جاوید اقبال
مینڈھر// مینڈھر بس اڈہ، جو قصبہ اور اس کے ملحقہ علاقوں کے لئے آمد و رفت کا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے، ہر سال سرکاری طور پر بولی کے ذریعے نیلام کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس نیلامی سے ستر سے اسی لاکھ روپے تک کی خطیر رقم سالانہ جمع ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود بس اڈہ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، جس کے باعث روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی آمدنی حاصل ہونے کے باوجود بس اڈے پر آج تک ایک باقاعدہ مسافر خانہ تعمیر نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں مسافروں کو شدید گرمی، سردی اور بارش کے دوران کھلے آسمان تلے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر خواتین، بزرگ اور بچے اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے لیے نہ بیٹھنے کا مناسب انتظام ہے اور نہ ہی تحفظ کا احساس۔شہریوں کے مطابق متعلقہ حکام کی جانب سے بس اڈے پر صرف صفائی کو ہی اولین ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ دیگر اہم سہولیات جیسے پینے کے صاف پانی، بیت الخلاء ، مناسب روشنی اور بیٹھنے کے انتظامات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صفائی یقیناً ضروری ہے، مگر بس اڈے کی آمدنی صرف اسی ایک کام پر خرچ کرنا عوامی مفاد کے منافی ہے۔ٹرانسپورٹ یونین کے نمائندوں نے بھی انتظامیہ کی اس غفلت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مینڈھر ایک مصروف تجارتی اور سفری مرکز ہے، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں لوگ مختلف علاقوں سے آتے جاتے ہیں۔ ایسے میں بس اڈہ اس قصبے کی شناخت بن چکا ہے، لیکن افسوس کہ مسافروں کے لئے بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی کو ظاہر کرتی ہے۔مقامی لوگوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بس اڈے سے حاصل ہونے والی آمدنی کے استعمال میں شفافیت کا فقدان ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سالانہ آمدنی کا مکمل حساب عوام کے سامنے رکھا جائے اور اس رقم کو سب سے پہلے مسافروں کی سہولت پر خرچ کیا جائے، تاکہ ایک معیاری مسافر خانہ، صاف پانی اور بیت الخلاء جیسی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔عوامی حلقوں نے ضلع انتظامیہ اور متعلقہ محکموں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر اس سنگین مسئلے کا سنجیدہ نوٹس لیں، بس اڈے کی آمدنی اور اخراجات کی جانچ کرائیں اور مینڈھر بس اڈے پر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں، تاکہ مسافروں کو درپیش مشکلات کا مستقل حل نکل سکے۔