یو این آئی
نئی دہلی// ہندوستان کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ 2025 کے 650 ارب ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 2047 تک 5.8 لاکھ کروڑ ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ اندازہ صنعتی تنظیم فکی اور مارکیٹ ریسرچ و مشاورتی فرم کے پی ایم جی کی ایک رپورٹ میں لگایا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2034 تک 906 ارب ڈالر کے نئے گھروں کی تعمیر کیے جانے کا امکان ہے اور 2028 تک 410 لاکھ مربع فٹ ریٹیل کاروبار کی نئی جگہ تیار ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریئل اسٹیٹ سیکٹر تیزی سے جدید بن رہا ہے اور مصنوعی ذہانت کو اپنانے کی سطح 2023 کے 5 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 91 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ یہ رپورٹ 19ویں فکی ریئل اسٹیٹ سمٹ میں آج جاری کی گئی ہے۔
اس کا عنوان ‘فکی-کے پی ایم جی رپورٹ – ہندوستان کے ریئل اسٹیٹ منظر نامے کا نیا تصور تھا۔اس میں کہا گیا ہے کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر ایک بڑی تبدیلی کے دور میں داخل ہو رہا ہے، جس میں ٹیکنالوجی تیزی سے یہ طے کر رہی ہے کہ جائیدادوں کی ترقی، مارکیٹنگ اور لین دین کیسے کیا جائے۔ ریئل اسٹیٹ روزگار کی فراہمی، سرمائے کی تشکیل اور شہری ترقی میں سب سے بڑے شراکت داروں میں سے ایک بنا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں اس مارکیٹ کے وسیع امکانات ہیں اور یہ 2047 تک بڑھ کر 5.8 ٹریلین (5.8 لاکھ کروڑ ڈالر) سے بھی اوپر پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔سمٹ میں دہلی ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی (ریرا) کے چیئرمین مسٹر آنند کمار نے تمام متعلقہ فریقین سے ہندوستانی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو مزید مضبوط بنانے، اس کی ترقی میں تیزی لانے اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے مل کر کام کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے خریداروں اور فروخت کنندگان دونوں کے درمیان ریرا ایکٹ کے بارے میں مزید بیداری کی ضرورت پر زور دیا۔