فیاض بخاری
بارہمولہ // تین دہائیاں عرصہ گزرنے کے بعد کشمیر کے پہلے تاریخی ہائیڈل پاور پروجیکٹ ” مہورہ پاور پروجیکٹ” کو دوبارہ بحال کرنے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ کیونکہ مذکورہ منصوبے کا ڈی پی آر تیار ہے۔ ضلع بارہمولہ کے سرحدی قصبہ اوڑی علاقے میں واقع یہ تاریخی منصوبہ اب ایک ورثہ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے طور پر نئی شناخت حاصل کرے گا، جو نہ صرف بجلی پیداوار بلکہ کشمیر کی انجینئرنگ اور صنعتی تاریخ کی یادگار بھی تصور کیا جاتا ہے۔دریائے جہلم کے کنارے بونیار علاقے میں قائم مہورہ پاور پروجیکٹ کو 1905 میں ڈوگرہ دور حکومت کے دوران 1903 کے تباہ کن سیلاب کے بعد کمیشن کیا گیا تھا۔ ا س وقت برصغیر کے کئی علاقوں میں بجلی ایک نایاب سہولت تھی، تاہم مہورہ پروجیکٹ کشمیر کا پہلا بڑا ہائیڈرو الیکٹرک منصوبہ بنا جس نے وادی میں گھروں اور صنعتوں کو روشن کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اس منصوبے کی خاص بات اس کا منفرد انجینئرنگ ڈیزائن تھا۔ مہورہ پروجیکٹ میں تقریباً 11 کلومیٹر طویل لکڑی کا فلوم استعمال کیا گیا تھا، جو رامپور سے پانی موہرا تک پہنچاتا تھا تاکہ چیکوسلواکیہ سے درآمد شدہ ٹربائنز چلائی جاسکیں۔
ا س دور میں یہ انجینئرنگ کا ایک حیرت انگیز نمونہ سمجھا جاتا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ یہ منصوبہ کئی سیلابوں اور قدرتی آفات کا سامنا کرتا رہا، تاہم 1992 کے تباہ کن سیلاب نے پاور ہاو س کو شدید نقصان پہنچایا جس کے بعد یہ خاموشی اور کھنڈرات کی شکل اختیار کرگیا۔اس پاور ہاوس کیلئے بنائی گئی پانی کی نہر جو کہ گیارہ کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے مہورہ تک بچھائی گئی تھی کھیت کھلیانوں ،پہاڑوں اور ندی نالوں کو پار کرتی کئی ایک زیر زمین سرنگوں سے گزر تی تھی۔خاص بات یہ ہے کہ اس پوری نہر کو دیودار کی لکڑی سے بنائی گئی تھی جبکہ کئی جگہوں پر سرنگوں کی تعمیر کیلئے سْرخی اور ریت کا استعمال کیا گیا تھا۔اس نہر کی مضبو ظ لکڑی کواتنی چاک بستی سے باندھاگیا تھا کہ اس میں سے بمشکل پانی کا قطرہ لیک ہو تاتھا اور یہ نہر آج بھی کاری گری کی ایک انمول مثال بنی ہوئی ہے۔بتایا جا تا ہے کہ 1997 میں پاور ہاوس کی نہر کئی جگہوں پر ڈھس گئی اور پاور ہاوس مکمل طور بیٹھ گیا۔
اس طرح سے حکومت کی عدم تووجہی کی وجہ سے یہ قدیم پاور ہاوس ہمیشہ کیلئے ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ اس کے باوجود مورہ پاور ہاوس آج بھی کشمیر کی ابتدائی جدیدیت اور پائیدار ہائیڈرو پاور انجینئرنگ کی علامت مانا جاتا ہے۔ رکن اسمبلی اوڑی ڈاکٹر سجاد شفیع نے بتایا کہ منصوبے کی بحالی کے لیے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (DPR) تیار کیاجارہا ہے اور اسے 12 میگاواٹ صلاحیت کے ساتھ دوبارہ فعال بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکموں کے ساتھ کئی میٹنگیں ہوچکی ہیں اور امید ہے کہ آئندہ دو ماہ میں بحالی کا عملی کام شروع کردیا جائے گا۔ماہرین کے مطابق مہورہ پروجیکٹ کی بحالی سے اوڑی میں ہیریٹیج ٹورازم کو بھی فروغ ملے گا، جہاں تاریخ، فن تعمیر اور انجینئرنگ میں دلچسپی رکھنے والے سیاح بڑی تعداد میں آسکتے ہیں۔ بتادیں کہ اگر چہ اس قدیم اثاثے والے پاور ہاوس کو دوبارہ تعمیری کیلئے 60کروڑ روپے کا سرسری تخمینہ لگایا گیا تاہم ابھی تک سرکار اس پاور ہاوس کو دوربارہ چالو کرنے میں ناکام ثابت ہوئی تھی۔ذرائع کے مطابق اگر چہ 2014 میں سرکار نے ایک اور کمیٹی اس پروجیکٹ کی ازسر نو تعمیر و تجدید کے لئے بنائی جس نے 65کروڑ روپے کا سرسری تخمینہ دیکر سرکار کو پیش کیا تاہم سارے تخمینے اور منصوبے کاغذوں تک ہی محدو رہا تھا۔ تاہم اس مرتبہ لوگوں کی یہ دیرینہ مانگ پوری ہونے کو نظر آرہی ہے۔