محمد بشارت
کوٹرنکہ //آزادی کے بعد طویل انتظار کے بعد بالآخر ضلع راجوری کے کوٹرنکہ سب ڈویژن کے دور افتادہ علاقے بدھل کے عوام کو اپنا پہلا منی ہائیڈرو پاور (ایم ایچ پی) پروجیکٹ ملنے جا رہا ہے۔بدھل منی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ قصبہ گبّر کے قریب بْدھل–گلیر نالے پر تعمیر کیا جائے گا، جس سے نہ صرف بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ علاقے کی مجموعی ترقی کو بھی نئی سمت ملے گی۔ یہ پروجیکٹ بْدھل کے لئے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ علاقہ برسوں سے بنیادی سہولیات، خصوصاً بجلی کی قلت سے دوچار رہا ہے۔جموں و کشمیر انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی اور محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے ایگزیکٹو انجینئر کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ خط کے مطابق ضلع راجوری میں بْدھل ہائیڈرو الیکٹرک پاور اسٹیشن کا کام اب الاٹ کر دیا گیا ہے۔ یہ 1.5 میگاواٹ کا پاور اسٹیشن انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسر (آئی پی پی) موڈ کے تحت تیار کیا جائے گا۔
اسی سلسلے میں پروجیکٹ کے آغاز سے قبل مختلف متعلقہ محکموں سے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ قانونی اور انتظامی تقاضے مکمل کئے جا سکیں۔یہ پروجیکٹ حکومتِ جموں و کشمیر کی مائیکرو اور منی ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی ترقی سے متعلق پالیسی-2011 کے تحت آتا ہے، جو ایک سرکاری حکم کے ذریعے نافذ کی گئی تھی۔ اس پالیسی کا مقصد خطے میں قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا اور دور دراز علاقوں میں بجلی کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت جے کے ای ڈی اے نے جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 35 ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ کی نشاندہی کی تھی، جن میں بْدھل کا یہ پروجیکٹ بھی شامل تھا۔ تاہم، شناخت کے باوجود بْدھل- II منی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کئی برسوں تک تعطل کا شکار رہا۔مارچ 2023 میں جاری ہونے والی ایک آڈٹ رپورٹ کے مطابق اس پروجیکٹ کو ’شناخت کے بعد کوئی کارروائی نہیں‘ کے زمرے میں رکھا گیا تھا، جس کا مطلب یہ تھا کہ یہ نہ تو تعمیر کے مرحلے تک پہنچ سکا اور نہ ہی ٹینڈرنگ کے عمل میں شامل ہو پایا۔ اس تاخیر نے علاقے کے عوام میں مایوسی کو جنم دیا تھا، جو طویل عرصے سے بجلی کے ایک مستقل اور پائیدار ذریعے کے منتظر تھے۔اب صورتحال میں مثبت تبدیلی اس وقت آئی جب جے کے ای ڈی اے نے ’بْدل نالہ (دریائے چناب کی معاون ندی) پر بدھل تحصیل، ضلع راجوری میں آئی پی پی موڈ کے تحت بدھل- II ہائیڈرو الیکٹرک پاور اسٹیشن کی ترقی کے عنوان سے چیف انجینئر، محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول، جموں کو باضابطہ طور پر این او سی کے لئے خط ارسال کیا۔ اس اقدام کو پروجیکٹ کی عملی شروعات کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔اس پیش رفت کا سہرا بڑی حد تک بْدھل کے ایم ایل اے جاوید اقبال چوہدری کو دیا جا رہا ہے، جنہوں نے اس طویل عرصے سے رکے ہوئے منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کیں۔ مقامی عوام اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایم ایل اے کی دوراندیش قیادت اور مسلسل پیروی کے نتیجے میں ہی یہ ممکن ہو سکا کہ بْدھل جیسے دور افتادہ علاقے کو آخرکار اس اہم پروجیکٹ کی شکل میں ایک بڑا تحفہ ملے۔سماجی کارکن کبیر راتھر نے اس پیش رفت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروجیکٹ بدھل میں پائیدار بجلی کی پیداوار، مقامی روزگار کے مواقع اور طویل مدتی ترقی کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ منی ہائیڈرو پاور اسٹیشن نہ صرف توانائی کے شعبے میں خود کفالت کو فروغ دے گا بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے بھی کھولے گا۔علاقے کے لوگوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس پروجیکٹ کی تکمیل سے بْدھل اور اس کے اطراف کے دیہات میں تعلیمی اداروں، صحت مراکز اور چھوٹے کاروباروں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ برسوں کی محرومی کے بعد یہ منصوبہ ان کے لیے ترقی اور خوشحالی کی نئی کرن ثابت ہوگا، اور وہ دن دور نہیں جب بْدھل توانائی کے میدان میں ایک مثالی علاقہ بن کر ابھرے گا۔