بی ایس ایف بھرتی | اپنی پارٹی حکومت ِ ہند کو میمورنڈم بھیجے گی
جموں//اپنی پارٹی نے 1100نوجوانوں کے بھرتی عمل ، جنہیں بارڈر سیکورٹی فورس نے سلیکشن عمل میں نظر انداز کیا ہے، میں مداخلت کیلئے حکومت ِ ہند کو میمورنڈم بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ۔بی ایس ایف خواہش مند اُمیدواروں کا ایک وفد سابقہ وزیر اور اپنی پارٹی سنیئرلیڈر محمد دلاور میر، جنرل سیکریٹری وجے بقایہ اور صوبائی صدر جموں منجیت سنگھ سے دفتر واقع گاندھی نگر میں ملاقی ہوا۔ وفد نے پارٹی لیڈران کو بتایاکہ انہوں نے فزیکل، تحریری اور میڈیکل ٹسٹ پاس کر لیاتھا جوکہ کسی بھی بیلٹ فورس میں بھرتی کیلئے لازمی ہے ،تاہم اُنہیں سلیکٹ نہیں کیاگیا اور میرٹ کو بڑھا دیاگیا جس میں وہ آتے ہی نہیں۔ محمد دلاور میر نے یقین دلایاکہ وہ یہ معاملہ مرکزی وزیر داخلہ کے ساتھ اُٹھائیں گے اور اپنی پارٹی کی طرف سے ایک میمورنڈم بھیجاجائے گا۔ میر نے وفد کے مطالبات سنے اور کہاکہ یہ نا انصافی ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان ، اگر وہ سلیکٹ ہوئے تھے تو پھر اچانک میرٹ بڑھانے کا کیا مطلب۔جنرل سیکریٹری وجے بقایہ نے کہاکہ بی ایس ایف 30000اُسامیاں مشتہر کرنے والی ہے اور حکام کو چاہئے کہ اِن نوجوانوں کو بھرتی عمل میں موقع دیاجانا چاہئے۔ صوبائی صدر منجیت سنگھ نے کہاکہ بی ایس ایف کو چاہئے کہ باقاعدہ طور منتخب ہوئے اُمیدواروں کو نظر انداز نہ کیا جائے ۔
بی جے پی کا سابق لیڈر اپنی پارٹی میں شامل
جموں // بی جے پی کے سابق ریاستی نائب صدردانش اقبال پیر کو جموں و کشمیر اپنی پارٹی (جے کے اے پی) میں شامل ہوئے ۔پارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ بانہال سے آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے حالیہ ضلعی ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) کے انتخابات میں حصہ لینے والے اقبال کا سابق وزیر محمد دلاور میر نے اپنے بہت سے حامیوں کے ہمراہ پارٹی میں خیرمقدم کیا۔اقبال نے کہا کہ وہ اور ان کے حامی بڑی امید کے ساتھ اپنی پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں جس سے پسماندہ علاقے میں ان کے مسائل حل ہوں گے۔ترجمان نے کہا کہ میر نے اقبال کو یقین دلایا کہ اپنی پارٹی مسائل حل کرنے کیلئے ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔
وادی چناب کیلئے فضائی سروس کا مطالبہ
کشتواڑ//اپنی پارٹی صوبائی نائب صدر سید اصغر علی نے وادی چناب کیلئے فضائی ایمبولینس اور مقامی لوگوں کو پن بجلی پروجیکٹوں میں روزگار فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ایک بیان میں اصغر نے کہاکہ پہاڑی ضلع میں سہولیات کی عدم دستیابی سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ حساس مریضوں کو بروقت اسپتالوں میں منتقل نہیں کیاجاسکتا۔ پہاڑی ضلع کے دور افتادہ علاقوں میں ناقص سڑک رابطہ ہے، ایسے میں فضائی سروس ہنگامی حالات میں مددگار ثابت ہوگی۔اصغر نے کہا’’زیادہ نازک مریضوں کی گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال بخشی نگر جموں میں خصوصی علاج ومعالجہ کے لئے منتقلی کے طور ہی موت ہوجاتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ وادی چناب کے لوگوں کیلئے فضائی ایمبولینس منظور کرے تاکہ بیمار افراد کو بروقت نزدیکی اسپتالوں میں بغیر وقت ضائع کئے منتقل کیاجاسکے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ حکومت اِس بات کو یقینی بنائے کہ وارڈی اور مڑواہ سے صحت ایمرجنسی میں نازک مریضوں کو نزدیکی اسپتال جوکہ سرینگر ہے، وہاں ائرلفٹ کیاجائے۔ موصوف ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے جس میں35سے زائد افراد نے اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے کہاکہ مڑواہ اور واڑون کے لوگوں کو معمولی کاموں جیسے کہ سرٹیفکیٹ کیلئے قصبہ میں آنا پڑتا ہے۔ اس دوران جن افراد نے اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کی، اِن میں راجو چوہدری، عبدال چوہدری، عبدالمجید، ارشاد احمد، الطاف احمد، جاوید علی، عالم حسین، حسین علی، عبدلقیوم، محمد آصف، رحیم علی، عبدالقیوم ، محمد آصف، اشفاق حمید، شہزاد حنیف، ہارون رشید، رشید احمد، فرید احمد، مراد علی، محمد منیر اور دانش قابل ِ ذکر ہیں۔
ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات |چیئرمین اور وائس چیئرمین کے ناموں کیلئے بدھ کو حتمی فیصلہ ہو گا
طارق شال
تھنہ منڈی // جموں کشمیر میں سہ رکنی نظام کو رائج کرنے کیلئے ضلع ترقیاتی کونسلوں کے چیئرمینوں اور وائس چیئرمینوںکو منتخب کرنے کیلئے نوٹیفیکیشن جاری کی ہے۔ ضلع راجوری میں اس ماہ کی 13 تاریخ کو یہ منتخب کئے جائیں گے۔ضلع راجوری میں کل 14 انتخابی حلقے ہیں۔جس میں نیشنل کانفرنس کو 5 حلقوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے، جبکہ پی ڈی پی کو 1 کانگریس کو 3،بی جے پی کو 3 اور آزاد امیدوار 1 شامل ہے ۔ نیشنل کانفرنس کے ضلع صدر شفاعت احمد خان نے بتایا کہ انکی پارٹی کے پاس گپکار الائنس سمیت 6 اُمیدوار ہیں اور کانگریس اور ایک ازاد اُمیدوار کو شامل کر کے انکے پاس وافر اکثریت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع راجوری میں نیشنل کانفرنس کا چیئرمین بنے گا ،جبکہ اسکے بارے میں بدھ وار کو اتحادی جماعتوں کے درمیان حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔
ڈوڈہ میں بھاجپا فتحیاب | دھنتر سنگھ چیئرمین و سنگیتہ رانی نائب چیئرمین منتخب
اشتیاق ملک
ڈوڈہ// ڈوڈہ میں ضلع کونسل انتخابات کیلئے چیئرمین و نائب چیئرمین کا انتخاب عمل میں لایا گیا جس میں بھدرواہ ایسٹ سے ممبر دھننتر سنگھ کوتوال کو 9 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ اس کے مد مقابل کانگریس کے امیدوار ندیم شریف نیاز کو 5 ووٹ ملے اور اسطرح سے 4 ووٹوں سے دھنتر سنگھ کو برتری حاصل ہوئی وہیں, نائب چیئرمین کیلئے بھالہ سے ڈی ڈی سی ممبر سنگیتہ رانی کو بھی 9 ملے اور اسکے مدمقابل کاہرہ سے ڈی ڈی سی ممبر نے 5ووٹ حاصل کئے اور اس طرح سے ضلع کی دونوں نشستوں پر بھاجپا کو فتح ملی۔ضلع الیکشن آفیسر ڈوڈہ ڈاکٹر ساگر ڈی ڈوئی فوڈے نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سبھی چودہ ممبران نے انتخابی عمل میں حصہ لیا۔انہوں نے کہا کہ چیئرپرسن اور وائس چیئرپرسن کے عہدوں کے لیے آزادانہ اور منصفانہ انداز میں انتخاب ہوا۔اس دوران ایس پی بھدرواہ راج سنگھ گوریا،ڈپٹی ڈی آئی او ڈوڈہ محمد ادریس لون،ای این ٹی ڈوڈہ سجاد اختر کھانجی و دیگر افسران بھی موجود تھے۔
ضلع کونسل انتخابات میں کراس ووٹنگ | بھاجپا نے بھی نائب چیئرمین امیدوار کو تبدیل کیا
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات میں اگر چہ بھاجپا کو 14نشستوں میں سے 8 پر اکثریت حاصل تھی تاہم اس کے باوجود کراس ووٹنگ ہوئی اور بی جے پی امیدواروں کو 9 ووٹ ملے جس پر عوامی و سیاسی حلقوں میں حیرانگی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کے کسی ایک ممبر نے بھاجپا امیدواروں کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا ،تاہم اس پر کسی بھی پارٹی نے تبصرہ نہیں کیا ، اس دوران بی جے پی نے گذشتہ دنوں ہوئی میٹنگ میں بھاگواہ سے ڈی ڈی سی ممبر جیہ رانی کو نائب چیئرمین کے لئے منتخب کیا تھا لیکن آج جب ووٹنگ ہوئی تو اس میں بھالہ سے ڈی ڈی سی ممبر سنگیتہ رانی کا انتخاب کیا گیا۔
