پاور پروجیکٹوں میں رکاوٹ ڈالنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے:وزیر اعلیٰ
سرینگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں زیر تکمیل پاور پروجیکٹ قومی اہمیت کے تعمیراتی کام ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان میں رکاوٹ ڈالنے والے کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ان کا یہ تبصرہ کشتواڑ میں 850 میگاواٹ کے رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ کی تعمیر سے وابستہ ایک سینئر افسر کے کاموں میں مداخلت کرنے کا الزام لگانے والے بی جے پی کے ایک مقامی ایم ایل اے پر الزام عائد کرنے کے چند دن بعد آیا ہے، اور خبردار کیا تھا کہ مسلسل رکاوٹیں کمپنی کو پروجیکٹ سے باہر نکلنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔عبداللہ نے یہاں ایک تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں کو بتایا، اس میں کوئی (سیاسی)مداخلت نہیں ہونی چاہیے اور (اگر کوئی ہے) تو اسے بہت سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔4 دسمبر کو میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈکے جوائنٹ چیف آپریٹنگ آفیسر ہرپال سنگھ نے دعویٰ کیا کہ بعض سیاستدانوں اور ان کے مقامی حامیوں نے، جو نہ اس منصوبے کے ملازم ہیں اور نہ ہی اس پروجیکٹ کے کارکن ہیں، پروجیکٹ افسران کو ناجائز مطالبات کو پورا کرنے کے لیے دبا ئواور دھمکیاں دینے کی کوشش کی، بشمول کنٹریکٹ دینے اور بڑے پیمانے پر بھرتی کرنے، جب کہ وہاں کوئی جگہ خالی نہیں ہے۔
عبداللہ نے کہا، “اگر یہ الزام میرے کسی وزیر پر لگایا جاتا تو اے سی بی (اینٹی کرپشن بیورو) چھاپے مار چکی ہوتی، یہ قومی اہمیت کے منصوبے ہیں، اور کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے” ۔انہوں نے الزام لگایا کہ اب تک صرف ایک ایم ایل اے کا نام لیا جا رہا ہے، لیکن دو اپوزیشن ایم ایل اے کشتواڑ ضلع کے تمام پروجیکٹوں میں مداخلت کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا’’ میں نے اسی لئے کہا تھا کہ جو ادارے منتخب حکومت کے پاس پہلے تھے، ہمیں واپس دیئے جانے تھے‘‘۔عمر نے کہا ’’ انکے پاس محکمہ بجلی کا قلمدان بھی ہے، وہ پاور منسٹر بھی ہیںلیکن ابھی تک بجلی کا محکمہ انکے پاس نہیں دیا گیا ہے‘‘۔انکا کہنا تھا کہ تبھی وہ بار بار اس بات پر زور دیے رہتے ہیں کہ جو محکمے انکی حکومت کے پاس ہونے چاہئیں تھے وہ نہیں دیئے گئے ہیں۔پہلگام واقعہ سے متعلق این آئی اے کی جانب سے چارج شیٹ داخل کرنے کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ این آئی اے کا کام تھا تحقیقات کرنا، اور تحقیقات ہوچکی،اب چارج شیٹ پیش ہوگا اور کیس عدالت میں لڑا جائیگا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ سزا دینا میرا یا کسی اور کا کام نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جاتا ہے،یہ کام عدالت پر چھوڑا جانا چاہیے، کون گناہ گار ہے اور کون بے گناہ ہے، اسکے لئے قانون ہے، عدالت ہے، اور عدالت فیصلہ کرے گی۔سیاحت کے محاذ پر، عمر نے کہا کہ حال ہی میں کشیدگی کی وجہ سے سیاحوں کی منسوخی ہوئی ہے، کرسمس اور نئے سال سے قبل اس شعبے کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک برف نہیں پڑے گی سیاحوں کا اچھا خاصا طبقہ یہاں نہیں آئے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی طرف سے تمام کوششیں کررہے ہیں۔وزیراعلی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جہاں سیاحت کا بیانیہ اہم ہے، حکومت کو حکمرانی اور انتظامیہ پر لوگوں کا اعتماد بحال کرنے کو یکساں ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا”ایڈونچر ٹور آپریٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا جلد ہی سرینگر میں اپنا سالانہ کنونشن منعقد کرے گی، جو کہ ایک مثبت قدم ہے، ہمیں سیاحت کے فروغ اور بنیادی ڈھانچے کو بحال کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے،” ۔