عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//جموں و کشمیر ایمپلائز کوآرڈی نیشن کمیٹی (جے کے اِی سی سی) کے ایک وفد نے کل وزیر برائے تعلیم، سماجی بہبود، صحت وطبی تعلیم سکینہ اِیتو سے ملاقات کی اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت اور وزیر تعلیم کا بروقت اور ہمدردانہ مداخلت پر شکریہ اَدا کیا جس کے تحت جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری میں برسرِ خدمت اساتذہ کے لئے ٹیچر ز ایبلٹی ٹیسٹ (ٹی اِی ٹی) کی شرط سے متعلق حکم نامے کو مؤخر رکھا گیا۔جے کے اِی سی سی کے سینئر نمائندوںنے وزیرموصوفہ کو حکم نامہ جاری ہونے کے بعد ہزاروں حاضر سروس اساتذہ میں پائی جانے والی وسیع پیمانے پر تشویش اور بے چینی سے آگاہ کیا۔
اْنہوں اِس بات پر زور دیا کہ بہت سے تجربہ کار اَساتذہ، جو برسوں سے دْور دراز اور دْشوار گزار علاقوں میں وقف خدمت انجام دے رہے ہیں، اس ہدایت کے اَپنے پیشہ ورانہ استحکام اور حوصلے پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے فکرمند تھے۔سکینہ اِیتو نے وفد کو یقین دِلایا کہ محکمہ تمام شراکت داروں سے مشاورت کے لئے تیار ہے تاکہ تعلیمی شعبے میں اِصلاحات کو منصفانہ، شفاف اور طلبا و اَساتذہ دونوں کے وسیع تر مفاد میں عملایاجا سکے۔اْنہوںنے وفد سے کہا کہ وہ معیاری تعلیم کے فروغ اور مثبت اِصلاحات کو عملانے کے لئے محکمہ کے جاری اقدامات میں تعاون فراہم کریں۔ اْنہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور ملازمین کے نمائندوں کے درمیان اس نوعیت کی باہمی مشاورت آئندہ بھی جموں و کشمیر میں تعلیمی شعبے کی مجموعی ترقی کے لئے جاری رہے گی۔وزیر موصوفہ نے بتایا کہ حکم نامہ واپس لینے کے فیصلے سے تدریسی کمیونٹی کو بے حد راحت ملی ہے اور حکومت کی جانب سے ملازمین کے مفادات کے تحفظ کے عزم پر اْن کا اعتماد مزید مستحکم ہوا ہے۔