عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر //میرواعظ مولوی عمر فاروق نے کہا ہے کہ منشیات اور شراب دونوں ہی معاشرے کے لیے انتہائی تباہ کن ہیں اور حکومت ایک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دوسرے کے بارے میں خاموش نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی کئی ریاستوں نے بھی اس کے سماجی نقصانات کے پیش نظر شراب پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو میں نئی حکومت کے ابتدائی اقدامات میں 700 شراب کی دکانوں کو بند کرنا شامل ہے۔میرواعظ نے کہا کہ منشیات فروش نیٹ ورکس کے خلاف جاری مہم سے مطلوبہ نتائج اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتے جب تک شراب کے خلاف بھی کارروائی نہ کی جائے، کیونکہ یہ بھی خاندانوں اور معاشرے کو تباہ کر رہی ہے۔میرواعظ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ منشیات مخالف مہم علاقائی جانبداری پر مبنی نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی کسی ایک فرد کے جرم کی پاداش میں اس کے خاندان کے دیگر افراد کو گھروں کی مسماری یا دیگر کارروائیوں کے ذریعے ہراساں کیا جانا چاہیے۔