ہندوستان کے بڑے شہروں میں اور چھوٹے شہروں میں کم نمایاں طور پر نجی ہسپتالوں کا نقشہ اب عوام کے اذہان میں موت کے سو داگروں کے طورنقش ہوا ہے۔یہ علامات ہر جگہ موجود ہیں اور خاتمہ تقریبا مکمل ہوچکا ہے۔ یہ جدید دور چمکدارمکانات جو اکثر خصوصی ہسپتالوں کی تعریف کے زمرے میں آتے ہیں ،بستروں کے لئے سودے بازی کرنے ، بیماروں سے منہ موڑنے اور طبی بحران کے وقت انسانیت کا بدصورت پہلو ظاہر کرنے میں دریغ نہیں کرتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ سبھی یہ کھیل نہیں کھیل رہے ہیں لیکن وہ ایسے ہسپتال یہ کھیل کھیل رہے ہیں جو ملک میں نجی سیکٹر کی پوری ہیلتھ کمیونٹی کو روکنے میں داغدار کررہے ہیں۔
دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اسے صاف اور سنجیدہ انداز میں کہا: "پہلے وہ کہتے ہیں کہ یہاں کوئی بستر نہیں ہے۔ تب وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ایک بستر کے لئے 2 لاکھ ، 5 لاکھ اور 8 لاکھ روپے دے دو۔یہ ہسپتال بستروں کی بلیک مارکیٹنگ نہیں تو یہ کیا ہے؟ اس مافیا کو توڑنے میں کچھ وقت لگے گا‘‘۔ مہاراشٹرا ، جہاں دارالحکومت ممبئی وبائی مرض کی لپیٹ میں ہے ،میں وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے گذشتہ مہینے ہسپتالوں کی جانب سے لوٹ کھسوٹ کے دل خراش الزامات سامنے آنے کے بعد نرخ مقرر کرنے پر مجبور ہوگئے۔ فوری طور پر بااثر اور طاقتور نجی افراد کی جانب سے چلائے جارہے نامی گرامی ہسپتالوں ،جوممبئی میں خاصے مشہور ہیں ،نے میٹنگ کی اور وزیراعلیٰ سے کہا کہ وہ اس کیپنگ پر سر نو غورکریں۔جون میںوزیر اعلی نے کہا کہ نجی اسپتالوں کو 80 فیصد بسترے کووڈمریضوں کے لئے مخصوص رکھنے چاہئیں اور ریاستی عہدیداروں سے کہا کہ وہ اس حکم نامہ پر عملدرآمد کی نگرانی کریں۔
وبائی بیماری کے عروج پر اس سے لڑرہے دو بہت ہی مختلف سیاسی پس منظر سے آئے ہوئے دو بہت ہی مختلف رہنماؤں کے ذریعہ ہندوستان کے دو ممتاز شہروں میں کی جانے والی کارروائیوں سے پتہ چلا ہے کہ ہندوستان کا صحت کی دیکھ بھال کا نظام کدھر پہنچا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ جو رقوم ادا کرنے کے متحمل ہوسکتے ہیں ، ہر طرح کے اعلی قسم کے نظام اور طریقہ کار کی مدد سے نجی اسپتالوں کوصاحب ثروت لوگوں کیلئے رکھنے کے حق کا مطالبہ کرتے ہیں جس سے ہندوستان کو طبی نگہداشت کی جدید ترین سہولیات کی حامل قوم کا ذائقہ ملتا ہے۔
یہ وہ کہانی ہے جو "طبی سیاحت" متعارف کراتی ہے اور ان غیر ملکی لوگوںکی تعداد کو بڑھا رہی ہے جو جدید ترین معیشتوں میں اس کی قیمت کے کچھ حصے میں ہندوستان میں علاج معالجہ کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ ہسپتالوں کے علاج معالجے کے لئے خصوصی مراعات ، طبی خدمات کے لئے ایک ویزا پروگرام اور ایک خوش گوار انداذِ استقبال کے ذریعے اس نظام کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو ہندوستان میں غریبوں کی براہ راست قیمت پر سبسڈی اور وسائل کو کسی اور طرف بالآخر موڑ دیتا ہے۔
