بلال فرقانی
سرینگر//نیشنل کانفرنس کی جانب سے 2024 کے انتخابی منشور میں تمام سرکاری ملازمتوں کیلئے درخواست فیس معاف کرنے کے وعدے کے باوجود، جموں و کشمیر حکومت نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد بے روزگار نوجوانوں میں مایوسی اور ناراضگی بڑھ گئی ہے۔یہ وضاحت اسمبلی میںایک سوال کے تحریری جواب دی گئی۔سوال میں بے روزگاری اور مالی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست فیس میں رعایت دینے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔حکومت نے اپنے جواب میں کہا کہ بھرتی کے عمل میں شامل ادارے جیسے جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن اور جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ مختلف مراحل پر بھاری اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ ان میں تحریری امتحانات، او ایم آر ٹیسٹ، انٹرویوز، ماہرین کی خدمات، افرادی قوت اور انفراسٹرکچر شامل ہیں۔حکومت کے مطابق بھرتی کا عمل نہایت حساس اور پیچیدہ ہوتا ہے، جس میں شفافیت، سیکیورٹی اور معیار کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اخراجات میں مزید اضافہ ہوا ہے، اسی لیے امتحانی فیس ان بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے ضروری قرار دی گئی ہے۔تاہم اس فیصلے کے بعد نوجوانوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ نوگام سے تعلق رکھنے والے ایک امیدوار سجاد احمد ڈارنے کہا’’نیشنل کانفرنس نے اپنے منشور میں صاف وعدہ کیا تھا کہ درخواست فیس ختم کی جائے گی، مگر اب وہی حکومت اس سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ یہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہے۔‘‘پلوامہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور نوجوان لطیف احمد میرنے کہا’’ہمیں ہر نوکری کیلئے بار بار فیس ادا کرنی پڑتی ہے، جو ہمارے جیسے بے روزگار افراد کیلئے بہت بڑا بوجھ ہے۔ حکومت کو اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں۔‘‘ملازمت کے حصول کیلئے امیدواروں نے انتخابی وعدوں اور حکومتی فیصلوں کے درمیان اس طرح کا تضاد نہ صرف نوجوانوں میں بے چینی پیدا کرتا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتا ہے، جس پر حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔نیشنل کانفرنس ترجمان سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی تاہم رابطہ قائم نہ ہوسکا۔ نیشنل کانفرنس کی جانب سے انتخابی منشور میں ملازمتوں کیلئے درخواست فیس معاف کرنے کے وعدے کے باوجود، جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار نے ایک مختلف تصویر سامنے رکھ دی ہے، جس کے مطابق بے روزگار نوجوانوں سے گزشتہ دو برسوں میں کروڑوں روپے بطور فیس وصول کیے گئے۔فروری 2026 میں قانون ساز اسمبلی میں پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2023-24اور 2024-25کے دوران دو بڑے بھرتی اداروں—جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ اور جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن نے مجموعی طور پر 48.88 کروڑ روپے درخواست فیس کی مد میں جمع کیے۔اعداد و شمار کے مطابق سروس سلیکشن بورڈنے اس مدت کے دوران تقریباً 30.98 کروڑ روپے جبکہ پبلک سروس کمیشن نے قریب 17.90 کروڑ روپے وصول کیے۔ فیس وصولی میں نمایاں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔ مالی سال 2023-24میں جہاں 14.48 کروڑ روپے جمع کیے گئے، وہیں 2024-25میں یہ رقم بڑھ کر 34 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