بلاشبہ جموں و کشمیر میں منشیات کا مسئلہ کوئی نیا نہیں ہےبلکہ ماضی میں، خاص طور پر 1970کی دہائی کے آخر میں بعض علاقوں میں بھنگ (چرس) کی کاشت ہوتی تھی اور کچھ لوگ اس کی تجارت سے وابستہ تھے۔ اُس وقت ان میں سے بعض افراد سماجی طور پر باعزت سمجھے جاتے تھے اور اپنی برادری میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ کئی لوگ مالی طور پر خوشحال تھے—۔ایسے دور میں جب رنگین ٹی وی جیسی چیزیں نایاب تھیں، وہ ان سہولیات کے حامل تھے۔ بعض صورتوں میں وہ اپنی آمدنی کا کچھ حصہ سماجی یا فلاحی کاموں میں بھی صرف کرتے تھے۔ اُس زمانے میں اِن سرگرمیوں کے وسیع تر نقصانات سے عام لوگ زیادہ واقف نہیں تھے، جس کی بڑی وجہ سائنسی شعور کی کمی تھی۔مگر آج کی صورتحال کہیں زیادہ سنگین اور پیچیدہ ہو چکی ہے۔
مضرصحت منشیات کا پھیلاؤ بڑھ چکا ہے اور یہ سوال اہم ہے کہ یہ کہاں سے آ رہی ہیں اور کن راستوں سے یہاں تک پہنچتی ہیں۔ مجموعی طور پر تین اقسام کے افراد سامنے آتے ہیں، وہ جو باہر سے سپلائی میں سہولت فراہم کرتے ہیں، وہ جو مقامی سطح پر تقسیم میں ملوث ہیں اور وہ جو اِن کا استعمال کرتے ہیں۔ہر زمرے کے ساتھ دانشمندی اور انصاف کے ساتھ نمٹنا ضروری ہے۔ جو افراد نشے کا شکار ہو چکے ہیں، وہ عموماً کمزوری یا مجبوری کا شکار ہوتے ہیں، اُنہیں ہمدردی، مناسب مشاورت اور بحالی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ ایک باوقار اور معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔
اس کے برعکس، منشیات کی خرید و فروخت میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت سے سخت کارروائی ضروری ہے، کیونکہ ان کے اعمال فرد اور معاشرے دونوں کو شدیدنقصان پہنچاتے ہیں۔ساتھ ہی وہ لوگ جو ماضی میں کسی حد تک ملوث رہے ہوں،—چاہے بطور صارف یا معمولی کردار میں—اور اب سدھر چکے ہوں، اُنہیں عام شہریوں کی طرح برتاؤ ملنا چاہیے۔ انہیں بدنام یا موجودہ مجرموں کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس معاملے کو نہایت احتیاط اور حساسیت کے ساتھ سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ جو افراد نشے کو ترک کر چکے ہیں، انہیں بلا ضرورت دوبارہ پوچھ گچھ کے لیے نہ بلایا جائے۔
اگر کسی رابطے کی ضرورت ہو تو وہ عزت اور وقار کے ساتھ کیا جائے، کیونکہ سخت یا غیر حساس رویہ اُن پر منفی نفسیاتی اثر ڈال سکتا ہے اور ان کی مثبت تبدیلی کو متاثر کر سکتا ہے۔اسی طرح، وہ عناصر جو بیرونی ذرائع سے منشیات کو علاقے میں لانے کے ذمہ دار ہیں، ان کی نشاندہی اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی انتہائی ضروری ہے، کیونکہ وہ اس سلسلے کی اہم کڑی ہیں۔آج بھی اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ذمہ دار اداروں کو چاہیے کہ وہ سائنسی، متوازن اور سوچ سمجھ کر حکمت عملی اپنائیں،—ایسی حکمت عملی جو فہم، شواہد اور معاشرے کے تئیں ذمہ داری کے احساس پر مبنی ہو۔ ایک انسانی، منصفانہ اور اصلاح پر مبنی نقطہ نظر ہی دیرپا اور بامعنی نتائج دے سکتا ہے۔بے شک اس سچائی سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ موجودہ جدید دور میں جہاں ہماری نوجوان نسل کو ترقی کے منازل طے کرنے کے لئے مختلف راہیںڈھونڈنی پڑتی ہیں ،وہیں نوجوان نسل کی ایک اچھی خاصی تعداد اپنی خوشحالی کے لئےمنشیات کے گورکھ دھندے کا انتخاب کررہی ہے، جبکہ نوجوانوں کی کثیر تعدا د ذہنی،معاشی اور معاشرتی اُلجھنوں کا شکار ہوکر غلط راہوں پر چلتی ہےاور گمراہ ہوکر تباہ و برباد ہورہی ہے۔
بے شک بے روزگاری کا مسئلہ نوجوان نسل کے لئے انتہائی تباہ کُن ہے، جبکہ مقابلے کی دوڑ، سوشل میڈیا کا منفی اثر اور غلط صحبت اُنہیں منشیات کی طرف راغب کررہی ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں اس مسئلے کو محض ایک نشہ ہی نہیں بلکہ ایک معاشرتی بیماری کے طور پر بھی دیکھ لینا چاہئے۔جس کے لئے لازم ہے کہ ہم اجتماعی طور پر ذمہ دار شہری کا رول ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔منشیات سے متاثرہ افراد تک رسائی حاصل کر کے انہیں ہمدردی، خلوص اور مثبت طریقے سے ڈرگ ڈی ایڈکشن مراکز تک لے جائیں، جہاں پیشہ ورانہ علاج اور رہنمائی کے ذریعے اُن کی زندگی کو نئی سمت دی جا سکتی ہے۔چنانچہ حکومتی سطح پر ایسے کئی مراکز قائم کئے گئے ہیں، جہاں مفت یا کم خرچ پرعلاج کی سہولت دستیاب ہے۔