عظمیٰ نیوز سروس
جموں//جموں و کشمیر حکومت نے کرایہ پر نظر ثانی کمیٹی(ایف آر سی)،جس کی میٹنگ جموں کے سول سیکرٹریٹ میں پرنسپل سیکرٹری خزانہ سنتوش ڈی ویدیا کی صدارت میں ہوئی،کی طرف سے تفصیلی غور و خوض کے بعد پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں مسافر ٹرانسپورٹ کرائیوں میں 18 فیصد اضافے کو منظوری دے دی ہے۔پرنسپل سکریٹری فائنانس، سنتوش دی ویدیا نے سکریٹریٹ میں کرایہ پر نظر ثانی کمیٹی کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں پورے مرکزی علاقے میں مسافروں کی نقل و حمل کے کرائیوں پر نظر ثانی کے مسئلہ پر غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں نے آپریشنل اخراجات میں خاطر خواہ اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے مسافروں کے کرائیوں میں 40فیصد اضافے کی تجویز پیش کی۔ کمیٹی نے اس معاملے پر تفصیلی بحث کی، جس میں متعدد عوامل جیسے کہ اسپیئر پارٹس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ، ایندھن سے متعلقہ اخراجات، ٹیکس، دیکھ بھال کے اخراجات اور دیگر آپریشنل ان پٹ کو مدنظر رکھا گیا۔ بات چیت کے دوران لاگت کے ایک جامع تجزیہ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ٹرانسپورٹرز کی طرف سے اٹھائے گئے حقیقی خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے، کمیٹی نے عام لوگوں پر کرائیوں پر نظرثانی کے سماجی و اقتصادی اثرات پر بھی غور کیا، خاص طور پر اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ عام آدمی غیر مناسب مالی بوجھ کا شکار نہ ہو۔تمام سٹیک ہولڈرز کے درمیان وسیع غور و خوض اور اتفاق رائے کے بعد، متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ جموں و کشمیر کے مرکزی علاقے میں چلنے والی مسافر گاڑیوں کے تمام زمروں میں مسافروں کے کرائیوں میں 18 فیصد اضافہ نافذ کیا جائے گا اور نظر ثانی شدہ کرائیوں کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا۔میٹنگ میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ، قائم مقام ٹرانسپورٹ کمشنر، منیجنگ ڈائریکٹر ایس آر ٹی سی، ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسرکشمیر و جموںکمیٹی کے ممبران بشمول جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری کے مختلف ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشنز کے نمائندے شامل تھے۔