موجودہ دور تحقیق و تدقیق کا دور ہے۔ ہر علمی و عملی کاوش کی پشت پر تحقیق کی روح کارفرما نظر آتی ہے۔ماضی سے لیکر تاہنوز تحقیق کامحرکہ(motive) انسان کے اب تک کے علمی سفر میں ناگزیر رفاقت کی زمہ داری نبھاتاآیا ہے اور برابر نبھاتا چلے جا رہا ہے۔ہر شعبہ علم میں تحقیق و تدقیق علم کے سمندر میں تیرنے ،غوطہ زنی کرنے اور وہاں سے علم کے موتی سمیٹنے کا واحدذریعہ ہے۔یہ تحقیق ہی ہے جس نے انسان کو انفس کی باریک سیر سے لیکر آفاق میں سپرسونک(supersonic)سیر کا حامل بنایا ، جس نے وسعتوں اور باریکیوں کے مابین ربط قائم کیا،جس نے ماضی ،حال اور مستقبل کو ایک رشتے میں منسلک کیا،جس نے انسان کی صلاحیتوں کی تاج پوشی کی اور جس نے انسان کے ذہن پر اس کی اصل حیثیت آشکار کرنے کا رول ادا کیا۔انسانی علم میں تحقیق کا وہی مقام ہے جیسے روح کا انسانی بدن میں۔ جس شعبہ علم میں تحقیق کا فقدان ہو ،وہ شعبہ علم بیکار اور بے جان خطوط کا مجسمہ بن کر آخر کار الٹیمولوجی کا موضوع بنتا ہے۔ultimology علم کی ایک نئی شاخ ہے جس کے تحت صرف اْن علوم پر تحقیق کی جاتی ہے جو یا تو اپنا وجود بالکل کھو چکے ہیں یا کھونے کی زد میں ہیں۔ultimology کے دائرے میں آنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ شعبہ علم تحقیق کی روح سے خالی ہے اور اب اس کے لئے تازہ دم رہنا ناممکن بن چکا ہے۔اس لئے تحقیق کی روشنی سے متعلقہ شعبہ علم کو منور کئے رکھنااس کوزندہ رکھنے کا دائمی نسخہ ہے۔ ہر شعبہ علم تحقیق کے کام سے اپنی پہچان برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ عملی دنیا میں افادیت کے جوہر ظاہر کرتا ہے۔اسی لئے شعبہ علم میں محققین کی کثرت اس کو زندہ و متحرک رکھنے کی قوت کے مترادف ہے اور محققین کی قلت اس کو ultimology میں دھکیلنے کا پہلا عنصر ہے۔اگرچہ عدم تحقیق یا قلتِ محققین کے علاوہ دیگر عناصر بھی اس سلسلے اپنا رول ادا کرتے ہیں لیکن ان تمام میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل یہی عنصر دکھتا ہے۔
علوم کے مختلف شعبہ جات میں سے سائنسی میدان میں تحقیقات نے ایک انقلابی ہلچل مچادی ، انسان کی مادی زندگی کو ایک خاص سمت میں ڈھال دیا،ایٹم اور خلا کی دنیا میں انسان کو جھونک کر حیرت انگیز حقائق معلوم کروائے ،انسانی وجود میں عقل و احساس کے مراکز کی کامیاب پیوندکاری کروائی اوراسطرح باقی علوم پر سائنس کی فوقیت کا سکہ جمایا۔یہ شعبہ علم آج کے دور میں اعلی ترقی کا معیار اور پہچان بن چکا ہے۔جس کی اصولی وجہ اس میں تحقیقات کی حیرت انگیز رفتار ہے ،جس سرعتِ تحقیق کی وجہ سے آج کے دور کو بھی سائنسی دور کہا جانے لگا ہے۔اقوام عالم کی ترقی کا معیار اس میدان میں اپنی متعلقہ تحقیق کے معیار پر مبنی ہے۔ ایک ملک کی صحت مند سائنسی تحقیق اس کی مادی ترقی کی ضامن ہے اور وہاں کی نحیف سائنسی تحقیق پسماندگی کی علت عالیہ ہے۔دور جدید میں یہ فرق واضح طور پر مشرق و مغرب میں نمایاں ہے۔
