موسمسرما رخصت ہو چکا ہے۔ بہار اپنے جوبن پہ ہے، گلہ لالہ جوبن پہ ہیں۔ بادام کے شگوفے کشمیر کے بام و در کو معطر کر رہے ہیں۔ ہر سو مہک ہے، ہر سو خوبصورتیاں ہیں۔ ہر جانب خوشبو ہے ۔ انہی خوشبوئوں اور خوبصورتیوں کو دیکھ بڑے بڑے شاعروں، فلسفیوں او ر جمالیاتی ذوق رکھنے والوں نے کشمیر کو ہمیشہ جنت سے تشبیح دی ہے۔
اب کی بار بہار کے رنگوں کے ساتھ ساتھ الیکشن کا موسم بھی اپنے رنگ دکھا رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں پارلیمانی انتخابات کے اکھاڑے میں اُتر چکی ہیں۔ ہر سیاسی جماعت الگ ہی طرح کے رنگ دکھا رہی ہے اور اس دوڑمیں لگی ہے کہ دوسری جماعت کے رنگوں کا پھیکا کر سکے۔ ہر جانب دعدوں کی بہار ہے۔ آسمان سے چاند تارے توڑ کے لانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ وادی کے ندی نالوں، جنہیں انسانی لالچ نے بد رو نالیوں میں تبدیل کر دیا ہے، میں پانی نہیں بلکہ شہد بہانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ جن جنگلوں کو انسانی ہاتھوں نے بنجروں میں بدل دیا ہے وہاں جنت والے پھلوں کے پیڑ لگانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ گویا وہ سب کچھ کرنے کے وعدے کئے جارہے ہیں جو گزشتہ ستربرسوں میں نہیں ہو پایا۔
عمر عبداللہ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر ان کی حکومت آئی تو وہ صدر ریاست اور وزیر اعظم کے عہدوں کو پھر سے بحال کریں گے۔شاہ فیصل، جنہوں نے لوک سبھا انتخابات نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، بھی ان عہدوں کی بحالی کا وعدہ کر رہے ہیں۔ عمر عبداللہ سے کوئی پوچھے کہ ان کی نیشنل کانفرنس تو سا لہا سال سے ریاست جموں کشمیر پر حکومت کرتی آئی ہے ،پھر بھلا آج تک وہ ان عہدوں کو بحال کیوں نہیں کر پائے۔ اُنہیں کوئی تو یاد دلائے کہ ان کے دادا مرحوم تو ریاست کے وزیر اعظم رہ چکے تھے، پھر اُنہوں نے 1975 میں وزیر اعلیٰ کے طور حلف اُٹھانا کیوں قبول کیا۔ ہر سو ہا ہا کار مچی ہے ریاست کی اندرونی خودمختاری کے سوال پر۔ نیشنل کانفرنس بلند و بانگ دعوے کر رہی ہے کہ اٹانومی کو اگر کوئی بحال کرسکتی ہے تو صرف یہی جماعت کر سکتی ہے۔ کوئی تو نیشنل کانفرنس کی قیادت سے کہے کہ۔۔
اٹانومی کی بر بادی میں تیرا نام بھی شامل ہے
1975 تک نئی دہلی نے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ جو کھلواڑ کیا، نیشنل کانفرنس نے اس کھلواڑ پر اُس وقت رضامندی کی مہر ثبت کر دی جب مرحوم شیخ محمد عبداللہ کانگریس کی حمایت سے بغیر انتخاب لڑے وزیر اعلیٰ بن گئے۔ مرحوم شیخ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے وزیر اعظم سے وزیر اعلیٰ کی تنزلی تسلیم کرلی اور یوں گھڑی کی سو ئیوں کو واپس موڑنے کا خیال دل سے نکال دیا۔ آج جب ان کا پوتا وزارت اعظمیٰ کا عہدہ بحال کرنے کی بات کرتا ہے تو کیا وہ اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ اس کے دادا مرحوم نے 1975 میں جو فیصلہ لیا تھا وہ غلط تھا؟
