فیاض بخاری
بارہمولہ// ضلع بارہمولہ کے ناروائو علاقے میں 29 دیہات کی عوام کو انتظامی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے سال 2014 میں تحصیل آفس کی منظوری اور الاٹمنٹ عمل میں لائی گئی تھی، تاہم ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود تحصیل ہیڈکوارٹر تاحال مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا، جس کے باعث مقامی آبادی کو روزمرہ سرکاری امور کی انجام دہی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق ناروائو اور اس سے ملحقہ 29 دیہات کے باشندوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت نے تحصیل کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس سے لوگوں میں امید پیدا ہوئی تھی کہ بنیادی سرکاری خدمات ان کی دہلیز پر دستیاب ہوں گی۔ مگر برسوں گزرنے کے باوجود عملی سطح پر پیش رفت نہ ہونے سے عوام میں مایوسی پائی جا رہی ہے۔علاقہ کے مکینوں کا کہنا ہے کہ زمین سے متعلق معاملات، رہائشی سرٹیفکیٹ، آمدنی اسناد، ذات پات سرٹیفکیٹ اور دیگر اہم دستاویزات کے حصول کے لیے انہیں آج بھی دور دراز تحصیل دفاتر جانا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ اضافی مالی بوجھ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ بزرگ شہریوں، خواتین اور طلبہ کو اس صورتحال میں سب سے زیادہ مشکلات پیش آتی ہیں۔لوگوں کے مطابق شیری میں تحصیل ہیڈکوارٹر کیلئے جگہ منتخب کی گئی تھی اور ایک عمارت کا افتتاح بھی کیا گیا تھا اور جلد دفتر کو فعال بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم آج تک ضروری عملے کی تعیناتی، دفتری سازوسامان اور دیگر بنیادی لوازمات فراہم نہیں کیے گئے، جس کے باعث عمارت غیر فعال پڑی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق تحصیل ہیڈکوارٹر کے فعال نہ ہونے سے انتظامی نظام متاثر ہو رہا ہے اور عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر تحصیل دفتر مکمل طور پر کام شروع کرے تو نہ صرف عوام کو سہولت ملے گی بلکہ علاقے میں ترقیاتی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔عوامی نمائندوں اور سماجی تنظیموں نے جموں و کشمیر کی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ ناروائو میں منظور شدہ تحصیل ہیڈکوارٹر کو فوری طور پر فعال بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور باقی ماندہ انتظامی تقاضے جلد از جلد پورے کیے جائیں۔مقامی لوگوں نے امید ظاہر کی ہے کہ حکام اس دیرینہ مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لے کر جلد فیصلہ کن اقدامات کریں گے تاکہ 29 دیہات کے ہزاروں باشندوں کو بنیادی سرکاری خدمات کے حصول کے لیے مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