عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//نیتی آیوگ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک اوسط ہندوستانی صارف سالانہ تقریبا 12 کلوگرام خوردنی تیل استعمال کرتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والا یہ ملک اپنی 56 فیصد خوردنی تیل کی ضرورت درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے (نیتی آیوگ، 2022-23)۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مغربی ایشیا کا تنازعہ اب صرف ایل پی جی بحران تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ براہِ راست آپ کے ماہانہ بجٹ کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔
کریسل ریٹنگز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی سال میں ریفائنڈ سورج مکھی کے تیل کی کھپت میں 10 فیصد تک کمی آ سکتی ہے کیونکہ سپلائی میں رکاوٹ اور بڑھتی قیمتیں صارفین کو سستے متبادل تلاش کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ دبا دو طرف سے آ رہا ہے۔ سپلائی کے لحاظ سے شپنگ روٹس متاثر ہوئے ہیں، جہاز تنازعات والے علاقوں سے بچتے ہوئے لمبے راستے اختیار کر رہے ہیں جیسے کہ کیپ آف گڈ ہوپ کے گرد۔ طلب کے لحاظ سے بڑھتی ہوئی ریٹیل قیمتیں صارفین کو دوسرے تیلوں کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کر رہی ہیں۔
کریسل کے مطابق سورج مکھی کے تیل کی قیمت جنوری 2026 میں تقریبا 150 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 170-175 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔محکمہ امورِ صارفین کے پرائس مانیٹرنگ ڈویژن کے مطابق 2 اپریل 2026 تک پیک شدہ سورج مکھی کا تیل اوسطا 182.36 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا تھا۔ 2 مارچ 2026 کو یہی تیل 175.39 روپے میں فروخت ہو رہا تھا، جبکہ 2 اپریل 2025 کو اس کی اوسط قیمت 158.61 روپے تھی، یعنی ایک سال میں تقریبا 13 فیصد اضافہ۔ کریسل کے مطابق خام سورج مکھی کے تیل کی درآمدی قیمت گزشتہ سال کے دوران 1275 ڈالر فی ٹن سے بڑھ کر 1420 ڈالر فی ٹن ہو گئی ہے، جس کی وجہ فریٹ لاگت اور کرنسی کی کمزوری ہے۔اسی طرح مونگ پھلی کے تیل کی اوسط قیمت 2اپریل 2026 کو 198.05 روپے فی کلو تھی، جو 2مارچ 2026 کو 193.69روپے اور 2اپریل 2025کو 191.38 روپے تھی۔سرسوں کا تیل 2اپریل 2026 کو 188.07 روپے فی کلو، 2 مارچ 2026کو 186.08 روپے اور 2 اپریل 2025کو 169.47روپے فی کلو فروخت ہو رہا تھا۔ وناسپتی تیل 2اپریل 2026کو اوسطا 157.48 روپے فی کلو، 2مارچ 2026کو 156.49روپے اور2اپریل 2025 کو 152.78 روپے فی کلو تھا۔ سویا تیل 2اپریل 2026کو اوسطا 155.07روپے فی کلو، 2مارچ 2026 کو 150.61روپے اور 2اپریل 2025کو 146.28 روپے فی کلو تھا۔