ملائیشیا//کوالالمپور میں ہزاروں مسلمان شہریوں نے حکومت کی جانب سے مالے قوم کو حاصل مراعات کے ممکنہ خاتمے کی کوشش کے خلاف احتجاج کیا۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال مئی میں وزیراعظم مہاتیر محمد اور اتحادی حکومت کی کامیابی کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی معاونت سے ملائیشیا کے عوام کا یہ پہلا اجتماع تھا۔ ریلی کو ملائیشیا کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل تھی جس کا بنیادی مقصد حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کے نسلی امتیاز کے خلاف معاہدے (آئی سی ای آر ڈی) پر دستخط کرنے کے منصوبے پر احتجاج تھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ معاہدے کے نتیجے میں مالے قوم کو دہائیوں سے حاصل مراعات کا خاتمہ ہوجائے گا تاہم حکومت کی جانب سے یہ منصوبہ موخر کیا گیا جس کے بعد یہ احتجاج جشن میں تبدیل ہوگیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے ریلی کی اجازت دی تھی کیونکہ یہ جمہوریت کا حصہ ہے لیکن کسی بھی تشدد سے خبردار کردیا گیا تھا اسی لیے یہ ریلی پولیس کی سخت سیکیورٹی میں ہوئی اور اختتام بھی پرامن انداز میں ہوئی۔ سابق وزیراعظم نجیب رزاق سمیت اپوزیشن رہنماوں نے بھی ریلی میں شرکت کی اور عوام سے اظہار یک جہتی کیا جبکہ وہ اپنے کرپشن کے الزامات کا بھی سامنا کررہے ہیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ کم ازکم 50 ہزار افراد احتجاج میں شامل تھے جن میں سے اکثر نے سفید رنگ کی ٹی شرٹ اور ہاتھوں پر بینڈز پہنے ہوئے تھے جن میں یہ الفاظ درج تھے کہ ہم ‘آئی سی ای آر ڈی کو مسترد’ کرتے ہیں۔ احتجاجی مارچ تین مقامات سے شروع ہوا اور ‘مالے زندہ باد’ اور ‘کچل دو آئی سی ای آر ڈی’ کے نعرے لگاتے ہوئے تاریخی اسکوائر تک پہنچ گیا جہاں تقاریر کی گئیں اور پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوا۔ ایک دکان دارکا کہنا تھا کہ ‘جی ہم آئی سی ای آر ڈی کی توثیق نہیں کرتے لیکن ہم یہاں اس لیے کھڑے ہیں کیونکہ ہم اب بھی اس کے خلاف ہیں’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘یہاں تک کہ اگر حکومت کہہ چکی ہے کہ وہ اس کی توثیق نہیں کریں گے لیکن تاحال ہم تمام ملائیشیائی افراد اپنی پوری طاقت سے احتجاج کررہے ہیں’۔ یاد رہے کہ 9 موئی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں مہاتیر محمد اور ان کی اتحادی جماعتوں سے کامیابی حاصل کی تھی اور نجیب رزاق کی قیادت میں اس وقت کی حکمراں جماعت کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد سابق وزیراعظم کو کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم اس احتجاج میں نجیب رزاق کی پارٹی یونائیٹڈ نیشنل آرگنائزیشن اور ملائیشیا اسلامک پارٹی کے ہزاروں اراکین نے شرکت کرکے ان کی حمایت کی جبکہ ملک کی 13 میں سے 2 ریاستوں میں ان کی حکومت قائم ہے۔
this is test