عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//موسمیاتی تبدیلی اب صرف مستقبل کی وارننگ نہیں رہی بلکہ یہ چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کی روزمرہ زندگی کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔ سیلاب، شدید گرمی، موسلا دھار بارش اور طوفان جیسے واقعات پہلے کے مقابلے میں زیادہ شدت کے ساتھ پیش آ رہے ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ اثر ملک کے چھوٹے تاجروں اور ایم ایس ایم ایز پر پڑ رہا ہے جن کی آمدنی روزمرہ کے کاروبار پر منحصر ہوتی ہے۔ای ڈی ایم ای انشورنس بروکرز کی ہیڈ(انٹرنیشنل بزنس اینڈ کلائمیٹ رسک)نیہا یادو کہتی ہیں ، زیادہ تر چھوٹے تاجر محدود بچت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی قدرتی آفت کی وجہ سے دکان یا فیکٹری چند دنوں کے لئے بھی بند ہو جائے تو انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ کئی بار چند دنوں کا نقصان ہی مہینوں کی کمائی پر بھاری پڑ جاتا ہے۔نیہا یادو مزید کہتی ہیں،کلائمیٹ انشورنس چھوٹے تاجروں کے لئے ایک ایسا حفاظتی ذریعہ ہے جو انہیں قدرتی آفات سے نکلنے میں مدد دیتا ہے۔ اس انشورنس کے تحت سیلاب، تیز بارش، گرمی یا طوفان جیسے واقعات سے دکان، گودام، مشینری اور سامان کو ہونے والے نقصان کی تلافی کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی آفت کی وجہ سے کاروبار عارضی طور پر بند کرنا پڑے اور آمدنی رک جائے تو کلائمیٹ انشورنس کے ذریعے آمدنی سے نقصان کی تلافی بھی ممکن ہے۔یادو کے مطابق اس طرح کا بیمہ چھوٹے تاجروں کو جلد دوبارہ کاروبار شروع کرنے میں مدد دیتا ہے۔ بغیر بیمہ کے بہت سے تاجر مرمت یا دوبارہ اسٹاک خریدنے کے لئے پیسوں کا انتظام نہیں کر پاتے جس کے باعث دکان طویل عرصے تک بند رہتی ہے۔