میں ایک وائرس ہوں، مطلب زہر ہوں، سم قاتل ہوں۔انسان کا دشمن ہوں۔ ہم وائرس بھی آدم زاد کی طرح قبیلوں اور خاندانوں میں بٹے ہیں۔دنیا میںہماری تعداداتنی ہے کہ اگر ہم کو قطار میں کھڑا کیا جائے تو نظام شمسی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک قطار پوری ہوگی ،شاید پھر بھی کچھ بچ جائیں۔ہم روز ازل سے کائنات میں موجود ہیں۔ ہم کو بھی خالق کائنات نے پیداکیا اور وہی کام دیا ہے جوہم انجام دے رہے ہیں ۔ہماری اربوں کھربوں اقسام ہیں ۔ہم میں سے اکثر طفیلی ہیں یعنی ہم زندگی آدم زاد، پرندو چرند، درند کے جسم کے اندر گزاتے ہیں ۔اپنا آپ زندہ رکھنے کے لئے ہم اپنے مہمان یعنی host کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ وہ بھی ہماری موجودگی کو محسوس نہیں کرتا، ہاں اگرکسی وجہ سے وہ کمزور ہو جائے توہم اس پر حملہ کرتے ہیں ۔
ہم کائنات میںہر جگہ رہتے ہیں، سمندر، دشت، ریگستان، ندی نالہ، دریا، جھیل یاتالاب، ہر جگہ رہتے ہیں اورہر وقت جانداروں کی تاک میں رہتے ہیں ۔ہم جانداروں پر حملہ کرنے کا کوئی بھی موقع جانے نہیں دیتے ہیں۔ ہم میںسے کچھ انسانوں میںمعمولی بیماریوں کاسبب بنتے ہیں جیسے زکام ، کھانسی، دست ،الٹی، بخار وغیرہ۔مگرکینسر جیسی مہلک اور خطرناک بیماریاں بھی اپنی مرضی سے وجود میں لاتے ہیںجیسے کہ لیمفوما بلڈ کینسر ،عورتوں میں بچہ دانی کے دھن کا کینسر وغیرہ۔
مزے کی بات یہ ہے کہ مجھ پر کوئی اینٹی بویاٹیک دواء اثر نہیںکرتی ہے۔ لاعلم طبیب حضرات مجھ پر بنا سوچے سمجھے مریض کیلئے دوائیاں تجویز کرتے ہیں اور مریض کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں ۔چونکہ ہم پوری کائنات میںپھیلے ہوئے ہیں، اس لئے ابھی تک انسانوں نے ہم میں سے صرف ایک ہزار قبیلوںکو دریافت کیا ہے، باقی ابھی اس کی نظروں سے دور ہیں۔ہم میں سے بہت سارے خاندان بہت مشہور و معروف ہوئے۔ اگر میں نام گنوانے لگوں توآپ کو بہت وقت صرف کرنا پڑے گا۔ میںجانتا ہوںکہ آپ بے صبر ہیں،آپ کے پاس وقت نہیں ہے، پھر بھی چند مشہور وائرسی خاندانوں کا نام لینا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔پوکسی وائرس،جس نے چیچک وجود میں لایا، ریبیڑو وائرس کتا کاٹتا ہے تو ریبیز نام کا وائرس آپ کے جسم کے اندر چلا جاتا ہے ۔پولیو وائرس تو یاد ہی ہوگا۔ ایچ آئی وی ایڈز وائرس کو تو آپ سب جانتے ہیں۔ ایڈینو، پیپو، رییو ،ایرینا ،اربو ،اکینو، ایکو پیپو، میکسو، ریٹرو ،کو کس ،سیکی، راینو ،چیکن گونیا ،ہرپیس۔ اب کتنے نام لوں ،بس آپ کو یہ سمجھانا تھاکہ ہم ستاروں کی طرح ان گنت ہیں ۔آپ کو پتہ ہے کہ سائنس دانوں نے 1967 میںپہلی بار لیبارٹری میں وائرس بنایا۔ آپ کو ان کے بار ے میں کہاں پتہ ہوگا۔ وہ میدان میں چوکے چھکے لگانے والا کھلاڑی تو نہیں، وہ فلموں میں کام کرنے والا کوئی ہیرو تو نہیں، وہ کوئی گول کرنے والا تو نہیں ، وہ کوئی ارب پتی کھرب پتی تونہیں، آپ کو ان ہیروز کا نام ہی پتہ نہیںجنہوں نے آپ کو ہم سے بچایا یا بچاتے ہیں یا بچاتے رہیں گے۔
