عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// بزرگانِ دین اور اولیائے کرام کی مقدس درگاہیں صدیوں سے اہلِ کشمیر کے دلوں کو روحانی سکون عطا کرتی آئی ہیں اور ہماری تہذیب و تمدن کا ایک روشن باب رہی ہیں۔ ان مقدس مقامات کے ساتھ یہاں کے عوام کی عقیدت اور محبت محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایک گہری روحانی نسبت کی آئینہ دار ہے۔ ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کل زیارت سلطان سید علی عالی بلخیؒ پکھرپورہ اور زیارت علمدارِ کشمیر حضرت شیخ نور الدین نورانیؒ چرار شریف پر حاضری کے موقع پر وہاں موجود عقیدت مندوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اولیائے کرام کی زندگیاں خوفِ خدا، عشقِ رسول ؐاور خدمتِ انسانیت کی اعلیٰ مثالوں سے عبارت تھیں، اور انہی صفات نے انہیں لوگوں کے دلوں میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔
انہوں نے کہا کہ کامیابی اور کامرانی کا راز اجتماعی یکجہتی میں مضمر ہے، اور اگر ہم متحد رہیں تو دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہم ایک نہایت مشکل دور سے گزر رہے ہیں اور موجودہ حکومت انتہائی چیلنجنگ حالات میں، گویا تلوار کی دھار پر رہتے ہوئے، عوام کی خدمت میں مصروف ہے۔ مشکلات کے باوجود عمر عبداللہ حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ راحت فراہم کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے اور اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جا رہا۔اس موقع پر انہوں نے مقامی لوگوں کے مسائل اور مشکلات کو بھی بغور سنا اور یقین دہانی کرائی کہ ان کے حل کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں گے، تاکہ عوام کو درپیش دشواریوں کا ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