جموں //نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین نے اپنی مانگوں کو لے کرجموں پریش کلب کے باہراپنا احتجاج پانچویں دن بھی جاری رکھا ۔اس دوران مظاہرین نے اپنی مانگوں اور ریاستی انتظامیہ کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کینڈل مارچ بھی کی ۔NHMملازمین نے ریاستی انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ان کی مانگوں کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جس کی وجہ سے ملازمین کو مجبور ہو کر احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑرہاہے ۔اس سلسلہ میں گزشتہ روز ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کی جانب سے ملازمین کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ان کی جائز مانگوں کو جلداز جلد حل کیا جائے گا لیکن اس کے بعد ملازمین نے کسی بھی عملی کارروائی تک اپنی ہڑتال کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔یاد رہے کہ ملازمت کی باقاعدگی کے مطالبہ کولے کرمحکمہ صحت میں کام کررہے نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین کی طرف سے شروع کی گئی ریاست گیرہڑتال کو پہلے 48گھنٹوں تک رکھا گیا تھا لیکن ریاستی انتظامیہ کے طرف سے ختیار کرہ رویہ کی وجہ سے ملازمین نے اپنی ہڑتال کو بڑھاتے ہوئے 20جنوری تک کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔اس دوران ملازمین نے جو ائنٹ کو آر ڈنیشن کمیٹی کے بینر تلے اپنی مانگوں کو لے کر ملازمین نے جموں پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے حکومت پر امتیازی سلوک رواں رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مارچ 2017میں ان کی پندرہ روز ہڑتال کے بعد حکومت کی طرف سے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جسے دو ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرناتھی تاہم آج دو سال ہونے کوہیں مگر یہ رپورٹ پیش نہیں ہوسکی ۔ان کاکہناتھاکہ اس کمیٹی نے ان کے ساتھ انصاف کرنے کے بجائے تاخیری حربے اپنائے اور کوئی مثبت کام نہیں کیا ۔ این ایچ ایم ملازمین نے مزید بتایاکہ بیس دسمبر 2017سے پھر سے انہوں نے ریاست گیر ہڑتال شروع کی جو 22جنوری کو اس وقت کے وزیر صحت اور شعبہ صحت کے پرنسپل سیکریٹری کی اس یقین دہانی پر ختم کی گئی کہ ان کے مطالبات پورے کئے جائیں گے لیکن ابھی تک ریاستی انتظامیہ کی جانب سے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