کشتواڑ//مچیل یاترا کیلئے جموں و دیگر مقامات سے آئے لوگوں نے پاڈر کے گلاب گڑھ میں احتجاج کیا جب انھیں مچیل جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے لوگوں نے کہا کہ وہ جموں و دیگر اضلاع سے مچیل یاترا کرنے کیلئے آئے ہوئے تھے جبکہ انھیں کہیں بھی نہیں روکا گیا اور اب پاڈر میں انھیں آگے جانے کی اجازت ہی نہیں دی جارہی ہے۔ان کا کہناتھا کہ اگر انھیں ٹھاٹھری یا سے قبل ہی بتادیا ہوتا تو وہ یہاں تک نہیں آتے اور پہلے ہی واپس چلے جاتے۔ کٹھوعہ سے آئی خاتون نے روتے ہوئے کہا کہ وہ ماتا کے درشن کرنے کی غرض سے آئے ہوئے تھے اور بڑی مشکل سے کرایہ جمع کیا تھا لیکن انھیں درشن کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ،اگر ضلع ترقیاتی کمشنر درشن کرسکتے ہیں تو انھیں کیوں اجازت نہیں دی جارہی ہے، انھیں امسال درشن کی اجازت دی جائے تو اگلے سال وہ سوچ سمجھ کر ہی رخ کرینگے۔ ایس ایچ اونے بتایا کہ جب ضلع ترقیاتی کمشنر آئیں گے تو اسکے بعد ہی بتایا جائے گالیکن انکے آنے کے بعد ایس ایچ او نے انھیں واپس جانے کو کہا، نہیں تو ان پر لاٹھی چارج کیا جائے گا اور گاڑیوں کو ضبط کیا جائے گا ۔ یاتریوں نے بتایاکہ جہاں چند روزقبل علاقہ میں ویب سیریز کی شوٹنگ کیلئے اجازت دی گئی تو جہان ایس اوپی کی کھلے عام خلاف ورزی کی گئی وہیں انھیں اب یاترا کرنے کیلئے اجازت نہیں دی جارہی ۔انھوں نے کہا کہ اگر انھیں مچیل نہیں جانے دیا گیا تو وہ احتجاج پر بیٹھ جائیں گے۔واضح رہے کہ انتظامیہ نے پہلے ہی امسال مچیل یاترا کو معطل کرنے کا فیصلہ لیا تھا جبکہ صرف چھڑی مبارک کو ہی لانے کی اجازت ہوئی جسکے بعد اگرچہ اسکے دروازے 25جولائی کو کھولے گئے تھے لیکن صرف مقامی لوگوں کو ہی یہاں پوجا کی اجازت دی گئی۔