بسوہلی//اگرچہ ضلع کٹھوعہ کی تحصیل بسوہلی کے گاؤں جندروٹہ میں ایک پرانامڈل سکول اورتین نئے مڈل سکول قائم کیے گئے ہیں لیکن پرانے مڈل سکول کادرجہ 42سال کاعرصہ گذرنے کے باوجودہائی سکول کے طورپر نہ بڑھنے سے مقامی طلباء کوسخت دشواریوں کاسامناکرناپڑرہاہے۔تفصیلات کے مطابق جندروٹہ گائوںکے پرائمری اسکول کو1977 میں مڈل سکول کادرجہ ملاتھالیکن عرصہ 42 سال گذرنے کے باوجود سکول ہذاکادرجہ نہیں بڑھایاگیاہے جس کی وجہ سے لوگوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔اس سلسلے میں لوگوں کاکہناہے کہ کسی بھی حکومت نے چالیس برسوں میں مڈل سکول جندروٹہ کادرجہ نہیں بڑھایا۔اگرچہ ریاستی حکومت نے ایک سال قبلبہت سے سرکاری سکولوں کادرجہ بڑھانے کے احکامات جاری کیے تھے لیکن تحصیل بسوہلی کے گاؤں جندروٹہ کے مڈل سکول کو حکومت کی جانب سے جاری کی گئی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا تھاجس کی وجہ سے جندروٹہ کے لوگوں میں سابقہ حکومتوں کیخلاف زبردست غم و غصہ پایاجارہاہے۔۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ ارباب اقتدار اور محکمہ تعلیم نے لگ بھگ تین ہزار سے زائد آبادی پرمشتمل گاؤں جندروٹہ کے مڈل سکول کو ہائی اسکول کا درجہ نہ دیاجس کی وجہ سے ہزاروں نفوس پرمشتمل آبادی اورکثیرتعدادمیں مقامی طلباء کونظراندازکرتے ہوئے انہیں گائوں میں ہی ہائی سکول کی تعلیم ملنے کی امیدوں پرپانی پھیردیا۔بتایاجاتاہے کہ گاؤں جندروٹہ کے لوگوں نے ارباب اقتدار اور محکمہ تعلیم کی جانب سے اسی گائوں میں تین دیگرمڈل سکول بھی تعمیرکیے ہیں لیکن درحقیقت گائوں میں ایک ہائی اسکول کی سخت ضرورت تھی جسے ارباب اقتدارنے نظراندازکردیاجسکی وجہ سے بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔انہوں نے کہا کہ گاؤں جندروٹہ سے بسوہلی 18 کلو میٹر دور ہے اور شیتل نگر بھونڈ 25 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر مڈل سکول کے بعد بچے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں ۔لوگوں نے بتایا کہ لگ بھگ 42 سال کی طویل عرصے کے بعد بھی ہائر سیکنڈری کا درجہ نہ ملنے کی وجہ سے لوگوں کے جذبات کوٹھیس پہنچی ہے۔انہوں نے کہا کہ جندروٹہ گاؤں کے درجنوں بچوں کو روزانہ 25 اور 18 کلومیٹر دور ہائی اور ہائر سیکنڈری سکول شیتل نگروٹہ بھونڈ اور بسوہلی کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔انھوں نے بتایا کہ موجودہ تعلیمی سیشن میں جندروٹہ میں 400 سے زائد بچے ان مڈل سکولوں میں زیر تعلیم ہیں جن میں 80 سے زائد طالبات شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میلوں کی دوری پر ہائی سکول جانا بچیوں کے کیلئے مشکل ہوتاہے جسکی وجہ سے گاؤں کی سینکڑوں بچیاں اب تک مڈل کلاس پاس کر کے تعلیم کے سلسلے کوترک کرچکی ہیں۔ اس کی وجہ گاؤں میں ہائی سکول اور ہائر سیکنڈری سکول کانہ ہوناہے اورگائوں کی بچیوں کا آٹھویں کے بعد کی تعلیم حاصل کرنا ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے ۔لوگوں نے کہاکہ یہاں سے روزانہ کئی درجن طلبہ اور طالبات کو دشوارگزار سفر طے کر کے شیتل نگر، سحاندر، یا پھر بسوہلی جانا پڑتا ہے ان پچوں کو ٹیپر، ٹریکٹر جیسی گاڑیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔درجنوں طلبہ اور طالبات کو روزانہ پیدل اور گاڑیوں میں سوار ہوکر یہاں سے سخت مشکلات اور دشوار گذار سفر کے ہائی اسکولوں میں پہنچنا پڑتا ہے ۔لوگوں نیکہا کہ اب تک جتنی بھی سرکارآئی ہیں لیکن کسی نے بھی گائوں کے بچے بچیوں کودرپیش اس پریشانی کاازالہ کرنے کی سعی نہیں کی۔جندروٹہ کے لوگوں نے ریاستی گورنر سے مطالبہ کیا ہے کہ گاؤں کے اس مسئلے کو جلد سے جلد حل کیاجائے اورجندروٹہ میں ایک ہائی سکول قائم کیا جائے ۔