منڈی//تحصیل منڈی کا علاقہ چکھڑی اس ترقی یافتہ دور میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔4000 سے زائد آبادی والے اس علاقہ کی عوام بجلی پانی اور بہتر تعلیمی نظام سے اس جدید دور میں بھی محروم ہیں ۔پنچایت چکھڑی کی متعدد وارڈیں ایسی ہیں جن میں آج تک بجلی کا بلب بھی نہیں جلا جبکہ راشن لینے کیلئے یہاں کی عوام کو دس کلو میٹر پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔ اگر چہ سرکار کی جانب سے اس علاقہ میں ایک مڈل اور ایک پرائمری سکول قائم کیاگیا ہے مگر ان سکولوں میں بچوں کو پڑھانے کیلئے کبھی کبھی اساتذہ جاتے ہیں۔ سرپنچ چکھڑی پیر محمد یاسین کے مطابق ان کے علاقہ میں عوام کو ہر طرح کی پریشانی اٹھانی پڑتی ہے جس کیلئے متعدد بار انہوں نے حکام کے نوٹس میں بھی لایا مگر سڑک سے دس کلو میٹر دور ہونے کی وجہ سے متعلقہ حکام کی آنکھوں سے یہ علاقہ اوجھل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چکھڑی پنچایت میں 400/ایسے کنبہ جات ہیں جن میں آج تک بجلی نہیں پہنچی ہے اور وہ لوگ پرانے زمانے کی چمنی جلا کر اپنی زندگی گزار رہے ہیں ۔انہون بتایا کہ علاقے کا تعلیمی نظام کافی زیادہ خراب ہے سکولوں میں اساتذی کی غیر حاضری کی وجہ سے طلباء کا مستقبل داو پر لگا ہوا ہے۔ محمد یاسین کا کہنا تھا کہ پرائمری سکول ناگاناڑی میں جن اساتذہ کو سرکار کی جانب سے تعینات کیا گیا تھا وہ کبھی بھی سکول میںحاضر نہیں ہوئے جبکہ محکمہ کی جانب سے ایک استاد کو دوسرے سکول میں اٹیچ رکھا گیا ہے جبکہ ایک ہی استاد سکول میں کبھی کبھی آ کر اپنی حاضری کر کے چلا جاتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ علاقے کا طبی نظام بھی خدا کے بروسے ہی چل رہا ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ اگر علا قہ میں کوئی فرد بیمار ہوجاتا ہے تو اس کو منڈ ی کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔مقامی سرپنچ نے بتایا کہ علاقہ میں بیس برس قبل بچھائی گئی پاپئیں اب بوسیدہ ہو گئی ہیں تاہم متعلقہ محکمہ ان کی مرمت کی جانب کوئی دھیان ہی نہیں دے رہا ہے ۔مکینوں و پنچایتی اراکین نے انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ علا قہ میں عوام کو معیاری سہولیات فراہم کی جائیں ۔