مینڈھر//خطہ پیر پنجال کے لوگوںنے ریاستی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وادی کشمیر سے ملانے والی مغل شاہراہ کو گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بحال کیاجائے ۔واضح رہے کہ یہ سڑک پچھلے کچھ سے برفباری کی وجہ سے بند پڑی ہے اور راجوری پونچھ کے لوگوں کو کشمیر پہنچنے کیلئے براستہ جموں جموں جاناپڑتاہے جو نہ صرف تکلیف دہ سفر ہے بلکہ کافی مہنگا بھی ۔ان کا کہنا تھا کہ اس بار شاہراہ پر زیادہ برف بھی نہیں پڑی اور اس کو گاڑیوں کی آمدروفت کے لئے کھولنا آسان ہے تاہم اس کیلئے سرکار کی طرف سے اقدامات کرنے ہوںگے ۔مینڈھر کے لوگوں کاکہناہے کہ مغل شاہراہ بارہ مہینے کھلی رہ سکتی ہے جس کو ایک متبادل روڈ کے طور پر استعمال کیاجاسکتاہے تاکہ جموں سرینگر روڈ سے بوجھ کم کیاجاسکے اوراس کے پسیوں کی وجہ سے بند ہوجانے پر روابط جڑے رہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ مغل شاہراہ پر اب زیادہ پسیاں بھی نہیں آتی اوراس پر گاڑی چلاناآسان ہے ۔مقامی لوگوں نے کہاکہ سرکار جان بوجھ کر خطہ پیر پنجال میں بسنے والے لوگوں کے ساتھ زیادتی کررہی ہے اور مغل شاہراہ کو توجہ نہیں دی جارہی ۔ان کاکہناہے کہ خطہ پیر پنجال کے سینکڑوں لوگ کشمیر میں ملازمت کررہے ہیں جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں بچے اپنی پڑھائی کشمیر میں جاری رکھے ہوئے ہیں جن کو آنے جانے میں سخت مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے اور چند گھنٹوں کا سفر کئی دنوں میں طے ہوتاہے ۔ان کاکہناتھاکہ سرکار مارچ کے مہینے میں ہی سڑک کو گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے کھول دے تاکہ لوگ آسانی سے کشمیر آجاسکیں ۔