خیرمیں کہاںسے کہاں پہنچ گیا۔ میں اپنے بارے میں یعنی کرونافیملی کے بار ے میںبتاناچاہتاہوں۔اس وقت پوری دنیا پر ہماری حکومت ہے ۔ پوری دنیا کی آدم زات چیونٹیوں کی طرح سوراخوں میں چھپ گئی ہے اور ہم برابراس کاپیچھا کر رہے ہیں ۔لائو نیوکلیئر اور ایٹم بم،لائو گولیاں ، بارود، آر ڈی ایکس!۔ وہ سب ہتھیار لائوجس سے تم انسان ایک دوسرے کو مارتے ہو، لائو سب کچھ مگر میرا مقابلہ نہیں کرسکوگے کیوں کہ میںکرونافیملی ہوں۔اس وقت وائرسوں کی سب سے بڑی سلطنت کروناکی ہے۔مجھے تم لوگ دیکھ نہیں سکوگے ۔میں صرف الیکرانک مائیکراسکوپ میں نظر آتا ہوں۔ میںاکیلا آر این اے وائرس ہوں۔گول مٹول اور میرے ہر طرف بھالوکے پیروں جیسے projections ہیں ۔میری کئی قسمیں ہیں، الفا، بیٹا ،گاما، ڈیلٹا اور اس کے بعدپھر سے منقسم ہوں ۔229E (HCoV-229E) ، OC43(HCoV-OC43)۔دونوں انسانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں جب کہ باقی اقسام حیوانوں میں پائی جاتی ہیں۔
میں کرونا وائرس چھینک، کھانسی، تھوک کے ذریعے ایک سے دوسرے میںچلا جاتا ہوں۔اور ناک کے رستے ونڈ پایپ یا ہوا کی نالی اور پھیپھڑوں میںچلا جاتا ہوں۔یہ میری بقا کے لئے میری من پسند جگہیں ہیں۔ اس لئے ایک دوسرے سے دور رہو۔اپنے اپنے گھروں میں رہو۔ باہر میںکسی بھی جگہ حملہ آورہو سکتا ہوں۔ میرے خلاف ابھی تک سائنس دانوں نے کوئی دواء نہیں بنائی ہے اور نہ کوئی حفاظتی ٹیکہ ہی بنا ہے، اس لئے مجھ سے بچنے کا واحد طریقہ ہے مجھ سے دور رہو۔ جب مجھے تمہارے جسم میں پناہ نہیں ملے گی، میں خود بخود بھوکا پیاسا مرجاؤں گا۔ ارے یہ کیا! میں اپنے خلاف بول رہا ہوں ۔کوئی بات نہیں!میں آپ انسانوں کے علاوہ چمگادڑوں،وہیل مچھلی ،سوروں ،پرندوں، بلیوں،کتوں اور چوہوں میں بھی موجود رہتا ہوں۔ آپ کیلئے میںنیا ہوں مگر مجھے 1960میںسیمپل کروناوایرس یا فلیو وائرس کے نام سے دریافت کیا گیا ۔پھر میں2002۔2003 میں چین میں نمودار ہوا مگر میری طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔پھر میں 2012 میں سعودی عرب میں نمودار ہوا مگر میری اہمیت اور میری بے پناہ طاقت کو نظرانداز کیا گیااور اب اس بار ہم نے پھر سے پوری دنیا کے آدم زادوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس وقت مجھ سے منسوب بیماری کا نامcovid 19رکھا گیا ہے۔
آپ لوگوں نے دیکھا ہوگاکہ ہم بلا لحاظ مذہب و ملت کسی پر بھی حملہ کرنے ہیں۔ہم تم لوگوں کی طرح دین دھرم اور مذہب و مسلک کے نام پر ایک دوسرے کا خون نہیں بہاتے ہیں۔ ہماراکوئی مذہب نہیں ۔ہمارا مقصد صرف انسان کو ختم کرنا ہے کیوں کہ وہ اب انسان نہیںجانور اور درندہ بن گیا ہے۔ اب اس کے کارناموں سے انسانیت شرماتی ہے۔ ہمیں ان کے حالات دیکھ کربہت غصہ آیا اور ہم نے خالق کائنات کے حکم سے دنیا کے انسانوں پر حملہ کیا ہے۔ تمہارے پاس ہم سے بچنے کا ایک ہی رستہ ہے، دنیا بنانے والے کے آگے جھک جائواوراس سے مدد مانگو، وہ حکم کرے تو ہم پلک جھپکتے ہی نیست و نابود ہوجائیں گے اور تم لوگ چین کی سانس لے کر پھر سے زندگی کو گلے لگائوگے۔
رابطہ : ہمدانیہ کالونی ،بمنہ سرینگر،موبائل نمبر:9419004094
ای میل : [email protected]