سرینگر //وادی میں رواں سال بھی بجلی کی صورتحال میں کسی بہتری کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ کئی سال قبل کروڑوں روپے کی لاگت سے شروع کئے گئے منصوبے ابھی بھی تشنہ تکمیل ہیں جبکہ کئی ایک پر کام سست رفتاری سے جاری ہے ۔معلوم رہے کہ وادی میں سرما کے دوران ضرورت کے مطابق بجلی کی کھپت 2000میگاواٹ سے 2200 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے لیکن محکمہ بجلی کے پاس صرف 1450میگاواٹ بجلی دستیاب رہتی ہے۔ محکمہ کے پاس وادی میں بنیادی ڈھانچے کی عدم موجودگی میں زیادہ بجلی شمالی گرڈ سے حاصل نہیں کی جاسکتی۔ محکمہ بجلی میں نچلی سطح سے کمشنر تک صرف میٹر لگانے پر قوت صرف کی جارہی ہے، لیکن سرما میں جو صورتحال پیدا ہوتی ہے اس جانب کوئی بھی توجہ نہیں دی جاتی ہے ۔
معلوم ہوا ہے کہ وادی میں محکمہ بجلی 1908میں وجود میں آیا اور اس کو ذمہ داری سونپی گئی کہ وادی کے لوگوں کو بجلی کی سہولیات دستیاب رکھے،لیکن محکمہ کی غلط منصوبہ بندی ہر بار عوام کیلئے مصیبت کا سبب بنتی ہے کیونکہ اربوں روپے کی لاگت سے منصوبوں میں خامیاں پائی جاتی ہیں یا پھر انکی تکمیل مکمل نہیں کی جاتی ہے۔ منصوبے کئی ڈیڈ لائنیں ختم ہونے کے بعد بھی مکمل نہیں ہو تے ۔2006میں زینہ کوٹ اور آلسٹینگ گرڈ سٹیشنوں کی تعمیر کو منظوری ملی تھی اور کام 2008میں شروع ہوا۔ اس دوران دعویٰ کیا گیا کہ اس کی تعمیر 2018میں مکمل ہو گی لیکن یہ منصوبہ گذشتہ سال نومبر میں مکمل کیا گیااور 12سال بعد گرڈ سٹیشن کی تعمیر مکمل ہوئی۔المیہ یہ ہے کہ جب گرڈ کو تجرباتی طور پر چالو کرنے کا مرحلہ شروع ہوا تو محکمہ کو یاد آیا کہ ایک اہم ٹرانسمیِشن لائن، جو گاندربل گرڈ کو زینہ کوٹ کے ساتھ ملاتی ہے، ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔ آلسٹینگ گرڈ سٹیشن کی ترسیلی صلاحیت کا پورا دارومدار اسی لائن پر ہے۔ محکمہ کے افسران کس قدر ذہین ہیں کہ جس پروجیکٹ پر 5سے8سال لگ سکتے تھے اس منصوبے کو بنانے میں قریب 12برس لگ گئے اور ابھی بھی اس کا اندرونی کام چل رہا ہے ۔فی الوقت مختلف سکیموں کے تحت بھی بجلی کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کیلئے حکام نے کئی منصوبوں پر کام شروع کیا ہے، لیکن یہ منصوبے یا ڈی پی آر کی منظوری میںپھنسے ہوئے ہیں یا پھر ان کا کام سست رفتاری سے ہو رہا ہے ۔
دین دیال سکیم کے تحت ٹیٹوال کرناہ میں10میگاواٹ ریسیونگ سٹیشن تعمیر کرنے کا منصوبہ کاغذات میں پھنسا ہوا ہے ۔اسی طرح 6.3میگاواٹ ناگم کولگام ،6.3میگاواٹ مست پورہ کیلر ، 6.3 میگاواٹ بٹہ گنڈ ترال، 10میگا واٹ گلشن آباد راجپورہ پلوامہ، کنزر کے ریسونگ سٹیشنوں کی تعمیر یا ان کی صلاحیت بڑھانی تھی،لیکن اس میں بھی برسوں لگ سکتے ہیں ۔بانڈی پورہ کے مارکنڈل میں پرائم منسٹر سکیم کے تحت ریسوینگ سٹیشن کی صلاحیت کو بھی بڑھانا تھا لیکن کام سست رفتاری کا شکار ہے ۔ کھرمن گاندربل میں ریسویشن سٹیشن کی صلاحیت کو بڑھانے کے حوالے سے پی ایم ڈی سکیم کے تحت منظوری ملی ہے ۔اس سال محکمہ نے کسی بھی منصوبے کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا ہے اور اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ رواں سال بھی بجلی کی صورتحال ابتر ہونے کا اندیشہ ہے ۔محکمہ بجلی کے چیف انجینئر اعجاز احمد ڈار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بجلی کی سپلائی اور ترسلی نظام کو بہتر بنانے کی خاطر وادی میں بہت سی سکیموں پر کام چل رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کچھ ایک علاقوں میں میٹر بھی نصب کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کی کوشش ہے کہ تمام منصوبوں پر کام وقت پر مکمل کیا جا ئے ۔