دوسری طرف مالی اعانت اور حمایت سے سرکاری طبی نگہداشت کا نظام ہے جس کو مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد کا سامنا ہے لیکن وہ اُسے بوسیدہ اور قلیل ڈھانچہ کے علاوہ زائد المعیاد اورناقص ساز وسامان سے جدو جہد کرنا پڑرہی ہے۔ایک سادہ سی حقیقت اس فرق کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے: سپر سپیشلٹی ہسپتالوں میں ، نظاروں کے ساتھ ایک بستر ملنا ممکن ہے ، تیماردار کال پردستیاب ہوتا ہے اور ہوٹل جیسی طرز زندگی میسر ہوتی ہے جب تک مریض ٹھیک نہیںہوجاتا ۔سرکاری اسپتالوں میں مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو فارم ، ڈاکٹری جانچ ، داخلہ ، دوائیوں کے لئے بار بارقطاروں میں رہناپڑتا ہے۔ پھر جیسے جیسے ان کے فون کی بیٹری ختم ہوجاتی ہے ، وہ ایک پان کی دکان کے باہر قطار لگانے کے لئے بھاگتے ہیں جو رشتہ داروں کو اپنے موبائل کی بیٹریاں ری چارج کرنے کی اجازت دینے کا سائیڈ بزنس چلاتے ہیں۔ میں نے کئی سال قبل ممبئی کے ایک ممتاز سرکاری ہسپتال میں ذاتی طور پر اس کا مشاہدہ کیا ہے۔
ہاں ، بہترین وقت میں یہ صورتحال تھی۔ تب کوئی وبائی مرض نہیں تھا۔ وبائی مرض نے صرف نئے تناؤ کا اضافہ کیا ہے جہاں اب حکومتوں کے لئے واضح خلاف ورزیوں کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا ہے جس نے ان میں سے بہت سے ہسپتالوں کو اونے پونے داموں پر سرکاری اراضی پر ہسپتال تعمیر کرکے پھر ا س پراپرٹی کوایسا نظام تشکیل دینے کا موقعہ فراہم کیا جو ممنوعہ طور انتہائی مہنگااور لازمی طور اس بڑی اکثریت کو خارج کرتا ہے جو ان ہسپتالوں میں علاج و معالجہ کی خواہش کرتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ عوامی رقم ہے جو نجی استحقاق پیدا کرتی ہے۔
بالآخریہ 2017 کی قومی صحت پالیسی تھی جس نے اپنے ابتدائی پیراگراف میں یہ بات ٹھیک بتائی ہے کہ ’’طبی نگہداشت کے تباہ کن اخراجات کے بڑھتے ہوئے واقعات اس وقت غربت کو فروغ دینے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے‘‘۔ تباہ کن گھریلو صحت کے اخراجات کی تعریف " طبی صرفہ مجموعی ماہانہ صرفہ سے دس فیصد زیادہ یا غیر غذائی صرفہ کے 40فیصد کے طور پر کی جاتی ہے ، جسے پالیسی میں "ناقابل قبول" کہاگیا ہے‘‘۔ ہندوستان میں ، صحت سے متعلق اخراجات کا ایک فیصد کے طور پر جیب کے اخراجات میں سے ، جوطبی نگہدات کے حصول کے لئے گھرانوں کے ذریعہ براہ راست کئے جانے والے اخراجات کا 60فیصد سے زیادہ ہے۔ اس سے طبی نگہداشت کی ادائیگیوں کے لئے گھرانوں کو مالی تحفظ کی کمی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ کووڈ کے معاملے میں یہ کوئی مختلف نہیں ہے ، سوائے اس کے کہ بہت سارے معاملات ایک دوسرے کے ساتھ چل رہے ہیں اور جو تصویر ابھرتی ہے وہ بہت ہی بدصورت ہے۔
