بشیر احمد ڈار
آپ کی مشہور تصانیف میںمثنوی، فیہ مافیہ اور دیوانِ شمس تبریز ہیں ۔انہوں نے معاشرتی اصلاح کے لئے بھی بہت سے اخلاقی نسخے تحریر کئے۔ان کی تصانیف میں سب سے زیادہ شہرت مثنوی کو حاصل ہوئی جو مثنوی مولانا روم کے نام سے مشہور ہے اور یہی کتاب آپ کی وجہ شہرت بنی ۔ فیہ ما فیہ یا مقالات رومی مولاناؒ کی فارسی نثر میں لکھی ہوئی کتاب ہے جو 72 مقالات پرمشتمل ہے ۔ اس کتاب کاانگریزی ترجمہ آرتھر جان اربری نے 1961ء میں کیا ۔ دیوانِ شمس تبریز جسے دیوانِ کبیر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، مولانا رومی کا شعری دیوان ہے جسے مولانا نے اپنے شیخِ کامل شمس تبریزؒ کی عقیدت میں ان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے مرتب کیا ۔مثنوی آپ کی وہ کتاب ہے جسے قبولِ عام حاصل ہوا یہ 6بسیط دفاتر پر مشتمل اور تقریبا 26ہزار اشعار پر محیط ہے۔ مثنوی کا موضوع خدا کے وجود ، کائنات، آخرت، حکمت، فلسفہ، اخلاقیات، فقہ اور شریعت پر مبنی ہے۔
مولانارومی نے مثنوی میں و ہ اسرارو رموز اور حقائق بیان کیے ہیں کہ ہر زمانے کے علماء نے اس سے استفادہ کیا ہے ۔ آپ نے حکایات و واقعات کے آسان پیرائے میں معارف کا وہ مفہوم بیان کیا ہے جو آسانی سے دل میں اتر جاتا ہے ۔ علما ، صوفیا، تاریخِ اسلامی سے دلچسپی رکھنے والے محققین اور ادیب اس کتاب کی تعریف میں رطب اللسان ہیں دیوان میں استعمال کردہ فارسی زبان کا جدید لہجہ ہے اور اسے فارسی ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔دیوان میں نظمیں مختلف پیرایوں میں موجود ہیں، جس میں اسلام کےمشرقی ممالک میں رائج اسلامی شاعری شامل ہے اور عموماً اسے تصوف کی شاعری کہا جاتا ہے۔ دیوان میں شعری سطور کی تعداد 44282 ہے ۔44 درجی بندہیں جن کی کل شعری سطریں 1698 ہے ۔رباعیات کی تعداد 1983ہے۔مولانا رومی ؒنے مثنوی میں احساسات اور خیالات کو لطیف اور سادہ انداز میں بیان کیا ہے تودیوان کبیر کا ہر شعر گہرائی اور روحانی تلاطم لیے ہوئے ہے۔دیوان کبیر مولانا رومیؒ کے روحانی اور وجدانی خیالات و تصورات ’’فنا فی اللہ‘‘ اور روحانی استغراق کے اسرار سمجھنے کی کنجی ہے۔ مولانا رومؒ کے ہاں رقص، وجد اور سماع کی مخصوص تشریح ہے ۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامے میں لکھا ہے مولانا رومیؒ کے پیروکار خود کو ’’جلالیہ‘‘کہتے ہیں۔مولانا کا لقب جلال الدین تھا،اسی نسبت سے یہ سلسلہ جلالیہ مشہور ہوا۔ ابن بطوطہ کے مطابق شام، مصر، قسطنطنیہ(ترکی) افریقہ اور ایشیاء میں مولانا رومؒ کے پیروکار بڑی تعداد میں ہیں۔ یہ لوگ خود کو ’’مولویہ ‘‘بھی کہلاتے ہیں۔یہ لوگ ’نمدے‘کی ٹوپی پہنتے ہیں۔جس میں کوئی جوڑ یا درز نہیں ہوتی،مشائخ اس ٹوپی کا عمامہ بھی باندھتے ہیں ۔اس سلسلے کے پیروکار ایک چنٹ دار پاجامہ پہنتے ہیں۔حلقہ باندھ کر ذکر کرتے ہیں۔ عظیم ترک دانشور گولن مولانا رومیؒ کے کلام کے متعلق فرماتے ہیں کہ اسمیں تغزل بھی ہے ، موسیقیت بھی، غنائیت بھی ہے ۔ سادگی اور سوزو گداز بھی ہے ، عشق کی وارفتگی بھی، داخلیت بھی ہے اور خارجیت بھی، وحدت کا اظہاربھی ہے اور عشقِ نبویؐ کا پرچار بھی ۔حیات و کائنات کے مسائل کا بیان بھی، واقعات نگاری ہو یا قصہ گوئی ، وعظ و نصیحت ہو یا درسِ اخوت و مساوات ، ہر فن موجود ہے ۔اْنھوں نے تصوف کی لگی بندھی راہوں پر چلنے کی بجائے نئے خیالات کو رواج دیا۔زبان کی شستگی اور بیان کی سادگی نے انھیں اپنے دور کے شعرا میں بھی ممتاز رکھااور بعد میں آنے والے شعرا کو بھی متاثر کیا۔
