اب تو وادی ٔ کشمیر کاہر ذی ہوش فرد اس بات سے با خبر ہوچکا ہے کہ گذشتہ ایک ڈیڑھ دہائی کے دوران ہمارے یہاں منشیات کے استعمال اور اس کے کاروبار کے باعث جو صورت حال پیدا ہوئی ہے ،وہ ہمارے معاشرے کے لئےتباہ کُن بن چکی ہے اور ہماری نوجوان نسل کے لئے ایسے پیچیدہ و نفسیاتی امراض کا ذریعہ بن گئی ہے،جس سے نشہ باز کے ساتھ ساتھ اس کے خاندان کے افراد کی زندگیاں کو بھی اجیرن بن چکی ہیں۔ صورت حال یہاں تک جا چکی ہے کہ آج ہزار وں گھرانے تباہی اور بربادی کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں، بیشترکنبے بکھرچکے ہیں،ہر سُو اخلاقی بے راہ روی بڑھ گئی ہے،کئی نشے باز،نشے میں دھت ہو کر مر رہے ہیں،اکثر نوجوان نشے بازوں کی حالت قابل رحم ہے اور حادثات کے طو مار کا سلسلہ جاری ہے ۔ظاہر ہے کہ منشیات کا سب سے بڑا ضرر انسان کی صحت ،جسم و قوت کو پہنچتا ہے،حالانکہ انسان کی زندگی، صحت جسم اور طاقت اُس کی اپنی ملکیت نہیں بلکہ یہ اُس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، جس میں خیانت کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔ طبی تحقیقات سے بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے، نیز تجربات اور مشاہدات بھی اس پر شاہد ہیں کہ انسان کا جسم منشیات کی وجہ سے مختلف ہولناک امراض کا مجموعہ بن جاتا ہے ۔
ماہرین ِطب کے مطابق ایڈز کے چالیس فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو منشیات کے بےمحابااستعمال نے اِس اسٹیج تک پہنچایا ہوتاہے ۔ منشیات کے مضرات کا ایک پہلو مالی نقصان بھی ہےاور منشیات کے سماجی نقصانات بھی بڑے تکلیف دہ ہوتےہیں۔گویامنشیات بہت ساری بُرائیوں اور خرابیوں کا سرچشمہ ہے اور نشہ شیطان کا ایک ایسا ہتھکنڈہ ہے، جو انسان کو فطرت سلیمہ سے ہٹاتاہے،اُسے اشرف المخلوقات کے درجہ سے اسفل السافلین کے درجہ میں پٹخ دیتا ہے اور اُسے حیوانوں سے بھی بدتر اور کمتر بنا دیتا ہے۔اس صورت حال کے پیش ِنظر اگرچہ وقفہ وقفہ کے بعداور مختلف اوقات میںہمارے یہاں کی اصلاحی تنظیموں کی طرف سے منشیات مخالف کی جتنی بھی مہمات چلائی گئیں ،بدقسمتی سےاُن کے مثبت نتائج سامنے نہیں آسکے اور نہ ہی وہ منشیات کے انسداد کے لئے کارگر ثابت ہوسکیں۔اب جبکہ موجودہ یو ٹی سرکار کی طرف سے ’’نشہ مکت کی 100روزہ مہم‘‘ شدو مد کے ساتھ جاری ہے،تواس سےمعاشرے میںاُمید کی ایک نئی کرن روشن ہوگئی ہے۔ اس مہم کا بڑا فائدہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اِس سے بگاڑ کے شکارنوجوانوں کو ایک موقع فراہم ہو، کہ وہ زندگی کی اصل حقیقت پر غور کریں، اپنی زندگی کو سمجھنے کی کوشش کریںاور اپنے درپیش مسائل کا حل ڈھونڈنے کا حوصلہ پاسکیں۔
اس لئےہمارے معاشرے کے تمام طبقات پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ منشیات کے نقصانات سے ہر سطح پر ہر خاص و عام کو باخبر کریں اور اُن تمام اسباب و عوامل پر بندھ لگانے کی حکومتی کوششوں میں اپنا بھرپور تعاون پیش پیش رکھیں، جن سے منشیات کو فروغ ملتا ہو۔ المختصرایک طرف جہاں عوام الناس میں حکومت کی منشیات کے انسداد کی کوششوں کی سراہنا ہورہی ہے تو دوسری طرف یہ سوال بھی اُبھر رہا ہے کہ اگر ایک طرف منشیات کے استعمال سے منع کیا جائے گا اور دوسری طرف شراب کی دوکانیں آسانی کے ساتھ کھلی رہیں گی تو اس تضاد کا نتیجہ معاشرے کے بگاڑ کی شکل کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ؟اور جب تک منشیات کے خلاف ہر سطح پر تحریک نہیں چلائی جائے ، ہوٹلوں دوکانوں اور محفلوں وغیرہ ہر جگہ سے منشیات کا خاتمہ نہیں کیا جائے ،کیا اس لعنت کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا؟ حکومت کو اس بارے میں سنجیدگی کے ساتھ غورو خوض کرنا ہوگا۔
کیونکہ منشیات کے استعمال اور اس کی خریدو فروخت کے خلاف سب سے موثر اقدامات حکومتی سطح پر ہی کئے جاسکتے ہیں۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاںمنشیات مخالف پروگرام قریہ قریہ اور بستی بستی منعقد کراکے عوام الناس کومنشیات سے بچنے کی ترغیب دی جائے،وہاں شراب سمیت تمام منشیات کی خریدو فروخت پرمکمل طور پر پابندی عائدہونی چاہئے۔بصورت دیگر حکومت کی ان کوششوں کے بھی نتائج مثبت ثابت ہونے کی امید بہت کم ہے۔