تعجب کی بات ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ خم ٹھونک کر اعلان کررہے ہیں کہ وہ صد ر ریاست اور وزیر اعظم کے عہدے بحال کرائیں گے ۔ تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ سننے والوں کو بھی اس بات پر کوئی تعجب نہیں ہورہا ہے ۔اب کی بار کتنے سارے تعجب ایک ساتھ سوچنے اور سمجھنے والوں پر بجلی بن کر گررہے ہیں ۔ایک تعجب یہ ہے کہ عمر عبداللہ صدر ریاست اور وزیر اعظم کے عہدے بحال کرنے کی بات اس وقت کہہ رہے ہیں جب مرکز میں برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے روح رواں امیت شاہ یہ اعلان کررہے ہیں کہ 2020ء میںدفعہ تین سو ستر اوردفعہ 35الف ختم کردیا جائے گا ۔دوسرا تعجب یہ ہے کہ اٹانومی سے متعلق نیشنل کانفرنس کی طرف سے اسمبلی میں پاس کی گئی قرارداد کو اٹل بہاری واجپائی کے دور حکومت میں ردی کی ٹوکری میںپھینکے جانے کا رونا کل تک رونے والے عمر عبداللہ کے ہاتھ میںآج جادو کی وہ کونسی چھڑی آئی ہے کہ انہیں لٹے ہوئے خزانے واپس حاصل کرنا داہنے ہاتھ کا کھیل لگ رہا ہے ۔ ایک اورتعجب یہ بھی ہے کہ سابق بیروکریٹ اور آج کے سیاست داں شاہ فیصل بھی دعویٰ کرچکے ہیں کہ 2020تک وہ صدر ریاست اور وزیر اعظم کے عہدے بحال کروادیں گے حالانکہ سیاست کی دنیا میں وہ ابھی نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں ۔ ابھی ابھی انہوں نے اپنی سیاسی جماعت ’’ عوامی تحریک ‘‘ لانچ کی ہے اور وہ پارلیمنٹ کا انتخاب بھی نہیں لڑرہے ہیں ۔وہ اتنے سمجھدار ضرور ہیں کہ یہ اندازہ کرسکیں کہ آنے والے انتخاب میں بی جے پی کے ہی اقتدار میں آنے کے زیادہ امکانات ہیں کیونکہ نہ مودی جی کی مقبولیت کا گراف اتنا نیچے آیا ہے کہ بی جے پی کوکراری شکست ہو جائے اور نہ ہی اپوزیشن میں ایسا اتحاد پیدا ہوسکا ہے کہ بی جے پی بڑی ریاستوں میں چاروںشانے چت ہوجائے ۔تبدیلی کابس اتنا ہی امکان ہے کہ بی جے پی حتمی اکثریت حاصل نہ کرسکے اور مودی اس بار کمزور وزیر اعظم بن جائیںلیکن کمزور وزیراعظم ہوکر بھی وہ اپنی جماعت کے ایجنڈے اور مینی فیسٹو کے پرخچے اڑا کر اپنے ملک میں اپنے مقابل ایک اور وزیر اعظم کیسے برداشت کرپائیں گے جبکہ وہ اپنے مقابل کسی دوسرے کا پوسٹر بھی برداشت نہیں کرتے ۔
ایسے میں نیشنل کانفرنس کے پاس وہ کونسا معجزہ ہے کہ وہ گھڑی کی سوئیوں کو ساٹھ سال سے بھی پیچھے لے جاسکے ۔یہ عمر صاحب کے علاوہ نہ کوئی جان سکتا ہے اورنہ بتاسکتا ہے ۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا کرشمہ ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کا ایک فارمولا تیار ہوا ہے اورالیکشن کے بعد اس پر عمل درآمد ہونے والا ہے ۔ اس فارمولے کے تحت ریاست کی ترپن سے پہلے کی پوزیشن بحال کی جارہی ہے ۔ عمر صاحب اسی بناء پر عوام کو یقین دلارہے ہیں کہ وہ صدر ریاست اور وزیر اعظم کے عہدے بحال کروا کے ہی چھوڑیںگے ۔جو لوگ یہ کہتے ہیں انہی میں سے کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نیشنل کانفرنس کا ہی چھوڑا ہوا شوشہ ہوسکتا ہے ۔
بہرحال اس کے برعکس نئی دہلی سے کشمیر تک اعلیٰ پایہ کے تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کی رائے میں ہر سیاسی جماعت الیکشن کے دوران ایسے خواب لیکر عوام کے سامنے آتی ہے جن کی کبھی کوئی تعبیر نہیں ہوتی ہے ۔امیت شاہ بھی یہ خواب لیکر لوگوں کے بیچ جارہے ہیں کہ وہ دفعہ تین سو ستر اور 35اے ہٹا دیں گے ۔ 1914ء میںبھی وہ یہی خواب لیکر عوام کے سامنے آئے تھے لیکن چند ہی ماہ بعد انہوں نے پی ڈی پی کے ساتھ ایجنڈا آف الائنس نام کے سمجھوتے میں ریاست کی خصوصی حیثیت کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کا وعدہ کر ڈالا ۔2019ء کا انتخاب آنے تک یہ وعدہ قائم رہااس کے بعد انتخابی ضرورت کے پیش نظر ہی پی ڈی پی سے ناطہ توڑ کر ایجنڈا آف الائنس سے دامن چھڑا لیا گیا ۔ریاست میں گورنر راج اور صدر راج لاگو کرنا پڑا ۔مسئلہ دفعہ تین سو ستر اور پنتیس الف کے آزانہ استعمال کا تھا ۔اس انتخاب میںرام مندر کی تعمیر کا خواب بھی انہوں نے کروڑوں آنکھوں میں سجایا تھا لیکن رام مندر بھی نہ بن سکا ۔ اب انتخابی پروپیگنڈا مہم میں رام مندر کی جگہ’’ چوکیدار ‘‘نے لی ہے ۔اس بار بھاجپا کے پاس بھی دیوانے کے خوابوں کے علاوہ کچھ نہیں اوربھاجپا کی طرح ہی کشمیر کی مرکزیت والی قومی دھارے کی جماعتوں کے پاس بھی ووٹروں کو لجھانے اور رجھانے کیلئے وہی خواب ہیں جن کی کوئی تعبیر نہیں ۔
