۔ 5اگست سے پہلے کئے گئے تمام وعدے سراب ثابت:شیو سینا کے جموں کے صدر
نوجوانوں کو ابھی بھی روزگار نہیں ملا، بلکہ بے روزگاری مزید بڑھ رہی ہے:اپنی پارٹی لیڈڑ
جموں//جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے وقت مرکزی سرکار نے جموں و کشمیر میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے دو برس مکمل ہونے کے باوجود ابھی تک محض دو غیر مقامی باشندوں نے جموں و کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں ضلع کے چھنی، ہمت علاقہ میں اراضی خریدی ہے۔ حالانکہ مرکزی حکومت نے دفعہ 370کے خاتمے کے وقت کہا تھا کہ بیرون ریاست کے تاجر اور بڑی صنعتیں جموں و کشمیر میں اراضی خرید کر صنعتی یونٹیں قائم کریں گی جس سے نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم ہوں گے۔ تاہم دو برس کا عرصہ گزرنے کے باوجود زمینی سطح پر ایسا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملا رہا۔دفعہ 370کے خاتمے کے وقت کیے گئے سبھی وعدے سراب ثابت‘قابل ذکر ہے کہ حالیہ پارلیمانی سیشن میں وزارت داخلہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا دو برسوں میں (دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد) جموں و کشمیر میں صرف دو غیر مقامی باشندوں نے اراضی خریدی ہے۔ اس پر جموں کے سیاسی و سماجی رہنماوٗں نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’مرکزی سرکار نے صرف سبز باغ دکھائے، جموں و کشمیر میں حالات بہتر ہونے کے بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘جموں سے تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی رہنمائوں نے مرکزی سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’دفعہ 370 کے خاتمے کے وقت کیے گئے سبھی وعدے سراب ثابت ہوئے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ دو برسوں میں جموں و کشمیر میں ایک بھی صنعت قائم نہیں ہوئی، صنعت کار ابھی بھی جموں و کشمیر کو سرمایہ کاری کے لیے محفوظ تصور نہیں کر رہے جس کے لیے مرکزی سرکار کی جانب سے بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں۔‘‘جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے جنرل سیکریٹری وکرم ملہوترا نے کہا کہ ’’دو افراد کی جانب سے جموں کشمیر میں زمین خریدنے سے نہ تو یہاں کی ڈیموگرافی تبدیل ہوسکتی اور نہ ہی اس سے تعمیر ترقی ممکن ہے۔‘‘نہوں نے مزید کہا کہ یہاں کے نوجوانوں کو ابھی بھی روزگار نہیں ملا، بلکہ بے روزگاری مزید بڑھ رہی ہے۔سیاسی تنظیم شیو سینا کے جموں کے صدر منیش سہانی نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’’سرمایہ کاروں کی جانب سے یہاں صنعتیں قائم کرنے کے محض کاغذی وعدے کیے گئے، زمینی سطح پر حالات بہتر ہونے کے بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘
مادھوپور میں16کلوہیروین ضبط،ڈرائیور گرفتار
جموں کشمیرسے اسمگل کرکے پنجاب پہنچانے کاانکشاف
