رواں ماہ کی14تاریخ کو ضلع انتظامیہ سرینگر نے عوام کو متنبہ کیا کہ وہ زمستانی ماحول کی وجہ سے منجمد ڈل جھیل پر چلنے کا خطرہ مول نہ لیں کیونکہ ایسا کرنا اُن کیلئے خطر ناک ثابت ہوسکتا ہے۔کشمیر رواں برس کے ’چلہ کلان‘ میں سائبیریا کا سماں پیش کررہا ہے جہاںسردیوں کا تیس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔شدید سردیوں کی وجہ سے پانی کے نل جم گئے، یہاں تک کہ ڈل جھیل جیسا وسیع آبی ذخیرہ بھی منجمد ہوگیا۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ڈل جھیل سردیوں کے ایام میں جم گیا۔ایسا ماضی میں بھی ہوا ہے اور شاید مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا ۔
تاریخی حوالوں کے مطابق 1959کے موسم سرما میں وادی کے اندر اس قدر ٹھنڈ پڑگئی کہ سارا ڈل جھیل جم کر کم و بیش ایک ماہ تک منجمد رہا۔بتایا جاتا ہے کہ تب سابق ریاست کے اُس وقت کے وزیر اعظم بخشی غلام محمد نے ڈل کی اُوپری سطح پر پانی کی تین فٹ موٹی سطح پر اپنی جیپ چلانے کی مہم سر کی۔بخشی جولائی1972میں فوت ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ مذکورہ سال ڈل جھیل کی اوپری سطح اس قدر جمی ہوئی تھی کہ ایک ماہ تک اس کی مخالف سمت کے علاقوں میں کا م کے سلسلے میں جانے والے شہری بخ بستہ ڈل پر پیدل سفر کرکے دوسری طرف جاتے تھے۔
سرینگر کے ماتھے کا جھومر کہلانے والا ڈل جھیل بعد ازاں1964میں شدید ’چلہ کلان‘ کے طفیل پھر منجمد ہوگیا اور تب بھی اس کی اُوپری سطح پر بعض لوگوں نے دلچسپ سرگرمیاں انجام دیکر مہم جوئی انجام دی۔ان میں کچھ پولیس حکام بھی شامل تھے جنہوں نے اس کے ایک حصے پر ہلکی گاڑیاں چلائیں۔مذکورہ سال جمے ہوئے ڈل جھیل کی پھسلن بھری سطح پر سائیکل چلانے کا سہرہ منجھے ہوئے قلمکار اور پارلیمنٹیرین شمیم احمد شمیم کو بھی حاصل ہوا۔ وہ 1980میں انتقال کرگئے ۔ انہوں نے یہ مہم جوئی ڈلگیٹ کے قریب گگری بل علاقے میں انجام دی ۔
ایسے شواہد بھی موجود ہیں کہ ڈل جھیل1986میں ایک بار پھر منجمد ہوگیا اور اس پر منچلے لڑکوں کو کرکٹ کھیلتے ہوئے اور موٹر سائیکل چلاتے ہوئے دیکھا گیا اور بعض ریڑھے بانوں نے بھی کچھ ایام تک اس کی جمی سطح پر اپنا کاروبار انجام دیا۔بتایا جاتا ہے کہ اُن دنوں شہر سرینگر کا درجہ حرارت منفی12سے13ڈگری سیلشیس تک گر گیا تھا اور موقع غنیمت جان کر بعض اداکاروں نے کچھ فلموں یا ٹی وی سیریلوں کیلئے ڈل کی جمی سطح پر بعض شارٹ بھی ریکارڈ کئے۔ان میں ’کب تک‘ نام کا ایک اُردو سیریل بھی شامل تھا جو بعد میں دور درشن سرینگرسے نشر بھی ہوا۔
شہر سرینگر میں واقع ڈل جھیل زبرون کے پہاڑی دامن میں دہائیوں سے سیاحتی مرکز کے طور کافی مصروف رہا ہے اوراس کا نظارہ اُن معروف مغل باغات سے دل موہ لیتا ہے جو اس کے ایک طرف قطار میں پھیلے ہوئے ہیں اور جہاں سے بالکل مخالف سمت میں ڈل جھیل کے دوسرے کنارے پر واقع درگاہ حضرتبل کا نظارہ بھی چشمان عقیدت مندان کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔
اس جھیل کی جمی سطح پر ماضی میںبھی مہم جوئیاں ہوئی ہیں اور آج بھی۔سابق وزیر اعظم اور پارلیمنٹیرین کی مہم جوئیاں تو ریکارڈ میں آئی ہیں لیکن عام لوگوں کی نہ کسی نے تصاویر لیں اور نہ اُن کا کہیں تفصیلی ذکر ہوا۔تاہم آج کل سوشل میڈیا کے دور میں لوگ اپنی سرگرمیاں خود ہی ریکارڈ میں لاتے ہیں۔گوکہ سرینگر انتظامیہ نے ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے اہلکاروں کو ڈل کے ارد گرد تعینات کرکے کسی بھی مہم جوئی پر روک لگائی ہے لیکن اس کے باوجود ایسی تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر نمودار ہوگئے جو سرکاری روک کا مُنہ چڑا رہے ہیں۔حالانکہ اس طرح کا خطرہ مول لینا کوئی عقلمندی نہیں ہے لیکن انسان کی جبلت میں مخصوص حد تک مہم جوئی موجود ہے ،اس لئے جب بھی کوئی ایسا موقع میسر آتا ہے تو کشمیری نوجوان بھی اس کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں۔
پہلے 2019کی اعصاب شکن پابندیاں اور بعد میں کورونا لاک ڈاون نے ڈل جھیل سے روزی روٹی کمانے والوں کی اقتصادی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔جھیل کی سیاحت پر مبنی اقتصادیات پر انحصار کرنے والے متعدد لوگ ،جن میں شکارا چلانے والے، پھیری والے، دکاندار اور ہاوس بوٹ مالکان شامل ہیں،ماہ جنوری کے ابتدائی ایام میں ڈل جھیل کو توجہ کا مرکز بننے پر دل ہی دل میں خوش تھے۔وہ چاہتے تھے کہ ڈل جھیل کسی نہ کسی بہانے چرچے میں رہے تاکہ اُن کا روزگار بھی چلتا رہے۔
غلام محمد ایک شکارے میں بیٹھا ایک نظر آس پاس موجود لوگوں اور دوسری نظر منجمد ڈل کو دیکھ رہا تھا۔ غلام محمد جانتا تھا کہ ڈل کی موجودہ حالت میں وہ شکارا نہیں چلا سکتا لیکن اس کے باوجود وہ پُر مسرت تھا۔غلام محمد کا کہنا تھا ’’میرا شکارا چلے نہ چلے، ڈل کے کنارے تو آباد ہیں نا، ماحول یوں ہی رہے توآج نہیں تو کل میرے کمانے کی بھی بھاری آئے گی‘‘۔
غلام محمد کے چھوٹے بھائی عبد الرشید نے اپنا شکارا چھوڑ کر مونگ پھلی بیچنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔غلام محمد کے مطابق’’ہم نے جب دیکھا کہ لوگ تو موجود ہیں لیکن وہ شکار ا سواری نہیں کر سکتے تو باہم مشورے کے بعد ہم نے عبد الرشید کو ڈل کے کنارے مونگ پھلی بیچنے کا کام سونپا۔اس سے تھوڑی بہت کمائی تو ممکن ہے‘‘۔
جہانگیر احمد ایک ہاوس بوٹ مالک کا پڑھا لکھا بیٹا ہے۔جہانگیر کی رائے ہے کہ انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ ڈل جھیل کی جمی سطح پر خواہشمندسیاحوں کو محدودسرگرمیاں انجام دینے کی اجازت دے۔جہانگیر کے مطابق’’یہ خطرے کی بات تو ہے لیکن سیاحوں کیلئے مہم جوئی کوئی نئی بات نہیں ہے، اگر انتظامیہ مثبت انداز میں سوچ کر ڈل کے مخصوص حصوں کو سرمائی سیاحت کا مرکز بنالے تو یہ ایک بہتر اقدام ہوسکتا ہے‘‘۔
جہانگیر جیسے نوجوانوں کا ماننا ہے کہ گلمرگ میں کی جانے والی سکینگ بھی تو ایک قسم کی مہم جوئی ہی ہے جس کو ماہرین کی موجودگی میں قریبی نگہداشت کے دوران بڑھاوا دیا جارہا ہے، تو اگر ڈل جھیل کی اُوپری سطح بھی اس قدر جمتی ہے کہ اس پر محدود سرگرمیاں ممکن ہیں تو کیوں نہ اس کوبھی اقتصادی فائدہ حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا جائے؟جہانگیر کی طرح ہی سوچنے والے دانشگاہ کشمیر کے ایک طالب علم کے مطابق’’یہ ایک بڑا فیصلہ ہوسکتا ہے اور اس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ماہرین کو سر جوڑ کر بیٹھنا پڑے گا‘‘۔شعبہ جیو گرافی کے مذکورہ طالب علم کے مطابق’’اگر موسمی تغیرات نے شدت اختیار کی ہے اور ماہرین اس کو لیکر متفق ہیں تو ڈل جھیل جیسے آبی ذخائر کو سرمائی سیاحت کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے‘‘۔
ڈل جھیل سے بعض روزی روٹی کمانے والوں نے حالات سے متاثر ہوکراورحالیہ مہینوں کے نقصان کی بھرپائی کیلئے یومیہ مزدوری کرنا شروع کر دیا ہے اور ان میں کچھ شکارا والے بھی شامل ہیں۔ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے مذکورہ جھیل سے گھاس پھوس صاف کرنے والے پروجیکٹ میں ہی شمولیت اختیار کی ہے۔اس پروجیکٹ کے تحت ٹھیکہ دار مزدوروں کو یومیہ اجرت کے حساب سے ادائیگی کرتے ہیں اور یوں درجنوں کنبوں کا چولہا جلا رہتا ہے۔
متعلقین کواگست2019کے اُس حکومتی فیصلے کا سخت گلہ ہے جس میں کشمیر کے اندر موجود سیاحوں کو نکلنے کیلئے کہا گیا تھا۔متعلقین اس لئے نالاں ہیں کیونکہ بقول اُنکے مذکورہ فیصلے کے کانٹے اُنہیں ابھی تک چبھ رہے ہیں۔ اکثر شکاراو ہاوس بوٹ والوں کا کہنا ہے کہ اُس سرکاری فیصلے کے بعد سے وادی کا سیاحتی شعبہ سدھرنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور مذکورہ شعبہ اب بہت ہی حد تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ اتنا محدود کہ سردیوں میں جو بھی سیاح کشمیر آنے کے بارے میں سوچتا ہے تو اُس کے ذہن میں صرف گلمرگ ہوتا ہے۔اس صورتحال میں اگرموسم کی شدت پسندی کے ہاتھوں سرما میں ڈل جھیل بھی منجمد ہوتا ہے تو اس کو بھی سرمائی سیاحت کے طور استعمال کرنے میں کیا حرج ہے؟لیکن بے شک اس کاانحصار موسم پر ہے،ڈل جھیل ہر سال یو ں ہی منجمد نہیں ہوسکتا ہے اور اگر آج کی طرح ہی اس کی اُوپری سطح جم بھی گئی تو اس پر سرگرمیاں انجام دینا تو دور، چلنا بھی خطرے والی بات ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ ڈل جھیل یا اس کے آس پاس سیاحتی دلچسپیاں پیدا کرنے کے اور بھی طریقے ہیں جن میں خطرہ بھی لاحق نہیں ہے اس لئے اس آبی ذخیرے کے جم جانے سے سیاحت کی اُمیدیں باندھنا عبث ہے۔البتہ اگر ماہرین اور متعلقہ محکمہ چاہے تو ایک آدھ مصنوعی جھیلیں تیار کرکے اُنہیں سرمائی سیاحت کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