یہ معمول کی بات ہے جس کااب ہندوستان کو سامنا ہے جو ہیلتھ سیکٹر میں بحران کی ترجمانی کرتا ہے جہاں بیچ میں تقسیم ہے اور اشرافیہ عام آدمی سے متصادم ہے جبکہ پورا نظام اُس کلچر سے کھوکھلا ہوچکاہے جو صرف پیشہ ،اثر ورسوخ اور طاقت کی بات کرتا ہے ،صحت کی نہیں۔
نئی دہلی میں سرکاری شعبہ صحت میں ایک سینئرعہدیدار کی حیثیت سے کام کرنے والے ایک فرد اسے یوں بیان کرتا ہے’’عوامی صحت کے لئے عوامی نظام کو مضبوط بنانا نجی شعبے کی زیادتیوں کو روکنے کا جواب ہے۔ میں نجی سیکٹر والوں کو ڈاکو نہیں کہوں گا۔ عملی طور پر تو وہ کرایہ جمع کرنے والے ہیں۔ یہ اکھاڑا ان کے حوالے کیا گیا تھا اور وہ اپنی کلا کاری کیلئے معائوضہ کا تقاضا کرتے ہیں‘‘۔ٹرسٹوںکے طور پر کام کرنے والے ہسپتالوں کے معاملے میں تصویر کچھ مختلف ہے اور وہاں ادائیگی اور مفت طبقوں کے مابین واضح فرق ہے۔
یہ ایک طویل المدتی مسئلہ ہے جس کو ٹھیک کرنے کیلئے "امن‘‘درکار ہوگا۔ بہت سارے حل تجویز کیے گئے ہیں ، جن میں سے سب سے واضح بات یہ ہے کہ 2025 تک جی ڈی پی کے1.5فیصد سے2.5 فیصد صحت پر ہندوستان کے سرکاری اخراجات میں اضافہ کرناہے جس کا نیشنل ہیلتھ پالیسی 2017 میں تصور کیا گیا ہے۔ہمیں صحت کو بطور لازمی خدمت متعین کرکے فیسوںکی بالائی حد مقرر کرنا اور حصص یافتگان کے ماڈل کی مزاحمت کرنا ہے جوادائیگی کی صلاحیت سے قطع نظر سرمایہ کاری ، واپسی ، انضمام اور حصول کی بات کرتا ہے۔ ہندوستان کو ایسے ماڈلز کو اپنانا کی بھی ضرورت ہوگی جنہوں نے نجی شعبے کے اصولی اداروں کی تشکیل کی ہے جو کراس سبسڈی ماڈل پر کام کرتے ہیں اور اس کے باوجود اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کوئی بھی جو ان کے اسپتال میں جائے گا وہ معیاری علاج کے بغیر نہیں لوٹے گا۔لیکن جنگ کے وقت کیا کیا جاسکتا ہے ، جو وبائی مرض منظر پیش کرتا ہے؟
اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔روایت سے ہٹ کر ایک مثال بنانے کے لئے حکومت کو خود کو ایسے بروئے کارلانا پڑے گا – جو لوگ سراسر خلاف ورزی کرنے والے ہیں انکی لگام کس لیں ، اپنے اکاؤنٹس کو منجمد کریں اور لوگوں اور صحت کے تمام شعبے کے سامنے یہ مظاہرہ کریں کہ ریاست معیاری طبی نگہداشت فراہم کرنے والوں کوان کے اعمال کیلئے جوابدہ بنانے کی خاطرپرعزم ہے ۔اس سے کچھ کم کرنے کا مطلب تباہی کا انتظار کرنا ہے کیونکہ لابیاں بنتی ہیں،سیاست چلتی ہے اور بالآخر پھر ردعمل تنازعات کی نذر ہوجاتا ہے تاکہ خود اصل پیغام ہی کہیں گم ہوجائے۔اس سے پہلے کہ ایسا ہو ،موت کے سودا گروںکو روکنا ہوگا۔
( جگدیش رتنانی ایک صحافی اور ایس پی جے آئی ایم آر کے فیکلٹی ممبر ہیں،بشکریہ بلین پریس )
ای میل: [email protected]