سرینگر// پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں حالات کافی بہتر ہیں اوراب بندوق اور پتھر کو کتابوں اور قلم سے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوچکا ہے اور لوگ اب تشدد کے بجائے امن کو ترجیح دیں رہے ہیں ۔ سرینگر میںمنعقدہ’ رن فار یونیٹی‘ تقریب پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پولیس سربراہ نے کہا کہ حالیہ کچھ تشدد کے واقعات کے بعد اگرچہ صورتحال کچھ حد تک بگڑ گئی تھی تاہم اب جموں کشمیر میں دوبارہ سے حالات معمول پر لوٹ آئے اور حالات کافی بہتر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے تشدد کو خیر آباد کہہ کر امن اور تعمیر و ترقی کو ترجیح دی ہے اور اب جموں کشمیر میںلوگ امن چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ تشدد آمیز واقعات پیش آئے تھے جس کی عوام نے بڑے پیمانے پر مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ اب حالات بدل چکے ہیں اور جموں کشمیر پولیس یا فوج کی جانب سے جو بھی پروگرام منعقد ہو رہے ہیںان میںعوام خاص طور پر نوجوانوں کی بھاری شرکت ہوتی ہے جس کی تازہ مثال آج دیکھنے کو ملی ۔ انہوں نے کہا کہ اس سب سے ثابت ہوتا ہے کہ جموں کشمیر کی عوام خاص طور پر یہاں کا نوجوان اب تعمیر و ترقی چاہتا ہے اور وہ تشدد سے پہلے ہی تنگ آچکے ہیں ۔ سرگرم جنگجوئوں کو ہتھیار ڈال کر مین اسٹریم میں آنے کی اپیل کرتے ہوئے دلباغ سنگھ نے کہا کہ جو بھی بندوق اٹھاتاہے وہ نہ صرف اپنی زندگی کھو بیٹھتا ہے بلکہ والدین کی مرضی کے خلاف کام کرنے کے علاوہ سماج کے خلاف بھی کام کر تے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جن ہاتھوں میں بندوق اور پتھر ہے ان میں قلم اور کتابیں ہوں تاکہ جموں کشمیر کو تشدد کے بجائے امن اور تعمیر و ترقی کے راستے پر گامزن کیا جائے، اور یہاں کا نوجوان اپنے مستقبل کو سنوانے میں ترجیح دے ۔ انہوںنے کہا کہ میں مقامی نوجوانوں،جنہوں نے بندوق اٹھائی ہے، سے اپیل کر رہاہوں کہ وہ تشدد کا راستہ چھوڑ کر مین اسٹریم کے دائرے میں آ جائیں تاکہ انہیں ایک بہتر انسان بننے اور قوم کی خدمات کرنے کا موقعہ فراہم ہو سکے ۔