موجودہ دور کی علمی تحقیق و تدقیق میں اقوام عالم میں سے جس قوم نے سب سے زیادہ حصہ لیا اور حیرت انگیز طور پر اپنا تحقیق نامہ تحریر کیا، وہ بلا شبہ و شک مغربی قوم ہے۔گرچہ مغربی قوم کی موجودہ پیش رفت سے پہلے مسلمانوں نے تمام مروجہ شعبہ علوم میں غیر معمولی کام کیا تھا لیکن سابقہ چند صدیوں سے مغرب اپنی محنت و مشقت کی وجہ سے تحقیق و انکشاف کی گدی پر براجمان چلتا آرہا ہے۔اس کے بر عکس مسلمان تحقیق و انکشاف کے دربار میں بھی اپنی کرسی سنبھال نہ سکے اور سائنس کی کٹوری لے کر مغرب کے سامنے سوالی بن کر قیام کی پوزیشن میں کھڑے ہونے میں اپنی عزت محسوس کر رہے ہیں۔سائنس کے تئیں مسلمانوں نے جو بے رخی اختیار کی اس کا خمیازہ مسلمانوں کو اپنی شکست و حزیمت کی شکل میں اٹھانا پڑا۔دنیا کے جس خطے میں بھی مسلمانوں کو زوال کا سامنا کرنا پڑا، اس کی سب سے بڑی وجہ اگرچہ کمزور ایمان وعمل تھا لیکن سائنسی ترقی کے فقدان نے زوال کو مزید شدید کیا۔ہندوستان میں انگریزوں کے ہاتھوں اور داغستان اور پورے سنٹرل ایشیاء میں روس کے ہاتھوں مسلمانوں کی شکست کی سب سے بڑی وجہ ان کے جدید ہتھیار تھے جس کے سامنے مسلم افواج کثرت میں ہونے کے باوجود بھی مغلوب ہوئی۔
صحت مند سائنسی تحقیق دور جدید میں مغربی قوم کی ایک بہت بڑی خدمت ہے جس کے لئے یہ خراج تحسین حاصل کرنے کی مستحق ہے۔مغرب کا سائنسی تحقیق میں انقلاب برپا کرنا دیگر اقوام عالم کے لئے ایک ایسا کارنامہ تھا جس کی تعبیر کسی بھی دستیاب خواب نامہ سے ممکن نہیں تھا۔کیونکہ ایک وہ قوم جو صدیوں سے تاریک دور میں اپنی سانسیں، لی رہی تھی اس کا یکایک سائنسی انقلاب کی زد میں آکر مادی دنیا پر چھا جانا ایک خواب نما حقیقت تھی۔اس لئے مغرب سے مرعوب ہونا ان کے مقدر کا حصہ بن گیا۔ان کی سائنسی چکا چوند نے مشرق کی مرعوبیت کو اس قدر گہرا کیا کہ وہ مغربی تحقیق کے خطوط سے سر مو اختلاف کرنے کو بھی سائنسی جرم محسوس کرنے لگا۔جس کے نتیجے میں وہ مشکل ہی سے کسی خودمختار تحقیق کا آغاز کر سکا۔مشرق نے مغرب کی تحقیق سے برآمد ہونے والے مسلم سائنسی حقائق پر تحقیق کی اور جہاں تک مغرب تحقیق کرتے کرتے پہنچ چکا تھا، مشرق وہاں سے آگے ایک قدم بڑھنے میں بھی ناکام رہا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ تو مغرب کے قدموں کے نشانات کو سنوارنے ،سجانے اور برقرار رکھنے کی خدمت پر فائز ہے۔مشرق دور جدید میں اپنی ماضی کی سائنسی انکشافات کا دم بھر بھر کے اپنا نام سائنس کے فیلڈ میں نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ اس قسم کا رجحان اپنانا ترقی کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے جس کا متبادل مشرق کو حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔جیسے مسلمان" زندہ جیتے ہیں تو تمہارا نام لے لے کر "کے مترادف جابر بن حیان ،البیرونی،ابن الہیثم ،ابو القاسم الزہراوی و دیگر کا نام لیکر سائنس کے فیلڈ میں سانس لے رہے ہیں اورہندو آریہ بھاٹا ،چانکیہ ،بھاسکارہ وغیرہ کا نام لے کر اپنی ماضی کی یاد سے دل بھلائی کرتے ہیں۔ یہی دل بہلائی ہماری سائنسی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔یہ جھوٹی دل بہلائی تو ہماری غیر معیاری تحقیق کی سنگ بنیاد ہے۔ٹھیک ہے اپنے اسلاف کے کارناموں کو یاد کرنا کوئی بری بات نہیں ہے االبتہ ان کی ہی تحقیق پر اکتفاء کرنا ہماری نااہلی کی واضح دلیل ہے۔اکتفاء کے بدلے جدید ابتدا کی بنیاد ڈالنا ہمارے باوقار تشخص کی موجودگی کے لئے از حدضروری ہے۔ان تمام جملہ خامیوں کے باعث ہمارے یہاں تحقیق کا معیار اتنا گھٹیا ہے کہ پی ایچ ڈی اسکالرس کی تحقیق مغرب کی سو سالہ پرانی تحقیق کا ہم نمونہ ہوتی ہے۔وہی اصول،وہی نظریہ،وہی طریقہ اور وہی نتائج ،یہی ہے ہمارے یہاں کی تحقیق کا معیار۔سو سال کے بعد بھی وہی نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے جو قبر میں مدفون محققین اخذ کر چکے ہوتے ہیں۔میں خود سائنس کا طالب علم ہوں دوران ایم۔ ایس۔ سی میںنے ecology پر مغربی اور بھارتی مصنف کی کتاب پڑھی اور تقابلی مطالعہ کے دوران یہ محسوس کیا کہ مغربی مصنف کی کتاب اس کا ذاتی مشاہدہ ،تجربہ اور تخلیقی صلاحیتوں کا حیرت انگیز مرکب ہے اور ہندوستانی مصنف کی کتاب اس کی نقل اور پیسٹ کی مہارت کا نتیجہ ہے۔ان دو کتابوں کے مابین فرق اصل تحقیق اور نقل تحقیق کا ہے۔اس قسم کی بے شمار مثالیں آپ کو سائنسی کتابوں میں ملیں گی۔میڈیکل فیلڈ میں تو یہ حقیقت بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہے جہاںننانوے فی صد سے زائد کتابیں مغربی مصنفین کی لکھی ہوئی ہیں۔سائنس کے فیلڈ میں ہماری تحقیق کتابوں کے اوراق پر مرقوم الفاظ کو اپنے نام کرنے کی کوشش کا نام ہے اور ان کی تحقیق کائنات کے اسرار رموز کو فاش کرنے کی سعی کا نام ہے۔
اصل اور صحت مند تحقیق وہ ہوتی ہے جو خود مختارانہ مقصدیت کے تحت کچھ نیا حاصل کرنے اور علوم کے دستیاب شدہ ذخائر میں کچھ مزید داخل کرنے کی نیت سے کی جائے۔ کمزور تحقیق وہ ہوتی ہے جو پہلے سے کی گئی تحقیق پر تحقیق کرنے کی نیت سے کی گئی ہو اور جس میں جدت اور تحریک کے بدلے جامدیت کا غلبہ ہو۔ایسی تحقیق ہمیشہ اپنی پیرنٹ (parent) تحقیق کے معیار سے چند گنا کمتر ہوتی ہے۔ہمارے برصغیر میں سائنسی تحقیقات کا معیار ایسا ہی ہے۔مشرق کی بودی تحقیق کا معیا ر ایسا ہے کہ یہاں ہماری جامعات کے اندر سائنسی میدان میں لاکھوں نام نہاد محققین مغربی مصنفین کی کتابوں کی نقل کر کے زخیم پبلی کیشنز مرتب کرکے اپنا نام محققین کی فہرست میں شامل کرتے ہیں۔اگرچہ مذکورہ بالا مساعی محنت کے درجے میں کسی حد تک ایک درجہ حاصل کر سکتی ہے لیکن ٹھوس تحقیق کے میدان میں اس کا درجہ منفی حصے میں کسی پست ترین سطح کا ہو تا ہے۔ہمارے یہاں سائنسی میدان میں سائنسی تصنیفات کا ڈھیر تو ضرور لگا ہے لیکن اصل تحقیق کا کوئی نام نہیں۔ہمارے یہاں تحقیق صرف قلمی ہیر پھیر کا نام ہے لیکن مغرب میں عقل و دانش کی ورزش اور قلم کے انصاف کا نام ہے۔
(مضمون جاری ہے،اگلی قسط انشاء اللہ اگلی سوموار کو شائع کی جائے گی)