بصیر خان کا سدھ مہا دیو علاقے کا دورہ | جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا ،درجنوں وفود بھی ملے
جموں//لفٹینٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے سوموار کو ضلع اودھمپور کے بلاک چنینی کے دور دراز علاقوں کا ایک روزہ طویل مفصل دورہ کر کے وہاں دیہی ترقی ، بجلی ، سیاحت اور دیگر شعبوں کے تحت زیر تعمیر کاموں کا جائیزہ لیا ۔ دورے کے دوران مشیر خان کے ہمراہ ناظمِ دیہی ترقی ، چیف انجینئر بجلی ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ، جوائینٹ ڈائریکٹر سیاحت اور متعلقہ محکموں کے دیگر اعلیٰ افسران تھے ۔ مشیر خان نے پائین کُد پنچائت کے دورے کے دوران وہاں دیہی ترقی شعبے کے تحت کاموں کا افتتاح کیا ۔ مشیر خان نے چنینی میں محکمہ بجلی کے تحت جاری کاموں کا بھی معائینہ کیا اور متعلقہ افسران کو کاموں کے معیار کا خاص خیال رکھنے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے تعمیراتی ایجنسیوں کو تمام اہداف معین مدت کے اندر مکمل کرنے کیلئے کہا ۔ دورے کے دوران متعدد وفود مشیر سے ملاقی ہوئے جن میں ڈی ڈی سی ، بی ڈی سی ، یو ایل بی ارکان ، سرپنچ ، پنچ اور علاقے کے عام لوگ شامل تھے ۔ چنینی کے بی ڈی سی پرکاش چند نے مال روڈ کُد کی تعمیر و توسیع ، کارلا اور گوری کنڈ کے مابین سڑک رابطہ سہولت کا قیام ، پتنی ٹاپ میں پارکنگ کیلئے جگہ، دیہی سیاحت کی ترقی وغیرہ مانگیں پیش کیں ۔ صدر ایم سی چنینی مانک گپتا نے چنینی میں پی ڈی سی اراضی تحویل میں دینے ، میرا قصبہ میرا گرور پروگرام کے تحت رقومات واگذار کرنے ، لڑکیوں کے چنینی ہائی سکول کو ہائیر سکینڈری سکول کا درجہ دینے ، تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں میں عملے کی قلت کو دور کرنے ، قومی شاہراہ پر ٹریفک جام سے نمٹنے ، پین آبپاشی نہر کی مرمت کرنے کی مانگیں پیش کیں ۔ مشیر نے کہا کہ اُن کے اس دورے کے انعقاد کا مقصد سرکاری سکیموں کی عمل آوری کا جائیزہ لینا اور بنیادی سطح پر عوام سے آراء حاصل کرنا تھا ۔
راجو گاندھی ٹرسٹ کی جائیدار کا ناجائز استعمال | کرائم برانچ نے وکیل سمیت دو عہدداروں کے خلاف مقدمہ درج کیا
جموں // کرائم برانچ نے راجیو گاندھی ٹرسٹ کی جائیداد کے ناجائز استعمال میں ملوث ہونے کے الزام میں متعدد عہدیداروں اور ایک وکیل کے خلاف مقدمہ درج کیا۔جموں کرائم برانچ کے ایک ترجمان نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ یہ معاملہ تین محصولاتی عہدیداروں اور اس وکیل کے خلاف بھی شامل ہے ۔ایف آئی آر میں نامزد افراد میں ایڈوکیٹ اشوک وجئے گپتا ، ڈپٹی ریونیو آفیسر شیو کمار اور جموں کے ڈویڑنل کمشنر انور سدوتررا شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھوشن گپتا کی طرف سے ایک شکایت درج کی گئی ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ 26 سال قبل ان کے والد کے چاچا زاد بھائی ہمنیشور گپتا نے اپنی املاک کی وصیت کا عمل سرانجام دیا تھا اور چار قریبی دوستوں کو ٹرسٹی نامزد کیا تھا اور اس ٹرسٹ کا نام بھی شری کے نام پر رکھا ۔ترجمان نے شکایت کے حوالے سے بتایا ، اشوک گپتا نے جائیداد کو بے ایمانی سے تصرف کیا اور اس کے بعد معاملات میں اس وقت کے محصولاتی عہدیداروں سے ملی بھگت کرکے غلط استعمال کیا۔شکایت موصول ہونے پر انہوں نے کہا کہ ابتدائی تصدیق کرائم برانچ کے ذریعہ کی گئی تھی اور متعلقہ محصول کا ریکارڈ اور دیگر شواہد حاصل کیے گئے تھے جس نے پہلے ملزم کے خلاف الزامات کی تصدیق کی تھی۔