جموں//ریاست کی موجودہ صورتحال کے لئے بی جے پی و پی ڈی پی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پردیش کانگریس صدر غلام احمد میر نے آج کہا کہ سابق مخلوط حکومت ہر محاذ پر ناکام رہنے کے بعد جموں کشمیر کو مذہب اور خطوں کے نام پر تقسیم کر کے چھوڑ گئی ہے اور اسے ذات پات، دھرم برادری کے نام پر ایسے کاری زخم لگا دئیے ہیں جن کو مرہم لگانا بھی آسان نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نارتھ اور ساﺅتھ پول نے ریاست کے سماجی تانے بانے میں ایسا زہر گھول دیا ہے جس کے انتہائی بھیانک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور ہر مثبت سوچ رکھنے والے فرد واحد اور تنظیم کا اولین فرض بنتا ہے کہ وہ ریاست میں امن اور بھائی چارے کی بحالی کے لئے کام کرے ۔ یہاں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میر نے کہ کہا کانگریس نے ہمیشہ ملک کے کثیر المذہبی ، لسانی اور ثقافتی کردار کو بلند رکھنے کے لئے جد و جہد کی ہے اور یہی ایک جماعت ہے جو ملک کو متحد اور خوشحال رکھ سکتے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے عوام کانگریس کی ضرورت کو بری طرح سے محسوس کر رہے ہیں جب کہ جموں کشمیر کے تینوں خطوں میں بھی لوگوں کے درمیان پانی جانے والی ناچاتی اور مایوسی کا واحد علاج کانگریس کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونا ہے ۔ پارٹی کے شہید ی چوک دفتر میں واقع اس تقریب کے دوران پردیش سینئر لیڈران ، بلاک صدور اور ضلع صدور بھی موجود تھے ۔ اس موقعہ پر مختلف مقامات سے آئے ہوئے ڈیلی گیٹ بھی ریاستی قیادت سے ملے اور مجوزہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ سابق وزیر شام لال شرما کی قیادت میں اکھنور سے آئے ایک وفد نے تنظیمی امور کے بارے میں پارٹی لیڈران سے بات کی۔ نائب صدر مولا رام شرما ، رمن بھلہ، جی یم سروڑی، چیف ترجمان رویندر شرما، آر ایس چب، گور مکھ سنگھ، ٹھاکو ر موہن سنگھ، رجنیش کمار، ہری سنگھ چب اور وکرم ملہوترہ نے بھی میٹنگ سے خطاب کیا۔