یواین آئی
نئی دہلی/پیٹ کمنز نے واضح طور پر کہا ہے کہ کم از کم اگلے چند برسوں تک آسٹریلیائی کرکٹ ہی ان کی پہلی ترجیح رہے گی۔ یہ بیان اس بحث کے درمیان سامنے آیا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ آسٹریلیا کے کچھ بڑے کھلاڑی آئی پی ایل سے آگے بڑھ کر دیگر فرینچائز کرکٹ کھیلنے کے لیے قومی ٹیم سے دوری اختیار کر سکتے ہیں۔آسٹریلیا کے ٹیسٹ اور ون ڈے کپتان کمنز پہلے ہی پاکستان اور بنگلہ دیش کے آئندہ دوروں سے باہر رہنے والے ہیں، کیونکہ انہیں آئی پی ایل پلے آف میں حصہ لینا ہے۔ انہیں اگست 2026 سے اگست 2027 کے درمیان ہونے والے 20 (ممکنہ طور پر 21) ٹیسٹ میچوں سے پہلے آرام کی بھی ضرورت ہے۔ اس شیڈول میں ہندوستان میں ہونے والی بارڈر-گواسکر ٹرافی اور انگلینڈ میں ہونے والی ایشیز سیریز بھی شامل ہے۔
آسٹریلیا کے بڑے کھلاڑیوں کی انٹرنیشنل کرکٹ اور بی بی ایل (بگ بیش لیگ) دونوں کے تئیں وابستگی حال ہی میں بحث کا موضوع رہی ہے۔ پانچ سینئر کھلاڑی اس ماہ کے آغاز میں کرکٹ آسٹریلیا کے ابتدائی کنٹریکٹ کی تجاویز سے خوش نہیں تھے۔ کمنز بھی مارچ میں اس وقت سرخیوں میں آئے تھے جب انہوں نے بزنس آف اسپورٹس پوڈ کاسٹ پر کھلاڑیوں کے درمیان ایک “تناؤ کے نقطے” کا ذکر کیا تھا۔ یہ تناؤ اگست میں بنگلہ دیش کے خلاف دو ٹیسٹ کھیلنے اور اسی دوران دی ہنڈریڈ ٹورنامنٹ میں کھیل کر تقریباً 6.75 لاکھ آسٹریلین ڈالر (4.85 لاکھ امریکی ڈالر) کمانے کا موقع چھوڑنے کے حوالے سے تھا۔لیکن منگل کے روز دہلی این سی آر میں ‘نیو بیلنس گرے ڈیز 2026’ کی تقریب اور دی نیو ریٹیل کانسیپٹ اسٹور کے افتتاح کے دوران کمنز نے مستقبلِ قریب کے لیے آسٹریلیا کرکٹ کے تئیں اپنی وابستگی کا اعادہ کیا۔