جاوید اقبال
مینڈھر// مینڈھر بازار میں نکاسی آب کے دیرینہ مسئلے کے مستقل حل کے لئے حکومت کی جانب سے باقاعدہ اور پختہ نالیوں کی تعمیر کا کام زور و شور سے جاری ہے۔ اس اہم منصوبے پر مقامی لوگوں نے مجموعی طور پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ محکمہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے بارش کے موسم میں بازار میں پانی جمع ہونے، کیچڑ اور گندگی جیسے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی، جس سے نہ صرف عام شہریوں بلکہ دکانداروں کو بھی سہولت میسر آئے گی اور کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آئے گی۔مقامی شہریوں کے مطابق منصوبے میں استعمال ہونے والا تعمیراتی سامان بظاہر معیاری ہے اور کام بھی مناسب طریقے سے انجام دیا جا رہا ہے، تاہم بیوپار منڈل مینڈھر کے صدر نے نالیوں کی تعمیر کے معیار اور پائیداری کے حوالے سے چند سنجیدہ خدشات کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تعمیر کے بعد نہ تو محکمہ کا کوئی ذمہ دار افسر موقع پر آ کر باقاعدہ معائنہ کرتا ہے اور نہ ہی سیمنٹ کے کام کے بعد پانی چھڑکنے یعنی کیورنگ کا عمل اپنایا جا رہا ہے، جو کہ بنیادی تعمیراتی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ محکمہ کے افسران کو بارہا مطلع کرنے کے باوجود بھی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آ رہی اور نہ ہی کوئی اہلکار موقع پر نگرانی کے لئے آتا ہے۔ ان کے مطابق اس لاپروائی کی وجہ سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، جس کی فوری اور شفاف انکوائری ہونی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس سلسلے میں بروقت کارروائی نہ کی گئی تو بیوپار منڈل احتجاج پر مجبور ہوگا اور تعمیراتی کام رکوانے کی ذمہ داری متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ افسران پر عائد ہوگی۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر تعمیر کے فوراً بعد سیمنٹ پر مناسب مقدار میں پانی نہ چھڑکا جائے تو سیمنٹ اپنی اصل مضبوطی حاصل نہیں کر پاتا، جس کے نتیجے میں چند ہی عرصے میں دراڑیں پڑنے یا پلستر کے اْکھڑنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس صورتحال میں اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر بروقت نگرانی اور کیورنگ کے عمل کو یقینی نہ بنایا گیا تو یہ نالیاں طویل مدت تک پائیدار ثابت نہیں ہوں گی اور چند برسوں میں دوبارہ وہی مسائل سر اٹھا سکتے ہیں۔دکانداروں اور سماجی کارکنوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت عوامی سہولت کے لئے خطیر رقم خرچ کر رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ کام کا معیار بھی اعلیٰ ہو اور منصوبہ اپنی مدتِ کار تک مؤثر رہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ محکمہ تعمیرات اور متعلقہ انجینئرز روزانہ کی بنیاد پر کام کا معائنہ کریں اور تعمیر مکمل ہونے کے بعد باقاعدہ کیورنگ کو یقینی بنایا جائے۔