بارہمولہ/ / ضلع بارہمولہ کے علاقے نارواو میں بر قی رو کی عدم دستیابی سے عوام کو گونا گو ں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تا۔ شمالی قصبہ بارہمولہ کے نارواو علاقے جن میں شیری ،فتح گڈ ھ ،ہیون، کالے بن،لرڈورہ، پچہار ،تاری پورہ، آ ڈورہ ،نملن، گلستان ،بدمولہ ،پالہ دجی گوری وان ،زنڈفرن ،زوگیار،شالہ ٹینگ اور کئی دیہات کے لوگوں نے بتایا کہ شام ہوتے ہی ہر سو اندھیرا چھا جاتا ہے اور کئی علاقوں میں بجلی آتے ہی چلی جاتی ہے جس کے نتیجے میں عوام کے مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس بارے میں کئی بار احتجاج بھی کیا گیا لیکن محکمہ کے افسران آج تک برقی رو کو بہتر بنانے کیلئے کارگر اقدامات نہیں کر رہے ہیں اور وہ ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں جس کے نتیجے میں عوام میں محکمہ کے خلاف زبردست غم و غصہ پایا جارہا ہے کیونکہ عوامی لوگوں کے مطابق کسی بھی علاقے میں بجلی کا کوئی شیڈول نہیں ہے اور کسی کو یہ معلوم نہیں کہ بجلی کب آئیگی اور کب چلی جائیگی ۔ بیوپار منڈل کے صدر سجاد البشیرلون نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ لوگوں کو بار بار بہانہ بناکر کہ رہا ہے کہ شٹ ڈاون چل رہا ہے تاہم ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کا خمیازہ عام صارفین کو بھگتناً پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ باقائدگی کے ساتھ بجلی فیس بھی ادا کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان علاقوں میں بجلی کی عدم دستیابی کے سبب مقامی لوگوں کو مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کل طلاب کے امتحانات چل رہے ہیں اور انہیں تیاریاں کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ شام ہوتے ہی ان علاقوں میں بجلی غائب ہوتی ہے ۔ مقامی لوگوں نے مزید کہا کہ اگرچہ میٹر نصب کرنے کے وقت ان کے ساتھ یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں 24گھنٹے بجلی سپلائی مہیا رکھی جائیگی لیکن اس وعدے پر عمل نہیں کیا گیا اور لوگوں کو احتجاج کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ لو گو ں نے محکمہ بجلی پر الزام لگایا کہ وہ علاقے کو جان بوجھ کر گھپ اندھیرے میں رکھ رہے ہیں جس کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کو زبردست دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے اس معاملے میں گونر انتظامیہ سے فوری طور پر مداخت کی اپیل کی ۔