نیشنل کانفرنس ایک ایسی مقامی جماعت تھی جس کی جڑیں تاریخ کے اندر موجود تھیں لیکن اس جماعت نے اپنی مضبوط جڑوں کو خود ہی کھوکھلا کرکے رکھ دیا ۔صدر ریاست اور وزیر اعظم کے عہدوں کی بحالی کا مطالبہ اس کے کسی انتخابی منشور میں نہیں تھا ۔اندرا عبداللہ ایکارڈ میں اٹانومی کا کوئی نام و نشان بھی نہیں تھا ۔ اس کے بعد اس کا یہ مطالبہ بے معنی ہوکر رہ گیا ۔1996ء کا سنہری موقعہ اس کے ہاتھ آیا تھا جب اٹانومی کے نام پر کچھ حاصل کیا جاسکتا تھا لیکن اسے اس سے کوئی غرض نہیں تھی ۔ وقت کی ضرورتوں کے تحت مطالبے کرنے سے مطالبے کب پورے ہوتے ہیں ان کے لئے ایک مستقل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے جو کبھی نہیں کی گئی ۔جہاں تک پی ڈی پی کا تعلق ہے تو اس نے بھی وقت کی ضرورت کے تحت سبز جھنڈا اٹھایا ۔ قلم اور دوات جو جماعت اسلامی کا انتخابی نشان تھا اپنالیا اور اپنی کامیابی کیلئے میدان صاف کیا ۔آج محبوبہ مفتی پھر وہی نسخے لیکر میدان میں ہے ۔
ریاست میں قومی دھارے کی کسی مقامی سیاسی جماعت کے پاس کوئی معاشی ، معاشرتی ، اقتصادی یا سیاسی تصور یا پروگرام نہیں ۔ ووٹ حاصل کرنے کیلئے کوئی سبز جھنڈے کا سہارا لے رہا ہے ۔ کوئی جماعت اسلامی پر سے پابندی اٹھانے کا اعلان کررہا ہے ۔ کوئی صدر ریاست اور وزیر اعظم کے عہدے بحال کررہا ہے اور کوئی افسپا اور پبلک سیفٹی ایکٹ ختم کررہا ہے ۔حالانکہ نہ صدرریاست اور وزیر اعظم کے عہدے کسی ریاستی حکومت نے ختم کئے ۔ نہ کسی حکومت نے افسپا اور پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ کیا ۔ بہ سب نئی دہلی کے ہی منصوبے تھے جنہیں روبہ عمل لانے کا کام قومی دھارے کی مقامی جماعتوںنے ہی کیا ۔
تاریخ اس کی شاہد ہے اور تاریخ کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ مفتی محمد سعید سے محبوبہ مفتی اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے عمرعبداللہ تک ہر لیڈر نے ریاست کی خصوصی حیثیت کی دھجیاں اڑانے میں اہم کردار ادا کیا اورجب الیکشن کا موقعہ آیا تو عوام کے سامنے ایسے ایسے خواب لیکر آئے جنہیں پورا کرنا ان کے بس کی بات نہیں تھی ۔پی ڈی پی نے گزشتہ انتخاب سبز جھنڈے دکھا کر لڑا اورجیت بھی لیا لیکن اس کے دور میں کشمیر کی تاریخ کا وہ خونین باب شروع ہوا جس کی انتہا اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی عسکری صفوں میں شمولیت ، فدائین حملے ، فورسز کے ساتھ نہتے نوجوانوں کی بے خوف ہاتھا پائیاں ، مذہبی جنون ، پیلٹ کا بے تہاشا استعمال اور آل آوٹ آپریشن تھا ۔ اب یہ جماعتیں کس منہ سے عوام کو امن ، سکون ، چین اور مسئلہ کشمیر کے حل کی خوشخبریاں سنا رہے ہیں جبکہ مسئلہ کشمیر انسانی لاشوں پر کھڑا ہونے کے باوجود بھی ناامیدی اور مایوسی کے اندھیروں میں کہیں گم ہے ۔
مزاحمتی قیادت افسردگی کے عالم میں ہے کیونکہ ریاست کے آہنی ہاتھ اس کا ساراڈھانچہ تہس نہس کررہے ہیں ۔ اس نے اپنے وجود کا سارا بوجھ عسکریت پر ڈال رکھا تھا ۔ عوامی سطح پر اس کاکوئی سیاسی ڈھانچہ نہیں تھا ۔ ایسا ہوتا تو حالات مختلف ہوتے ۔ عوام پر اس وقت مایوسی چھائی ہوئی ہے اور یہ مایوسی آگے چل کر کونسا رنگ اختیار کرے گی کچھ کہنا مشکل ہے ۔
پہلے بھی کشمیر کو ایک ایسے مسیحا کی ضرورت تھی اور آج بھی ہے جو عوام کو جھوٹے خواب دینے کے بجائے حقائق کی چٹانوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ بخشے ۔ معتبر اور دانشمندانہ جدوجہد کی صلاحیت پیدا کرے تاکہ قوم سخت سے سخت ترین حالات میں بھی اپنے حقوق ، اپنی عزت اور اپنی خود داری کا تحفظ کرنے کے قابل ہوسکے ۔
ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر