’’ آزادی کا اَمرت مہااُتسو‘‘ | چیف سیکریٹری نے سیاحتی فیسٹول کی تیاریوں کا جائزہ لیا
سری نگر//چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے ایک میٹنگ دوران ’’ آزادی کا اَمرت مہااُتسو‘‘ کے تحت جموںوکشمیر میں آنے والے تین ماہ کے سیاحتی فیسٹول کی تیاریوں کا جائزہ لیا ۔میٹنگ میں محکمہ سیاحت کے اِنتظامی سیکرٹری ، جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ ، ڈائریکٹر اِنفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ ، ایم ڈی جے کے ٹی ڈی سی اور متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔میٹنگ کو بتایا گیا کہ سیاحتی فیسٹول اکتوبر 2021ء میں ’’ روح صوفی ‘‘ سے شروع کیا جائے گا جس میں حافظ نغمہ، کلام خسرو ، کلام بابا فرید ، قوالی، بائول صوفی،درویش صوفی، رقص، ہزری کتھک کے علاوہ تصوف پر ادبی سمینار اور مقامی فنو ن ،خطاطی اور صوفی روایات پرفارمنس ہوگی۔سہ ماہ کے میلے میں اکتوبر میں خزاں اور ہائوس بوٹ تہواروں کی شکل میں تقریبات بھی شامل ہوں گی۔عالمی ثقافتی ورثہ ہفتہ اور نومبر میں زعفرانی میلہ ، دسمبر میں کرسمس اور نئے سال کے تہوار اور جنوری 2022ء میں سرمائی کارنیول تک بڑھے گا۔اِسی طرح جموں صوبے میں جموں فیسٹول ، نوراترا فیسٹول ، وائٹ واٹر رافٹنگ چمپئن شپ ، لیک فیسٹول ، پتنی ٹاپ وِنٹر کارنیول اور لوہری فیسٹول اِسی مدت کے دوران منعقد کئے جائیں گے۔
ہینڈی کرافٹس اورہینڈلوم کارپوریشنوں کی مشترکہ بورڈ میٹنگ | مصنوعات فروخت کرنے کیلئے جامع حکمت عملی تیار کی جائے:بصیرخان
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے یہاں سول سیکرٹریٹ میں جے اینڈ کے ہینڈی کرافٹس ( ایس اینڈ اِی )کارپوریشن او رجے اینڈ کے ہینڈ لوم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی تیسری جوائنٹ بورڈ آف ڈائریکٹرس میٹنگ کی صدارت کی۔بورڈ آف ڈائریکٹرس میٹنگ میں پرنسپل سیکرٹری صنعت و حرفت رنجن کمار ٹھاکر ، منیجنگ ڈائریکٹر جے اینڈ کے ہینڈی کرافٹس ( ایس اینڈ اِی) کارپوریشن اور جے اینڈ کے ہینڈلوم ڈیولپمنٹ کارپوریشن حشمت علی یتو، ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس اینڈ ہینڈ لوم کشمیر محمود احمد شاہ نے شرکت کی جبکہ جموں سے بورڈ آف ڈائریکٹرس ممبران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔مشیر موصوف نے بورڈ آف ڈائریکٹرس میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے مارکیٹنگ کی ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے پر زور دیا تاکہ جموں و کشمیر سے ہینڈی کرافٹس ، ہینڈ لوم اور دیگر ہاتھ سے تیار کرافٹ آئٹموں کی مارکیٹنگ اِنتہائی مؤثر اَنداز میں کی جاسکے۔اُنہوں نے مختلف غیر روایتی مارکیٹنگ طریقوں کو دریافت کرنے کے لئے اَفسران کو ہدایت دیتے ہوئے مصنوعات کی مناسب اِی ۔ مارکیٹنگ کی ہدایت دی تاکہ ہینڈی کرافٹس اور ہینڈ لوم مصنوعات کی مارکیٹنگ کا دائرہ وسیع ہو۔مشیر بصیر خان نے اَفسران کو مارکیٹنگ کی حکمت عملی پر خصوصی زو ردیا اور کہا کہ کچھ کامیاب اِی ۔ کامرس سائٹس کی کامیابی کی کہانیاں تیار کی جائیں تاکہ کاریگروں کی پیداوار میں اِضافہ ہو۔اُنہوں نے اُنہیں ہدایت دی کہ وہ پہلگام ، گلمرگ اور دیگر اہم مقامات پر آنے والے شوروموں کی ترقی کو تیز کریں۔اُنہوں نے ہینڈلوم ڈیولپمنٹ کارپوریشن سے بہتر مارکیٹنگ حکمت عملی کے ساتھ مصنوعات کی قیمت بڑھانے کے لئے بھی کہا جو کارپوریشن کو بہتر منافع دے گا۔اُنہوں نے کارپوریشن کو یہ بھی ہدایت دی کہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی معلومات کے لئے ائیر پورٹ اور دیگر مقامات ایمپوریم شوروم کے بل بورڈ لگائے جائیں ۔منیجنگ ڈائریکٹر جے اینڈ کے ہینڈی کرافٹس اینڈ ہینڈ لوم حشمت یتو نے کارپوریشن کے کام کاج اور مختلف پہلوئوں کی پیش رفت کے بارے میں ایک پرزنٹیشن دی۔انہوں نے کہا کہ کارپوریشن نے جموں و کشمیر کے نچلی سطح کے کاریگروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے اپنی خریداری کی پالیسی کو ایس سی آر سے اپنی تجارت میں تبدیل کرکے ایک بڑا قدم اٹھایا تاکہ اس طرح جموںوکشمیر کے کاریگروں کو براہ راست فائدہ پہنچے اور درمیانہ داروں کے کردار کو ختم کیا جائے۔ایم ڈی نے بتایا کہ کارپوریشن نے ڈائریکٹ مارکیٹنگ اسسٹنس کے نام سے تمام نمایاں مقامات پر واقع کارپوریشن شو روموںمیں جگہ فراہم کر کے ان کی مدد کے لئے ایک حل نکالا ہے۔
مہلوک ومتوفی پولیس اہلکاروں کے ورثاء کے حق میں امداد منظور
سری نگر//دوران ڈیوٹی ہلاک یا فوت ہوئے پولیس اہلکاروں و ایس پی او ز کے اہل خانہ کے حق میں مالی امداد کے طور پر ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ نے 2.8کروڑ روپے کی رقم بطورخصوصی امداد منظور کی ہے۔اس سلسلے میں پولیس ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے اجراء کئے گئے حکمنامو ں کے مطابق جنگجوئوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو نے والے سلیکشن گریڈ کانسٹیبل محمد یو سف بجاڈ کے اہلخانہ کے حق میں 38لاکھ روپے عبوری امداد منظور کئے گئے،جبکہ دوران ڈیوٹی فوت ہونے والے پولیس اہلکاروں جن میں ایس آئی بر فو رام، خاتون اے ایس آئی حنیفہ بیگم،، ہیڈ کانسٹیبل سورن سنگھ، خاتون ایس جی کانسٹیبل ببیتا منہاس ،دویندر کمار،دیپک شر ماء فالور رنجیت سنگھ جو دوران ڈیوٹی علالت کے سبب انتقال کر گئے تھے، کے اہلخانہ کے حق میں فی کس19 لاکھ روپے کی خصوصی امداد منظور کی گئی۔ اس کے علاوہ مہلوک کانسٹیبل نثار احمد کے اہلخانہ کے حق میں بھی 19لاکھ روپے کی رقم بطورخصوصی امدادمنظور کی گئی ۔ پولیس ہیڈ کواٹر کی جانب سے پہلے ہی متعلقہ یونٹوں کے ذریعے آخری رسومات ادا کرنے کے لئے ہلاک یا فوت ہوئے پولیس اہلکاروں کے ورثاء کو ایک ایک لاکھ روپے ادا کردیئے گئے ہیں۔ یہ امداد پولیس ویلفیئر فنڈ سے واگزار کی گئی۔ُاس کے علاوہ پولیس ہیڈکوارٹر کی جانب سے اجراء احکامات کے مطابق دوران ملازمت فوت ہونے والے ایس پی اوجگر ناتھ اورفاروق احمدکے ورثاء کے حق میں بھی ساڑھے چار چارلاکھ روپے کی رقم بطور خصوصی امداد کو منظوری دی گئی جبکہ فوت ہو نے والے ان ایس پی اوز کے اہلخانہ کو آخری رسومات ادا کرنے کے لئے پہلے ہی50،50ہزار روپے کی رقم ادا کردی گئی۔یہ رقم ایس پی اوز کے ویلفیئر فنڈ سے واگزار کی گئی۔پولیس ہیڈ کوارٹر کی جانب سے اپنے ملازمین اور ان کے اہلخانہ کی فلاح و بہبود کے لئے متعدد فلاحی اسکیمیں دردست لی گئی ہیں جن سے براہ راست ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکاراور ان کے اہلخانہ بھی مستفید ہو رہے ہیں۔
۔5اگست کا فیصلہ انتقام گیری: کمال
سرینگر//نیشنل کانفرنس اور اس کی پر خلوص قیادت ہمیشہ ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کے احساسات اور مفادات کی ترجمانی کرتی رہی ہے ۔ ان باتوں کااظہار پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور جموں و کشمیر کا رشتہ آئین ہند کے تحت تین چیزوں پر طے ہو اہے۔ یہ رشتہ آنجہانی مہاراجہ ہری سنگھ نے کیا ہے اور 35اے اور دفعہ370کے تحت ان مشروط رشتوں کو آئینی شکل حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے حکمران جماعت نے انتقامی گیری کے تحت 5اگست2019کو جمہوریت اور آئین کی دھجیاں اُڑاکر جموں وکشمیر کو حاصل آئینی مراعات کا تہیہ تیغ کردیا اور اس تاریخی ریاست کو دو لخت کرکے اسے مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کیا۔ ۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ بھاجپا کی مرکزی حکومت نے کشمیریوں کو زیر کرنے کیلئے جو طریقہ کار اختیار کر رکھا ہے وہ کسی بھی صورت میں سود مند نہیں اور وقت آنے پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوکر سامنے آئیں گے اور اُس وقت ان غلطیوں کو درست کرنے کا موقع بھی ہاتھ سے گیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں اس وقت بیرونی افسران کو مسلط کیا جارہا ہے اور یہاں کے مقامی افسران کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔
جموںوکشمیر کے متعلق مرکز کی پالیسی تبدیل کی جائے | وزارت داخلہ کے پارلیمانی اجلاس میں حسنین مسعودی کا زور
سرینگر//نیشنل کانفرنس لیڈر اور رکن پارلیمان حسنین مسعودی نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت جموںوکشمیر سے متعلق اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے اور عوام کے جمہوری اور آئینی حقوق بحال کریں۔ نئی دہلی میں وزارتِ داخلہ کی طرف سے افغانستان کی صورتحال پر بلائے گئے کُل جماعت اجلاس میں حسنین مسعودی نے کہا کہ مرکز کو 5اگست2019کے فیصلوں پر منسوخ کیا جائے اور لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ بحال کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ اندرونی انتشار اور خلفشار سے باہری طاقتیں اپنا ایجنڈا چلاسکتی ہیں البتہ اگر ہمار ے اپنے لوگ خوش اور مطمئن ہونگے اور داخلی حالات ٹھیک ہونگے تو باہر سے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مرکزی حکومت جموں وکشمیر سے متعلق اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے اور جموں وکشمیر کے عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق بحال کریں۔حسنین مسعودی نے کہاکہ افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار میں آنے کے بعد خطے میں پیدا شدہ صورتحال اور جموں وکشمیر پر پڑنے والے منفی اثرات کے خدشات اُسی صورت میں دور ہوسکتے ہیں جب جموں وکشمیر کے حاصل آئینی اور جمہوری حقوق بحال کئے جائیں گے اور لوگوں کے احساسات و جذبات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ مسعودی نے کہا کہ مرکز کی افغانستان کو لیکر ’’حالات و واقعات کا رُخ دیکھنا اور کوئی فوری اقدام نہ کرنے کی پالیسی‘‘ اپنی جگہ صحیح ہوسکتی ہے لیکن کشمیر سے متعلق فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں دیگر کئی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد جموں وکشمیر پر پڑنے اثرات کے بارے میں اپنے خدشات ظاہر کئے۔
محبوبہ مفتی دن میں دفعہ370کی بحالی کے خواب دیکھ رہی ہیں:ترون چگھ
جموں//یو این آئی// بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ترون چگھ کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی دن میں دفعہ 370 کی بحالی کے خواب دیکھ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر محبوبہ مفتی کو دن میں خواب دیکھنے ہیں تو وہ کشمیر اور ملک کی ترقی کے خواب دیکھیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعطم نریندر مودی کے وعدے کے مطابق جموں و کشمیر میں بہت جلد اسمبلی انتخابات منعقد ہوں گے ۔ ترون چگھ نے ان باتوں کا اظہار یہاں میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا ہے ۔انہوں نے کہا’محبوبہ مفتی خوابوں کی دنیا میں رہتی ہیں ،وہ دن میں خواب دیکھ رہی ہیں یہ بدلا ہوا بھارت ہے ‘۔انہوںنے کہا کہ ’’محبوبہ مفتی کو دن میں دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کی بحالی کے سپنے آتے ہیں اور یہ پتہ نہیں ان کو دن میں کیوںکر سپنے آتے ہیں جبکہ سیاسی لیڈران کو دن میں سونے کا وقت ہی نہیں ملتا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس دینے پر بھی پُر عزم ہے ۔عبداللہ اور مفتی خاندانوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ترن چگھ نے کہا’جموں و کشمیر کی ترقی پرسات دہائیوں تک دو خاندانوں نے گرہن لگا دیا تھا اور آج لوگ ان سے حساب مانگ رہے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کبھی پاکستان کی بات کرتے ہیں اور محبوبہ مفتی کبھی چین کی بات کرتی ہیں۔
لداخ میں نوکریوں اور ثقافت کو تحفظ فراہم کیا جائے گا:اوم برلا
یواین آئی
لیہہ// لوک سبھا کے سپیکر اوم برلا نے کہا کہ لداخی عوام کے نوکریوں اور ثقافت کو تحفظ فراہم کرنے کے متعلق مطالبات کو پورا کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت پہاڑی ترقیاتی کونسلوں کو مزید اختیارات دینے کی وعدہ بند ہے جس کے لئے منصوبہ بنایا جا رہا ہے ۔اوم برلا نے جمعرات کو یہاں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،’’لداخ کے لوگوں کی خواہش ہے کہ یہاں روزگار کے مواقعوں اور ثقافت کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔ مجھے پوری امید ہے کہ ان مطالبات کو پورا کیا جائے گا‘‘۔ان کا ساتھ ہی کہنا تھا،’’یہ بات صحیح ہے کہ ہم اس خطے کا موازنہ ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ نہیں کر سکتے ہیں۔ یہاں کے حالات دوسری یونین ٹریٹریز سے الگ ہیں۔ یہ اراضی کے لحاظ سے ایک بڑا خطہ ہے ۔ یہاں درجہ حرارت منفی میں چلا جاتا ہے‘‘۔لوک سبھا کے سپیکر نے لداخ کے مقامی خود مختار اداروں کو مزید اختیارات دینے کی بات کرتے ہوئے کہا،’’یہاں سیاسی عمل کے ذریعے لوگوں نے اپنے نمائندے چنے ہیں۔ سرکار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں کو مزید اختیارات دینے کی وعدہ بند ہے ۔ اس کے لئے سرکار منصوبہ بنا رہی ہے ‘‘۔ان کا لداخیوں کی ریاستی درجے کی بحالی اور آئینی تحفظات کی فراہمی کے متعلق مطالبات کے بارے میں کہا،’’جو بھی مسائل یہاں پر میری نوٹس میں لائے جائیں گے میں ان مسائل کو سرکاری کی نوٹس میں لانے کام کام کروں گا‘‘۔
پینے کے پانی کے فیس میں اضافہ | فیصلہ واپس لیاجائے:اشرف میر
سرینگر//اپنی پارٹی صوبائی صدر کشمیر محمد اشرف میر نے جموں وکشمیر میں پینے کے پانی کے فیس میں اضافے پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ یہاں جاری ایک بیان میں میر نے کہاکہ اِس وقت جب کووِڈ بحران کی وجہ سے مالی طور لوگ سخت مشکلات سے دوچار ہیں، پانی کے فیس میں اضافہ افسوس کن ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے صوابدیدی فرمان جاری کرنے کا عمل معمول بن گیاہے۔ متوسط اور سماج کے کمزور طبقہ جات کی صورتحال کو ایسے فیصلہ جات لیتے وقت ملحوظ ِ نظر نہیں رکھاجارہا۔ انہوں نے کہاکہ اگست2019سے جموں وکشمیر کی معیشت میں گراوٹ جاری ہے اور غیر متوقع طور لوگ مالی طور پریشان ہیں۔ میر نے کہاکہ جموں وکشمیر میں وافر مقدار میں آبی وسائل دستیاب ہیں جہاں پر چوبیس گھنٹے لوگوں میں صاف پانی مہیا کرنے میں حکومت خاص کر جل شکتی محکمہ کو ٹیکنیکل اور انسانی اخراجات بہت کم کرنے پڑتے ہیں۔موجودہ مالی مشکلات کے پیش نظر حکومت سے توقع تھی کہ وہ کوئی ایمنسٹی اسکیم لائے گئے لیکن بدقسمتی سے حکومت عوام کی مشکلات کو حل کرنے کی بجائے اُن کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کر رہی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر جموں وکشمیر منوج سنہا سے اپیل کرتے ہوئے میر نے اِس بات پرزور دیاکہ لوگوں کی مالی مشکلات کو دیکھتے ہوئے پانی کے کرائے میں اضافہ کے فیصلے کو واپس لیاجائے۔
حکومتی فیصلہ غیر سنجیدہ: حکیم یاسین
سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم محمدیاسین نے جمعرات کو پینے کے پانی کے فیس میں حالیہ اضافے کے احکاماے کو فوری طور واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ایک بیان میں حکیم یاسین نے حکومت کے فیصلے پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ جموں کشمیرکے لوگوں کی اقتصادی حالات کو مدنظررکھتے ہوئے یہ فیصلہ واپس لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پینے کے پانی کے فیس میں ہوشربااضافہ سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگااور اس وقت اس فیصلے سے حکومت کی غیرسنجیدگی اور لوگوں کو درپیش مشکلات سے احساس بیگانگی کااظہار ہوتا ہے۔
کووِڈ19-کی صورتحال میں نمایاں بہتری | بڈگام اور بانڈی پورہ کے ڈپٹی کمشنروں کی لوگوں سے ٹیکہ کاری میں تعاون دینے کی اپیل
بانڈی پورہ+بڈگام//بڈگام اوربانڈی پورہ کے ضلع ترقیاتی کمشنر وں نے ان اضلاع میں کووِڈ ۔19 کی صورتحال کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کووِڈ مناسب طرزِ عمل ( سی اے بی ) پر سختی عمل کرتے رہیں اور 18برس عمر سے 45برس عمر تک کے لوگوں کے صدفیصد ٹیکے لگانے پر زور دیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ ڈاکٹر اویس احمدنے کہا کہ ضلع میںکووِڈ ۔19 کی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور کنٹین منٹ زونوں میں وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ اور ضلع میں بڑے پیمانے پر ٹیکہ کاری مہم کی وجہ سے صحتیابی کی شرح میں بہتری آ رہی ہے۔ڈاکٹر اویس نے کہا کہ ضلع میں شفایابی کی شرح 98.2فیصد تک پہنچ گئی جبکہ مثبت معاملات کی شرح بھی گزشتہ چند ہفتوں سے مستحکم ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ کوئی نیا کلسٹر تشکیل نہیں دیا گیا ہے جبکہ نئے معاملات کاپتہ علاقوں میں لگایا جارہا ہے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں اَب بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور کوئی نرمی کووِڈ مثبت معاملات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ نے کہا کہ ضلع میں 50 مثبت معاملات سرگرم ہیں جن میں سے صرف ایک ہسپتال قرنطین ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ تمام مثبت معاملات کی باقاعدگی سے گھر پر اور ہسپتال آئیسولیشن میں نگرانی کی جار ہی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ معاملات میں کمی کی وجہ سخت روکتھامی اقدامات ہیں جس میں بڑے پیمانے پر نمونے لینے اور بعد میں ٹیکہ کاری مہم شامل ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے کہا کہ زائد اَز 45 برس عمر کے گروپ کی صدفیصد ٹیکہ کاری مکمل ہوچکی ہے جبکہ فی الحال 18برس عمر سے 45برس عمر تک کے اَفراد کی ٹیکہ کاری پر توجہ مرکوز ہے اور اس عمر کے گروپ میں اَب تک تقریباً 60 ہزار ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔ادھرضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام شہباز احمد مرزا نے ضلع کی غیر ویکسین شدہ آبادی سے اپیل کی ہے کہ وہ جلدسے جلد ٹیکے لگائیں کیوں کہ وبائی مرض کے بڑھتے ہوئے خطرے کو روکنے کا یہ بہترین حل ہے۔اِن باتوں کا اِظہار ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام نے میڈیا اَفراد کو ضلع میں کووِڈ۔19 پر قابو پانے کے اِقدامات ، صورتحال اور تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دینے کے دوران کیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ اِس وقت ضلع میں 73 مثبت معاملات سرگرم ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ شفایابی کی شرح 99فیصد سے اوپر ہے جبکہ کووِڈ ۔19 مثبت معاملات کی شرح 0.5فیصد سے نیچے رہ گئی ہے۔اُنہوں نے ایک بار پھر اپیل کی کہ کووِڈ۔19 کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور لوگوں کی صدفیصد ویکسی نیشن کی فوری ضرورت ہے اور اس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے تمام لازمی کووِڈ ۔19 ایس او پیز پر سختی سے عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔
تنخواہیںواگزارکی جائیں | محکمہ جل شکتی کے عارضی ملازمین کا سرینگر میں احتجاج
یواین آئی
سری نگر// محکمہ جل شکتی کے عارضی ملازموں نے جمعرات کو یہاں محکمے کے ہیڈکوارٹر کے احاطے میں جمع ہو کر اپنے مطالبات خاص کر تنخواہوں کی واگذاری کے حق میں احتجاج درج کیا۔احتجاجی ملازمین محکمے کے چیف انجینئر کے خلاف بھی جم کر نعرہ بازی کر رہے تھے ۔اس موقع پر عارضی سرکاری ملازمین کی تنظیم ’جموں و کشمیر کیجول ڈیلی ویجرس فورم‘کے صدر سجاد احمد پرے نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ محکمے میں گیارہ ہزار سے زیادہ عارضی ملازم تھے لیکن ان میں کئی ڈیوٹی کے دوران جاں بحق ہوئے اور کئی ملازموں نے قلیل تنخواہ اور گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے نوکریاں ہی چھوڑ دیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت محکمے میں صرف ساڑھے دس ہزار عارضی ملازمین موجود ہیں کیونکہ سال 2015 سے نئی بھرتی نہیں کی گئی۔ان کا مطالبہ تھا کہ ان ملازمین کے تمام مطالبوں بالخصوص تنخواہوں کی واگذاری کے مطالبے کو پورا کیا جائے ۔قابل ذکر ہے موصوف صدر نے 23 اگست کو مذکورہ ملازموں کے احتجاج کے دوران کہا تھا کہ اگر عارضی ملازمین کی تنخواہیں واگذار نہیں کی گئیں تو وہ 26 اگست کو سری نگر میں ہڑتال کریں گے جس کی ذمہ داری محکمہ کے چیف انجینئر پر عائد ہوگی۔
سب ضلع اسپتال سوپور کے 6 ڈاکٹرغیرحاضر | تحصیلدار کی رپورٹ ڈپٹی کمشنربارہمولہ کو پیش
سوپور //غلام محمد //سب ڈسٹرکٹ ہسپتال سوپور میں غیر قانونی طور پر ڈیوٹیوں سے سینئر کنسلٹنٹ سمیت6ڈاکٹروں کی غیر حاضر ی کی رپورٹ ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ کو پیش کی گئی ہے۔ ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ بوپندر کمار کی زبانی ہدایت پر تحصیلدار سوپور نے گزشتہ روز سب ڈسٹرکٹ ہسپتال سوپور کا دورہ کیا اور وہاں طبی و نیم طبی عملہ کی حاضری کی جانچ کی۔ اس موقعہ پر تحصیلدار سوپور نے پایا کہ سب ضلع ہسپتال میں ایک سینئر کنسلٹنٹ سمیت 6ڈاکٹر، جن میںڈاکٹر محمد اشرف کنسلٹنٹ سرجن، ڈاکٹر محمد سلطان میڈیکل آفیسر، ڈاکٹر محمد سلیم چستی، ڈاکٹر مدثر نذیر، ڈاکٹر ایم رفیع اور ڈاکٹر شیخ دائود شامل ہیں، اپنی ڈیوٹیوں سے غیر حاضر تھے۔ تحصیلدار کی طرف سے تیار کی گئی تحریری رپورٹ بلاک میڈیکل آفیسر سوپور نے ضلع ترقیاتی کمشنرکو ضروری کارروائی کیلئے پیش کی ہے۔
انجمن نے شالیمار میں ماتمی جلوس کو حتمی شکل دی
سرینگر// انجمن شرعی شیعیان کے ایک اجلاس میں کئی تنظیمی امور زیر بحث لائے گئے۔بیان کے مطابق 25محرم الحرام (یوم شہادت امام زین العابدین ؑ)کی مناسبت سے شالیمار میں بر آمد ہونے والے جلوس عزا کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور انتظامات کو حتمی شکل دی گئی۔ اجلاس میں طے پایا کہ یہ جلوس ذوالجناح حسب عمل قدیم اپنے مخصوص مقام حاجی علی محمد خان ساکن آرہ بل شالیمار کے گھر سے برآمد ہوکر مین روڈ شالیمار سے ہوتا ہوا امام باڑہ گلشن علی شالیمار میں اختتام پذیر ہوگا۔ اجلاس میں اس امید کا اظہار کیا گیا کہ علاقہ شالیمار میں دینی و فلاحی انجمنیں حسب روایت جلوس ذوالجناح کے لئے اپنی گرانقدر خدمات میسر رکھیں گی۔بیان میں سرکاری و نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں سے گزارش کی گئی کہ وہ عزاداروں کے لئے ٹرانسپورٹ کا مناسب انتظام رکھیں جبکہ عزاداروں سے تاکید کی گئی کہ وہ احتیاطی تدابیر بالخصوص ماسک کے استعمال کا خاص خیال رکھیں ۔
لیفٹیننٹ گورنر کاتعلیم کے شعبے میں تجاویز پر غور | چناب خطے کے دو اشخاص نے باعث افتخار قرار دیا
سرینگر //ریڈیو پروگرام عوام کی آواز کی 5 ویں قسط میںلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے تحصیل بھدرواہ کے سنیل کمار اور ڈوڈہ کے رشی کمار نے تعلیم کے شعبے میں بعض اصلاحات کے پیش کردہ خیالات کو سراہا تھا ۔ ایل جی نے معاشرے کے بارے میں ان کی تشویش کیلئے دونوں کی تعریف کی تھی اور انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ یہاں نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کے دوران ان کی تجاویز پر غور کیا جائے گا ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے ریڈیو پروگرام میں محکمہ تعلیم کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کارکردگی کا جائزہ لینے ، سائنسی مزاج اپنانے اور این ای پی کے مطابق کام کرنے کیلئے ضلعی سطح کی کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت دی تھی ۔ایل جی نے سکول ایجوکیشن محکمہ کو مزید ہدایت دی تھی کہ وہ ان تجاویز پر کارروائی کرے ۔ انہوں نے یہاں تک ذکر کیا ہے کہ این ای پی کے مطابق نصاب وضع کرنے اور اساتذہ کی مسلسل تربیت اور استعداد بڑھانے کیلئے کئی اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس سے قبل سنیل کمار نے سینئر سکینڈری سطح پر سیاحت اور ماس کمیونیکشن مضامین کو شامل کرنے کے علاوہ ہمارے اسکولوں میں سی بی ایس ای نصاب متعارف کرانے کی تجویز دی تھی ۔ سنیل نے اسکول کے عملے پر بوجھ کم کرنے کیلئے آمگن واڑی مراکز کے ذریعے اسکول کے بچوں کیلئے مڈ ڈے کھانا پکانے کا مشورہ دیا تھا ۔ انہوں نے محکمہ تعلیم میں پروموشنز کیلئے پی آر ٹی ، ٹی جی ٹی ، پی جی ٹی پیٹرن ٹیچر بھرتی اور ڈیپارٹمنٹل امتحان کی تجویز بھی پیش کی تھی ۔ جبکہ رشی کمار تجویز کرتے ہیں کہ اسکولوں میں ڈراپ آؤٹ کی شرح کو کم کرنے کیلئے اسکولوں میں طلباء کیلئے روزانہ تفریحی سرگرمیاں منعقد کی جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی وقتی مشاورت ضروری ہے تا کہ انہیں اپنے بچوں کی تعلیم کی اہمیت کا احساس دلایا جا سکے ۔ ان دونوں کا کہنا ہے کہ وہ لیفٹیننٹ گورنر کے انتہائی مشکور ہیں کہ انہوں نے ان کی تجاویز پر غور کیا اور ان کے ناموں کو عوام کی آواز کی پانچویں قسط میں ذکر کیا ۔
آریانز کالج میں شجر کاری مہم کا اہتمام
سرینگر//درختوں کے کئی فوائد مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب حکومت کے اقدام کے تحت آریانز گروپ آف کالجز راجپورہ چندی گڑھ میں درخت لگانے کی مہم کا اہتمام کیا گیا۔ ایک بیان کے مطابق پھلوں اور دواؤں کے پودوں کے 400 سے زیادہ پودے جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ پٹیالہ کی طرف سے فراہم کئے گئے تھے ۔ ڈسٹرکٹ فارسٹ افسر ودیا ساگری نے اس مہم کا افتتاح کیاجبکہ ڈاکٹر انشو کٹاریہ چیئرمین ، آریانز گروپ نے پروگرام کی صدارت کی۔ودیا ساگری نے اس موقع پر کہا کہ درخت ہماری زندگی کیلئے بہت اہم ہیں۔ ہم درختوں کے بغیر اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ وہ ہمیں آکسیجن مہیا کرتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ درخت ہمارے ماحول کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ، اسلئے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم درختوں کی اہمیت کو سمجھیں اور زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کے اقدام کے تحت محکمہ جنگلات پٹیالہ کو صاف ستھرا اور سرسبز بنانے کے لیے کام کر رہا ہے اور ہر ایک پر زور دیا کہ وہ خالی زمین پر درخت لگائیں۔ڈاکٹر انشو کٹاریہ نے کہا کہ درخت نہ صرف ہمیں سایہ اور پھل دیتے ہیں بلکہ اردگرد اور احاطے کو بھی خوبصورت بناتے ہیں۔ کٹاریہ نے جنگلات کی کٹائی سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی مسائل کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے سب سے اپیل کی کہ وہ درخت لگانے کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ پنجاب کو صاف ، سرسبز اور آلودگی سے پاک بنایا جا سکے۔
پی ڈی پی ضلع سرینگر کی میٹنگ | پارٹی کومتحرک کرنے کیلئے تبادلہ خیال
سرینگر//پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ضلع صدر سرینگر حاجی پرویز احمد نے سرینگر کے تمام زونل صدور کی ایک میٹنگ منعقدکی جس میں پارٹی کارڈر کو متحرک کرنے کے اقدامات شروع کرنے کے پروگرام کو ترتیب دینے کا فیصلہ کیا گیا۔بیان کے مطابق ضلع تمام زونل صدور نے ضلع میں پارٹی کارکنوں کے حوصلے بلند کرنے کیلئے اپنی تجاویز پیش کیں۔اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں عبدالحمید کوشین ، یوتھ کوآرڈی نیٹر کشمیر عارف لائیگرو، حلقہ انچارج امیرا کدل رئوف بٹ ، سابق وائس چیئرمین ہینڈی کرافٹس ڈاکٹر علی محمد،سینئر لیڈر قیوم بٹ،ڈی ڈی سی سونہ وار منظور احمد اورتوصیف شاہ کے علاوہ تمام زونل صدور اور دیگرارکان نے شرکت کی۔دریں اثناء خانیار کے ایک ممتاز سیاسی کارکن مصطفی خان نے ضلع صدر سرینگر حاجی پرویز ، یوتھ کوآرڈی نیٹر وسطی کشمیر عارف لائیگرو اور زونل صدر خانیارشفیع کندنگر کی موجودگی میں پارٹی میں شامل ہوئے۔
الطاف بخاری کا اظہار تعزیت
سرینگر//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے عبدالحمید گنائی ساکن حکیم باغ راولپورہ کی وفات پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ ایک تعزیتی بیان میں بخاری نے موصوف کو نیک سیرت شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی لوگوں کے مسائل کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی۔ بخاری نے مرحوم کی مغفرت اورلواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ۔ دریں اثناء سرینگر میونسپل کارپوریشن کارپوریٹر راولپورہ محمد اشرف ڈار، زون صدر امیرا کدل اعجاز احمد راتھر، پارٹی وارڈ صدر راولپورہ اورپارٹی کے یوتھ صوبائی صدر کشمیر خالد راتھرو وارڈ ممبران راولپورہ نے بھی عبدالحمید گنائی کی وفات پر دکھ اور صدمے کا اظہار کیاہے۔
سیکریٹریٹ میں کوئی کام نہیں ہورہا ہے:ایتو
سرینگر //سیاسی رہنما انجینئر نذیر احمد ایتو نے موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سیول سیکریٹریٹ اب کنگز لانج بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں لوگوں کے کام نہیں ہوتے ہیں اور حکمران بھی صرف کاغذات میں ہی نظر آرہے ہیں ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کام کچھ بھی نہیں ہو رہے ہیں بلکہ صرف کاغذی کھوڑے دوڑائے جا رہے ہیں ۔
ڈاکٹر فاروق کا پارٹی لیڈر سے اظہار تعزیت
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی کے ضلع سیکریٹری شوپیاں نثار احمد ننگرو کی والدہ کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے مرحومہ کے حق میں دعائے مغفرت کی ہے۔ انہوں نے ٹیلی فون پر نثار احمد کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ادھر پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ ،جنرل سیکریٹری علی محمد ساگرسمیت دیگر لیڈران نے بھی سوگوار کنبے کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے اورمرحومہ کیمغفرت کیلئے دعا کی۔