یواین آئی
نئی دہلی// مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جمعرات کو یہاں ‘عالمی نوکار مہامنتر دیوس’ کے موقع پر منعقدہ تقریب میں شریک ہوئے اور کہا کہ دنیا کے کئی حصوں میں جاری تنازعات کے درمیان پوری دنیا کی فلاح و بہبود کے لیے نوکار منتر کا اجتماعی جاپ انتہائی بامعنی اور اہم ہے۔وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، شاہ نے بطور مہمانِ خصوصی اپنے خطاب میں کہا، “جب دنیا کے مختلف حصوں میں اپنے نظریات مسلط کرنے کے لیے جدوجہد کی صورتحال بنی ہوئی ہے، ایسے وقت میں یہاں سے تمام جہانوں کی بھلائی کے لیے نوکار منتر کا اجتماعی جاپ کیا جانا انتہائی معنی خیز اور بروقت ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان مختلف فرقوں اور مذاہب کا ملک ہے، جہاں ہر روایت میں منتروں کی خاص اہمیت اور روحانی طاقت کا ذکر ملتا ہے۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ منتر انسانی زندگی کو بلند سمت عطا کرتے ہیں، “یہ ہمارے شعور کو بیدار کرتے ہیں اور نیک ارادوں کو تقویت دیتے ہیں۔
جب لوگ عقیدت کے ساتھ ایک ہی منتر کا اجتماعی جاپ کرتے ہیں، تو اس سے نہ صرف فرد بلکہ پورے ملک اور دنیا کا بھی بھلا ہوتا ہے۔” مسٹر شاہ نے مزید کہا کہ ہندوستانی سدھوں (بزرگوں) نے نسلوں تک انتھک ریاضت کر کے پوری انسانیت کی فلاح کے لیے ان منتروں کی تخلیق کی ہے۔ سب کو چاہیے کہ وہ انہیں عقیدت کے ساتھ قبول کریں اور ان پر عمل بھی کریں۔انہوں نے کہا کہ نوکار منتر مکمل طور پر بے شکل (نراکار)، غیر جانبدار اور آفاقی پرارتھنا ہے، جس میں وقت، ذات، خطہ یا مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔ دنیا میں اس طرح کی ہمہ گیر اور سب کے لیے قابلِ قبول پرارتھنا ملنا انتہائی نایاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پرارتھنا ان عظیم روحوں کے اوصاف کی ستائش ہے جنہوں نے اپنے اعمال پر فتح حاصل کر کے خود شناسی اور نجات کا راستہ ہموار کیا۔ اس مہامنتر میں لفظ ‘نمو’ کا مطلب مکمل سپردگی ہے، جو سادھناکرنے والے کو اپنے اندر کی انا کو ترک کر کے تزکیہ نفس کی طرف گامزن کرتا ہے۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ جب انسان سر تسلیم خم کرتا ہے، تبھی سے اس کی انا کے پگھلنے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ‘اریہنت’ وہ ہوتا ہے جو ‘اری’ یعنی اندرونی دشمنوں کا ‘ہنت’ (خاتمہ) کرتا ہے۔ یہ دشمن جسم، ذہن، احساسات، مزاج اور فطرت میں موجود وہ نقائص ہیں جو نجات کے حصول میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ جو سادھناکرنیوالا ان اندرونی دشمنوں پر فتح پا لیتا ہے وہی اریہنت کہلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوکار منتر کی روایت ہزاروں سال سے چلی آ رہی ہے، جس میں 24 تیرتھنکروں اور ان کے پیروکاروں کا اہم حصہ رہا ہے۔ ابتدا میں یہ منتر زبانی طور پر نسل در نسل منتقل ہوتا رہا، جس کے بعد کتبوں کے ذریعے اور پھر مختلف متون (کتابوں) میں اسے جگہ ملی۔