عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//سرکاری شعبے کی گیس کمپنی GAIL(India) Ltd مہاراشٹر میں ونڈ پاور منصوبہ قائم کرنے کیلئے 1,736.25کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گی، جس سے اس کے قابلِ تجدید توانائی کے پورٹ فولیو میں توسیع ہوگی۔ کمپنی نے 2035 تک نیٹ زیرو کاربن اخراج کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ریگولیٹری فائلنگ میں گیل نے کہا کہ اس کے بورڈ نے جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں 178.2 میگاواٹ ونڈ پاور صلاحیت قائم کرنے کی سرمایہ کاری کی منظوری دے دی ہے۔یہ منصوبہ کنٹریکٹ ایوارڈ ہونے کے بعد 24 ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گا اور اس سے کمپنی کی موجودہ 117.95 میگاواٹ کی ونڈ پاور صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ کمپنی کے پاس راجستھان، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں پھیلے ہوئے 27میگاواٹ کے سولر توانائی منصوبے بھی موجود ہیں۔گیل کے ونڈ پاور منصوبے گجرات (19.2 میگاواٹ)، کرناٹک (38.1 میگاواٹ)اور تمل ناڈو (60.65 میگاواٹ) میں قائم ہیں۔
ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا یہ منصوبہ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت میں اضافے اور 2035 تک نیٹ زیرو کاربن اخراج کے ہدف کے حصول کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق:گیل نے 2035 تک اسکوپ-1 اور اسکوپ-2 کاربن اخراج میں کمی کے ذریعے نیٹ زیرو حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ اسکوپ-3 اخراج کو 2040 تک نیٹ زیرو کرنے کا منصوبہ ہے۔ گیل 2035 تک اپنی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت 3.4 گیگاواٹ تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ نیٹ زیرو اہداف حاصل کیے جا سکیں۔کمپنی گرین ہائیڈروجن اور کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) منصوبوں سمیت صاف توانائی کی دیگر اقسام میں بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ بھارت کے قومی توانائی اہداف سے ہم آہنگ رہا جا سکے۔GAIL (India) Ltd بھارت کی سب سے بڑی قدرتی گیس ٹرانسمیشن اور مارکیٹنگ کمپنی ہے۔ یہ ملک بھر میں تقریبا 18,000 کلومیٹر طویل قدرتی گیس پائپ لائن نیٹ ورک کی مالک اور آپریٹر ہے۔ملک میں گیس کی سب سے بڑی مارکیٹر ہونے کے ساتھ ساتھ کمپنی ایل پی جی پورٹ فولیو کی بھی مالک ہے اور اس کے دو پیٹروکیمیکل پلانٹس پتا، اتر پردیش اور ایک آسام میں واقع ہیں۔