زیادہ دور کیوں جائیں۔ 1996 میں تو نیشنل کانفرنس کے پاس اسمبلی میں دو تہائی اکثریت تھی۔ اسمبلی میں اٹانومی کی بل بھی پاس کی گئی تھی۔ پھر کیا ہوا؟ ۔مرحوم اٹل بہاری واجپائی کی سرکار نے اس بل کو ردی کی ٹوکری کی نظر کردیا۔ اور نیشنل کانفرنس نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔ حد تو یہ ہے کہ ایسی حزیمت اُٹھانے کے باوجود نیشنل کانفرنس نے این۔ڈی۔اے سے ناطہ نہیں توڑا۔2008 میں نیشنل کانفرنس کانگریس کی حمایت سے پھر اقتدار میں آئی۔ عمر عبداللہ چھ سال تک وزیر اعلیٰ رہے ۔عمر کانگریس کی حمایت سے وزیر اعلیٰ تھے اور مرکز میں بھی کانگریس کی ہی سرکار تھی۔اٹانومی کی بحالی کے حوالے سے یہ ایک مثالی ماحول تھا لیکن چھہ سال میں ایک بار بھی اٹانومی کی بحالی کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اور آج اچانک وزیر اعظم اور صدر ریاست کے عہدوں کی بحالی کا ورد کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی بھی کشمیر کی خصوصی پوزیشن کا رونا رو رہی ہے۔ کل تک نریندر مودی اور امیت شاہ کے ساتھ ایک ہی تھالی میں روٹیاں توڑنے والے آج ان دونوں کو کشمیر کا بد ترین دشمن گردانتے ہیں۔نریندر مودی اور امیت شاہ کا کشمیر کے حوالے سے جو رویہ ہے اُس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ وہ دونوں اور ان کی پارٹی، بی۔جے۔پی ہمیشہ سے ہی دفعہ 370 کے مخالف رہے ہیں۔ کشمیر کا الگ آئین اور الگ پرچم، اُن کی آنکھوں میں ہمیشہ سے کھٹکتا آیا ہے۔ اُن کا سیاسی کلمہ ہمیشہ سے ’ایک دوھان، ایک پردھان، ایک نشان‘ رہا ہے۔ ایسے میں پو چھا جاسکتا ہے کہSelf Rule کی تسبیح جپنے والی پی۔ڈی۔پی نے نریندر مودی سے ہاتھ کیوں ملایا؟ اور جتنی دیر بی۔جے۔پی کے ساتھ مل کر سرکار چلائی اس عرصے میں Self Rule کی بات کیوں نہیں کی گئی۔ بی۔جے۔پی نے ہاتھ کیا کھنچ لیا، محبوبہ مفتی کو اس پارٹی میں وہ سارے عیب نظر آنے لگے جو اس میں پہلے سے ہی تھے لیکن حکومت سازی کے چکر میں جنہیں صرف نظر کر دیا گیا تھا۔
سچ تو یہ ہے کہ یہ سیاسی پارٹیاں اپنے بنیادی نظریات کو کرسی کے لئے قربان کرنے کے لئے ہمیشہ بے تاب ہو تی ہیں۔اگر نیشنل کانفرنس واقعی اٹانومی کی بحالی کے حوالے سے سنجیدہ ہوتی تو پرفیسر سیف الدین سوز کو واجپائی سرکار کے خلاف ووٹ دینے کے جرم میں پارٹی سے نہیں نکال دیتی۔ اگر پی۔ڈی۔پی اپنے Self Rule کے حوالے سے سنجیدہ ہوتی تو دفعہ 370 کے ازلی دشمنوں سے کبھی ہاتھ نہیں ملاتی۔
سیاست دان ا لیکشن کے موقعے پروہی دعدے دہراتے رہتے ہیں جو اُنہوں نے اس سے قبل والے الیکشنوں میں بھی کئے ہو تے ہیں۔وہ ایسا صرف اس لئے کر پاتے ہیں کیونکہ اُنہیں یقین ہوتا ہے کہ عام لوگوں کی یاداشت کمزو ر ہوتی ہے۔ جس طرح مرزا غالب جنت کی حقیقت جانتے ہوئے بھی اپنے دل کو بہلاتے رہتے تھے، اُسی طرح عام لوگ سیاست دانوں کے وعدوں کی حقیقت جانتے ہوئے بھی ان پر وقتی طور یقین کرکے اپنے دلوں کو بہلاتے ہیں۔
ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر