رنگون //میانمار میں بغاوت کے خلاف احتجاج پر سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 8 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ فوج نے آنگ سان سوچی پر رشوت لینے کا الزام بھی عائد کردیا۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مظاہرین کے خلاف جنگی حکمت عملی کے استعمال کا الزام عائد کیا۔لاشوں کو ہسپتال منتقل کرنے والے مظاہرے میں شریک ایک شخص نے فون پر بتایا کہ وسطی علاقے میائنگ میں مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک ہوئے۔ہسپتال میں موجود صحت ورکر نے 6 افراد کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی۔اس کے علاوہ ایک اور ہلاکت مندالے میں رپورٹ ہوئی۔جمعرات کو ہونے والی ہلاکتوں سے قبل سیاسی قیدیوں کی وکالت کرنے والی تنظیم کا کہنا تھا کہ آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کے خلاف یکم فروری کو ہونے والی بغاوت کے بعد سے 60 سے زائد مظاہرین ہلاک اور 2 ہزار کے قریب حراست میں لیے جاچکے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فوج پر مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کا الزام لگایا اور کہا کہ کئی ہلاکتیں ماورائے عدالت قتل میں شامل ہیں۔گروپ کے ڈائریکٹر جوانے میرینر نے کہا کہ 'یہ مغلوب، انفرادی افسران کے ناقص فیصلے کا عمل نہیں، یہ توبہ نہ کرنے والے کمانڈر ہیں جو پہلے ہی انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں جو اپنی فوج اور قاتلانہ طریقوں کو کھلے عام استعمال کرتے ہیں۔