یو این آئی
نئی دہلی//حکومت نے مسلح افواج کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے 79 ہزار کروڑ روپے کے دفاعی خریداری سودوں کے تجاویز کو منظوری دی ہے۔دفاعی وزیر راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں پیر کو منعقدہ دفاعی خریداری کونسل کی میٹنگ میں تینوں افواج کے لیے ضرورت کی بنیاد پر خریداری کے ان تجاویز کو منظوری دی گئی۔وزارتِ دفاع نے بتایا کہ اس سال کی آخری میٹنگ میں منظور کیے گئے ان سودوں کی کل تخمینی لاگت تقریباً 79 ہزار کروڑ روپے ہے اور ان میں فوج کی توپ خانہ رجمنٹ کے لیے لوئٹر میونیشن سسٹم، لو لیول لائٹ ویٹ ریڈار، پناکاہ ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم کے لیے طویل فاصلے کے رہنمائی والے راکٹ گولہ بارود اور انٹیگریٹڈ ڈرون ڈیٹیکشن اینڈ انٹرڈکشن سسٹم مارکII کی خریداری شامل ہے۔میٹنگ میں بحریہ کے لیے بولارڈ پل ٹگس، ہائی فریکوئنسی سافٹ ویئر ڈیفائنڈ ریڈیو مین پیک اور ہائی ایلٹیٹیوڈ لانگ رینج ریموٹلی پائلٹڈ ایئرکرافٹ سسٹم کو لیز پر لینے کے تجاویز کو ضرورت کی بنیاد پر منظوری دی گئی۔فضائیہ کے لیے آٹومیٹک ٹیک آف لینڈنگ ریکارڈنگ سسٹم، اسٹر مارکII میزائلیں، فل مشن سمیولیٹر اور اسپائس-1000 لانگ رینج گائیڈنس کٹس وغیرہ کی خریداری کو ضرورت کی بنیاد پر منظوری دی گئی۔اس کے ساتھ ہی بری فوج کے ٹی-90 ٹینکوں کے اوورہال کو منظوری دی گئی ہے، جس سے ان کی جنگی صلاحیت مزید قابلِ اعتماد ہو جائے گی۔ وہیں فضائیہ کے ایم آئی-17 ہیلی کاپٹروں کے مڈ لائف اپ گریڈ کو بھی منظوری دی گئی ہے تاکہ ان کی آپریشنل تیاری میں بہتری آئے۔ڈی اے سی نے ایئر ٹو ایئر ری فیولر اور اے واکس (ایئر بورن ارلی وارننگ سسٹم) سے متعلق آر ایف پی میں تبدیلیوں کو بھی منظوری دی ہے، جس سے فضائیہ کی طویل فاصلے تک آپریشن کرنے کی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔ اس کے علاوہ ہندوستانی فضائیہ کے لیے آسترا مارک-2 ایئر ٹو ایئر میزائلوں کی خرید پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جن کی رینج تقریباً 200 کلومیٹر ہے۔ اس سے دشمن کے طیاروں کو ملک کی سرحد کے اندر ہی نشانہ بنایا جا سکے گا۔ آپریشن سندور کے بعد طویل فاصلے کے میزائلوں کی ضرورت مزید واضح ہو گئی ہے۔ فضائیہ کے پاس پہلے ہی آسترا مارک-1 موجود ہے، جبکہ ڈی آر ڈی او آسترا مارک-3 پر بھی کام کر رہا ہے۔ڈی اے سی کے یہ فیصلے ہندوستان کی عسکری تیاری، جدید کاری اور خود کفیل دفاعی صلاحیت کو نئی مضبوطی فراہم کریں گے۔ خاص طور پر میزائل، ڈرون اور اپ گریڈ منصوبوں سے تینوں افواج کی جارحانہ اور دفاعی طاقت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس سے ملک کی مجموعی سلامتی مزید مستحکم ہوگی۔