جموں// محکمہ صحت میں مستقل بنیادوں پرتعینات ملٹی پرپز ورکرس (ایم پی ڈبلیو)ورکروں کی مانگوں کے حق میں احتجاج گزشتہ روز50ویں روزبھی جاری رہی۔ان ورکروں کی مانگوں میں سی ایس ایس تنخواہوں کو فنڈنگ سورس سے غیرمنسلک کرنا، مارچ 2018 سے واجب الاداتنخواہوں کی واگزاری ، ایف ایم پی ایچ ڈبلیوکوایل ایچ وی کے طورپر ڈی پی سی کے دوران ترقی دینا،ڈی پی سی میٹنگ جوپانچ سالوں سے منعقدنہیں کی گئی ہے منعقدکرنا۔ محکمہ صحت کے دیگرورکنگ کیٹاگریزملازمین کی طرز پرورکروں کے کام کاتعین کرنا، ایف ایم پی ایچ ڈبلیوکی اسامی کواینالوجی آف فارمسسٹ لیب،ٹیک ۔ایکسرے ٹیک، ڈینٹل ٹیک وغیرہ کے طورپراپ گریڈ کرنا،ایچ ایل ویز کی اسامیاں نئے پرائمری ہیلتھ سنٹروں میں معرض وجودمیں لانا،ورکروں کی سینارٹی لسٹ محکمہ کی ویب سائٹ پرشائع کرناوغیرہ شامل ہیں۔احتجاج کے پچاسویں دن ورکروں نے کہاکہ ملٹی پرپز ورکرس (ایم پی ڈبلیو) عرصہ دراز سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ان ورکروں کے مطابق وہ پچھلے کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں اور اس وجہ سے ان کے معمولات زندگی بالکل متاثر ہو کر رہ گئے ہیں۔ احتجاج کے دوران انہوںنے کہاکہ یہ پہلی بار نہیں کہ انہیں اتنے ماہ تک تنخواہوں سے محروم رکھا گیا ہے بلکہ اس سے قبل بھی محکمہ ان کو کئی کئی ماہ تک تنخواہوں سے محروم رکھ کر ان کے لئے پریشانی کھڑی کرتا رہاہے۔انہوں نے کہا کہ وہ لوگ اپنا کام پوری لگن اور ایمانداری سے انجام دیتے ہیںلیکن اس کے عوض ان کی تنخواہیں ہی روک دی جاتی ہیں۔مقررین نے کہا کہ ملازموں کا سارا دارو مدار ان کی ماہوار تنخواہوں پر ہوتا ہے اور جب ان کی یہ تنخواہیں روک دی جاتی ہیں تو ان کے گھروں کا سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے،یہاں تک کہ چولہے بھی نہیں جل پاتے ۔انہوں نے ریاستی سرکار خصوصی طور پر وزیر صحت سے اپیل کی کہ وہ محکمہ صحت کے ایم پی ڈبلیو ملازموں کی بقایا جات واگذار کریں اوراس بات کو یقینی بنایاجائے کہ مستقبل میں کبھی انہیں تنخواہوں کیلئے پریشان نہ ہوناپڑے ۔