یہ نئی قومی شاہراہ ماگام، بیروہ،دودھ پتھری،یوسمرگ، پکھر پورہ، کیلر اور شوپیان اور پھر بفلیاز کو آپس میں ملائے گی۔اس منصوبے کی ایک اہم خصوصیت پونچھ میں چھتہ پانی سے زز ناڑ شوپیان کی طرف 10 کلومیٹر طویل ٹنل کی تعمیر ہے، جو مغل روڈ کو ہر موسم کے راستے میں تبدیل کر دے گی اور بار بار لینڈ سلائیڈنگ کے دوران بھی ضروری سامان اور مسافروں کی آمدورفت کی بلاتعطل آمد و رفت کو یقینی بنائے گی۔سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت نے 852 کروڑ روپے کی لاگت سے قومی شاہراہ 701A کے ززناڑ شوپیان سیکشن کی تعمیر کو بھی منظوری دے دی ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف علاقائی رابطوں کو بہتر بنائے گا بلکہ پیر پنجال کے پورے خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گا، جس سے سرینگر جموں قومی شاہراہ کا ایک قابل اعتماد متبادل ملے گا۔اس اہم نئی شاہراہ کی تعمیر کو کئی حصوںمیں تقسیم کیا گیا ہے۔ اسکاتیسرا حصہ سب سے لمبا 76 کلومیٹر کاہے، جو یوس مرگ کو دودھ پتھری اور بیروہ کے ذریعے ماگام سے جوڑتا ہے جو بڈگام کو دیگر اضلاع جیسے شوپیان، راجوری اور بارہمولہ سے جوڑے گا۔
خدشات
پہاڑی راستوں سے گزرنے والی مجوزہ NH-701A ہائی وے کے بارے ماہرین متنبہ کرتے ہیں کہ یہ نازک ڈھلوانوں، برفانی نظاموں، جنگلات اور چراگاہوں کے مناظر میں کمی کرے گی ، جس سے یہ ماحولیاتی اور سماجی و ثقافتی خطرہ بن جائے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نازک پہاڑی نظام میں خاص طور پر شدید بارش کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ رہے گا۔یہ جنگلات، چراگاہوں کے مناظر اور برفانی علاقوں کو کم کرسکتی ہے، جس سے حیاتیاتی تنوع، پانی کے نظام اور گوجروں اور بکروالوں کے روایتی نقل مکانی کے راستوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔NH-701A صرف ایک سڑک پروجیکٹ نہیں ہے یہ جموں و کشمیر کے نازک پہاڑی نظاموں میں ماحولیاتی نظم و نسق کے لیے ایک آزمائشی کیس ہے۔حفاظتی اقدامات کے بغیر، یہ منصوبہ لینڈ سلائیڈنگ، رہائش گاہ کے نقصان، ثقافتی خلل، اور طویل مدتی ماحولیاتی عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