پرویز مانوس
ارون کمار نے گھڑی پر نظر ڈالی،رات کے ساڑھے دس بج رہے تھے۔ پولیس اسٹیشن کی زرد روشنی میں اس کا چہرہ تھکن اور خوف کے ملے جلے رنگ سے بھرا ہوا تھا۔ موبائل اس کے کان سے چپکا ہوا تھا؛ ایک کال ختم ہوتی تو دوسری شروع ہوجاتی۔ اس کے ساتھ کھڑی شیلا کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ وہ بار بار “گورو” کے دوستوں، ان کے والدین، پڑوسیوں جو بھی اُسے جسے یاد آتا سب کو فون کرچکی تھی لیکن ہر طرف سے ایک ہی جواب ملتا: “نہیں بہن جی، گورو یہاں نہیں آیا۔”
سارے اسی تذب ذب میں مبتلا تھے کہ آخر چھ سال کا معصوم بچہ کہاں جاسکتا تھا؟
اسکول کے پرنسپل بھی اب پولیس اسٹیشن پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے گھبرائی ہوئی آواز میں بتایا، “حسبِ معمول دو بجے چھٹی ہوئی تھی۔ گورو کو باقی بچوں کے ساتھ بس میں بٹھایا گیا۔ ڈرائیور کا کہنا ہے کہ اس نے علاقے کے سب بچوں کو وقت پر ڈراپ کیا- ہم نے چوکیدار سے تمام کلاس روم، لیب، اسٹور روم تک چیک کروائے لیکن وہ کہیں نہیں ملا۔”
شیلا کے ذہن میں ایک ہی منظر گھوم رہا تھا: گورو روز اسکول سے آتے ہی کہتا، “مما، مجھے کچھ کھانے کو دے دو، مجھے بہت بھوک لگی ہے!”جبکہ اسکول میں لنچ بریک ایک بجے ہوتی تھی۔
وہ اتنی دیر بھوکا کیسے رہ سکتا ہے؟ اس نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا۔ اس کی آنکھوں سے گنگا جمنا بہہ رہی تھی اور ارون اسے تسلی دے رہا تھا، مگر خود اس کا دل کانپ رہا تھا۔
آخر وہ بھی ایک باپ تھا اُسے بھی یاد آتا جب بھی شام ڈھلے ارون کمار گھر لوٹتا اور دروازہ کھلتے ہی گورو کی آواز سنائی دیتی”پاپا آگئے!”،تو اس کے دل میں ایک خاموش دعا ابھرتی: یا خدا، اس آواز کو کبھی خاموش نہ ہونے دینا لیکن آج تو جیسے اُس کی دنیا ہی لٹ چکی تھی،
پچھلے کئی دنوں سے شہر میں بچوں کے لاپتا ہونے کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ کچھ لوگ سرگوشی کرتے کہ ایک گروہ ہے جو بچوں کو اغوا کرکے ان کے ہاتھ کاٹ دیتا ہے یا آنکھیں نکال کر بھیک منگواتا ہے۔ یہ سوچتے ہی شیلا کے جسم میں کپکپی دوڑ جاتی۔ پولیس نے شہر سے باہر جانے والے راستوں پر ناکے لگا دیئے تھے۔ سنیچر کی رات، پھر اتوار کی چھٹی، ر گزرتا لمحہ قیامت بن رہا تھا۔
گھر میں رشتہ دار جمع تھے، مگر کسی کو کھانے کا ہوش نہ تھا۔ اتوار کا پورا دن تگ و دو میں گزر گیا۔ نہ پولیس کو کوئی سراغ ملا نہ اسکول کے عملے کو۔ شیلا کو بار بار بے ہوشی کے دورے پڑے۔ ہوش آتا تو وہ ایک ہی جملہ دہراتی: کہاں ہے میرا گورو؟ کہاں ہے میرا گورو؟
سوموار کی صبح فضا میں ایک عجیب سا بوجھ تھا۔ اسکول کے بچے بھی سہمے ہوئے تھے۔ اساتذہ کی نظریں دروازے پر جمی تھیں جیسے ابھی گورو مسکراتا ہوا اندر داخل ہوجائے گا۔ بس ڈرائیور حسبِ معمول ٹرانسپورٹ یارڈ پہنچے۔ ان میں شمبھو بھی تھا-سفید مونچھوں والا پرانا ڈرائیور، جو اس اسکول سے بیس سال سے وابستہ تھا۔
یارڈ میں بسوں کی قطار خاموش کھڑی تھی۔ رات کی نمی سے شیشوں پر دھند جمی تھی۔ شمبھو نے ایک بس کے پاس سے گزرتے ہوئے اچانک کچھ سنا-جیسے کسی نے ہلکی سی دستک دی ہو۔
اس نے رک کر کان لگایا -ٹھک… ٹھک… ٹھک…
ٹھک ٹھک ٹھک ۔۔۔۔۔۔
اس کا دل زور سے دھڑکا۔ وہ آواز اس بس کے اندر سے آرہی تھی جو سنیچر کو آخری روٹ پر گئی تھی۔ شمبھو نے شیشے کے پار جھانکا تو ایک چھوٹا سا چہرہ شیشے سے لگا ہوا تھا، آنکھیں سرخ، بال بکھرے، اور ہونٹ کپکپاتے ہوئے۔
“گورو!” اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
بچہ شیشے کو زور زور سے پیٹ رہا تھا۔
شمبھو نے فوراً دوسرے ڈرائیور کو آواز دی،
چابی! جلدی لاک کھولو!” ڈرائیور ہڑبڑا کر آیا، ہاتھ کانپ رہے تھے۔ لاک کھلتے ہی دروازہ چرچراہٹ کے ساتھ کھلا۔ گورو لڑکھڑاتا ہوا باہر نکلا، آنکھوں میں خوف، چہرے پر آنسوؤں کی لکیریں۔ شمبھو نے اسے گود میں اٹھایا تو وہ بے ہوش ہوگیا۔
اس خبر نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ پولیس فوراً پہنچی۔ گورو کو اسپتال لے جایا گیا۔
���
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر
موبائل نمبر؛9419463487