نائب وزیر اعلیٰ نے پلوامہ اور شوپیاں کے برفانی علاقوں کا دورہ کیا
مشتاق الاسلام
پلوامہ // نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری نے بدھ کے روز سرکاری ملازمین کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی بھی سرکاری ملازم نے سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، مخصوص افراد کی خوشامد کرنے یا منتخب عوامی نمائندوں کو نظرانداز کرنے کی روش اختیار کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حالیہ برف باری کے بعد پلوامہ میں حالات کا جائزہ لینے کے بعد موصوف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ قانون ساز اسمبلی کے ارکان حکومت کا حصہ ہیں اور آئینی عہدوں پر فائز ہیں، اس لیے ان کو اعتماد میں لینا ہر سرکاری ملازم کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا،‘‘ہمیں کبھی بھی کسی ملازم کے خلاف کارروائی کرکے خوشی نہیں ہوتی، لیکن میں میڈیا کے ذریعے تمام سرکاری ملازمین کو واضح پیغام دینا چاہتا ہوں، آج عمر عبداللہ اقتدار میں ہیں اور آپ ان ہی کی حکومت کا حصہ ہیں۔ جب ایم ایل ایز آپ سے کوئی کام کہیں تو یہ یاد رکھیں کہ آپ آئینی دائرے کے تحت کام کر رہے ہیں‘۔’چودھری نے الزام عائد کیا کہ کچھ سرکاری ملازمین سیاست میں ملوث ہو کر عوام اور ایم ایل ایز سے تال میل رکھنے کے بجائے چند منتخب افراد کے گرد گھوم رہے ہیں، جو ناقابلِ قبول ہے۔نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ اب تک حکومت کی جانب سے جو کارروائیاں کی گئی ہیں وہ خوشامدی افسران کے خلاف کی گئی ہیں، جبکہ ایماندار اور محنتی افسران کی حوصلہ افزائی اندرونی طور پر کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ‘‘ہمیں ایسے افسران چاہئیں جو فائلوں کے بجائے زمین پر کام نظر آنے دیں۔سریندر چودھری نے کل پلوامہ اور شوپیاں اضلاع کے برفباری کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ جاری ترقیاتی کاموں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک وسیع دورہ کیا اور متعلقہ محکموں کے سربراہان کے ساتھ سلسلہ وار جائزہ میٹنگیں کیں۔ نائب وزیر اعلیٰ نے کئی برف سے متاثرہ علاقوں بشمول پلوامہ، راج پورہ،قصبہ یار، چیک بدری ناتھ، شادی مرگ ، شوپیاں، امام صاحب، میمندر اور آس پاس کے برف سے لپٹے علاقوں کا دورہ کرکے برف صاف کرنے کے کاموں اور ضروری خدمات کی بحالی کا خود جائزہ لیا۔انہوں نے متعلقہ محکموں کو سخت ہدایات جاری کیں کہ وہ سڑک کے رابطے کی فوری بحالی، بلا تعطل ضروری خدمات اور تمام ترقیاتی کاموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔ نائب وزیر اعلیٰ نے مختلف عوامی وفود سے بھی ملاقات کی اور ان کی شکایات کو تحمل سے سنا۔ انہوں نے انہیں یقین دلایا کہ ان کے تمام حقیقی مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