جموں//جموںوکشمیر سے کروڑوںروپے مالیت کی ہیرون کوسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے پٹھانکوٹ میں پنجاب پولیس نے اسمگلر کو گرفتار کرکے ٹیوٹا گاڑی ضبط کی۔ امرتسر رورل پولیس کو اس بات کی اطلاع ملی تھی کہ جموںوکشمیر سے منشیات کی بھاری کھیپ کو امرتسر سمگل کیا جارہا ہے۔ پولیس نے مادھوپور سرحد پر ناکہ بٹھایا اور ایک ٹیوٹا انووا گاڑی زیر نمبر PB-01-A/6708 کو روک لیا اور تلاشی لی۔ پولیس نے گاڑی میں چھپائی گئی 16کلوگرام ہیروئن برآمد کی۔ اس موقعہ پر پولیس نے گاڑی کے ڈرائیور رنجیت سنگھ عرف رانا ساکنہ خزانہ گیٹ امرتسر کو گرفتار کرلیا جو جموںوکشمیر سے پٹھانکوٹ کے راستہ امرتسر آرہا تھا ۔ پنجاب پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دنکر گپتا نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ، ’’امرتسر رورل پولیس نے جمعرات کی صبح 16کلوگرام ہیروئن مادھپور میں برآمد کی۔ منشیات کی اس کھیپ کو امرتسر کا رہنے والا ایک شہری جموںوکشمیر سے سمگل کررہا تھا‘‘۔ انہوںنے ٹویٹ میں مزید کہا کہ منشیات کیخلاف شروع کی گئی امرتسر ررول پولیس کا کام سراہنا کے قابل ہے اور گزشتہ7دنوں کے دوران 57کلوگرام ہیرون ضبط کی گئی ہے۔ یادر رہے کہ پولیس نے 21اگست کوضلع گرداسپور میں ڈیربابا نانک سے سرحد پار سے 40.8کلوگرام ہیروئن ضبط کی تھی۔
عوام کی آواز
تعلیمی اصلاحات کے بارے میں سنیل اور رشی کے خیالات کی تعریف
جموں//ریڈیو پروگرام عوام کی آواز کی 5 ویں قسط میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے تحصیل بھدرواہ کے سنیل کمار اور ڈوڈہ کے رشی کمار نے تعلیم کے شعبے میں بعض اصلاحات کے پیش کردہ خیالات کو سراہا ۔ ایل جی نے معاشرے کے بارے میں ان کی تشویش کیلئے دونوں کی تعریف کی تھی اور انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ یہاں نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کے دوران ان کی تجاویز پر غور کیا جائے گا ۔ لفٹینٹ گورنر نے ریڈیو پروگرام میں روشنی ڈالی تھی کہ محکمہ تعلیم کے جائیزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کارکردگی کا جائیزہ لینے ، سائینسی مزاج کو اپنانے اور این ای پی کے مطابق کام کرنے کیلئے ضلعی سطح کی کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت دی تھی ۔ لفٹینٹ گورنر نے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو مزید ہدایت دی تھی کہ وہ ان تجاویز پر کارروائی کرے ۔ انہوں نے یہاں تک ذکر کیا ہے کہ این ای پی کے مطابق نصاب وضع کرنے اور اساتذہ کی مسلسل تربیت اور استعداد بڑھانے کیلئے کئی اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس سے قبل سنیل کمار نے سینئر سکینڈری سطح پر سیاحت اور ماس کمیونیکشن مضامین کو شامل کرنے کے علاوہ ہمارے اسکولوں میں سی بی ایس ای نصاب متعارف کرانے کی تجویز دی تھی ۔ سنیل نے اسکول کے عملے پر بوجھ کم کرنے کیلئے آمگن واڑی مراکز کے ذریعے اسکول کے بچوں کیلئے مڈ ڈے کھانا پکانے کا مشورہ دیا تھا ۔ انہوں نے محکمہ تعلیم میں پروموشنز کیلئے پی آر ٹی ، ٹی جی ٹی ، پی جی ٹی پیٹرن ٹیچر بھرتی اور ڈیپارٹمنٹل امتحان کی تجویز بھی پیش کی تھی ۔جبکہ رشی کمار تجویز کرتے ہیں کہ اسکولوں میں ڈراپ آؤٹ کی شرح کو کم کرنے کیلئے اسکولوں میں طلباء کیلئے روزانہ تفریحی سرگرمیاں منعقد کی جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی وقتی مشاورت ضروری ہے تا کہ انہیں اپنے بچوں کی تعلیم کی اہمیت کا احساس دلایا جا سکے ۔ ان دونوں کا کہنا ہے کہ وہ لفٹینٹ گورنر کے انتہائی مشکور ہیں کہ انہوں نے ان کی تجاویز پر غور کیا اور ان کے ناموں کو عوام کی آواز کی پانچویں قسط میں ذکر کیا ۔