علامہ اقبال نے مولانارومؒ اوران کی مثنوی کی جس قدر تعریف کی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ علامہ اقبالؒ نے مولانا روم کواپنا پیر تسلیم کیا ہے اور ان کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا ہے ۔ مولانا رومیؒ کا وصال 5جُمادی الاخریٰ 672ھ بمطابق 17دسمبر 1273ء کو ہوا۔ آپ کا مزار تُرکی کے شہر قُونیہ میں ہے۔مولانا رومیؒ کی عظمت آٹھ صدیاں بیت جانے پر بھی افزوں ہورہی ہے ۔ ان کے 800 ویں جشن پیدائش پر ترکی کی درخواست پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، ثقافت و سائنس یونیسکو نے 2007ء کو بین الاقوامی سالِ رومی قرار دیا۔ اس موقع پر یونیسکو نے اس عظیم صوفی مصنف کے نام سے ایک یادگاری تمغہ بھی جاری کیا۔
جلال الدین رومی کے بہت سے خیالات و تصورات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ عظیم صوفی انسان تھے ،جنہوں نے تصوف کی دنیا کو تخلیقی خیالات و تصورات سے نوازا۔ جب تک اس دنیا میں تصوف اور صوفی ازم کا پرچار کیا جاتا رہے گا،رومی کا نام ہمیشہ زندہ و سلامت رہے گا۔ رومی خوشی اور محبت کے شاعر ہیں۔ ان کا کلام شمس کی جدائی اور محبت اور خالق اور موت کی یاد کے نتیجے میں سامنے آتا ہے۔ رومی کا پیغام تمام طرح کی سرحدوں کو عبور کرتا ہے۔
ہم علم و شعورکے دورکے لوگ ہیں۔ ہمارے دورکا انسان سائنس اورسماجی علوم کی معراج پر تو نہیں، لیکن اس میدان میں حیرت انگیز ترقی ضرورکر چکا ہے۔ وہ اب ستاروں پر کمند ڈال رہا ہے۔ نئے سیارے ڈھونڈ رہا ہے اور نئی دنیا کی تلاش میں خلاء نوردی کر رہا ہے۔ مگر بد قسمتی سے ایک طرف جہاں ہمارے ارد گرد تیزی سے علم و شعوربڑھ رہا ہے، وہیں دوسری طرف جہالت تعصب، تنگ نظری، قوم پرستی، نسل پرستی اورفرقہ واریت بھی اسی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ رومیؒ نے جو کہا، جو لکھا آج تک دنیا بھر میں ان کے نظریات کو اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں میں پڑھایا جا رہا ہے۔امریکہ میں ان کا شمار تاریخ کے مقبول ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔یورپ اور امریکا میں لاکھوں ایسے انسان ہیں جو رومی کے عشق میں مبتلا ہیں اور انہیں روحانی دنیا کا دلکش اور خوبصورت پھول سمجھتے ہیں۔ وہ امریکہ کے سب سے زیادہ بکنے والے شاعروں میں شامل ہیں۔ ان کا کلام شادیوں کی تقریبات میں سنایا جاتا ہے۔ لوگ اس پر ناچتے ہیں۔ بروکلین کے تہہ خانوں میں موسیقار اور گلوکار یہ کلام پیش کرتے رہتے ہیں۔ یہ کلام سوشل میڈیا پر بھی گردش کرتا رہتا ہے اور نوجوانوں میں بھی بے حد مقبول ہے۔
<[email protected]>