جاوید اقبال
مینڈھر//مینڈھر بس اڈہ میں ہفتہ کے روز مبینہ طور پر غیر قانونی کاروبار اور بعض ایجنٹوں کی غنڈہ گردی کے باعث دو گروپوں کے درمیان شدید تصادم پیش آیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد بس اڈہ میں افرا تفری اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا، تاہم پولیس کی بروقت مداخلت سے حالات کو قابو میں کر لیا گیا اور کسی بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہو سکا۔مقامی ذرائع کے مطابق بس اڈہ مینڈھر کی اراضی محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج کے زیر انتظام ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں کئی افراد مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر کاروبار چلا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض ایجنٹ بغیر کسی قانونی اجازت، لائسنس یا مقررہ فیس ادا کئے سرکاری زمین پر ایجنٹ شپ اور دیگر تجارتی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے آئے دن تنازعات جنم لے رہے ہیں۔ہفتہ کے روز بھی انہی غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے دو گروپوں کے درمیان پہلے تلخ کلامی ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی اور شدید تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ جھگڑے کے دوران کئی افراد کو چوٹیں آئیں، جن میں بعض کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور صورتحال کو قابو میں لیتے ہوئے دونوں فریقین کو الگ کیا۔پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر معاملہ کو آپسی افہام و تفہیم کے ذریعے سلجھا لیا گیا ہے اور اس وقت حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں تاہم پولیس کی جانب سے واقعے کی وجوہات، غیر قانونی کاروبار اور مبینہ غنڈہ گردی کے تمام پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔ادھر مقامی عوام نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بس اڈہ میں غیر قانونی طور پر سرگرم ایجنٹوں اور عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری زمین پر بغیر اجازت کاروبار نہ صرف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے امن و امان کی صورتحال بھی متاثر ہو رہی ہے۔