آل جموں و کشمیر پی او کے شرنارتھی انٹکچول فورم کا اجلاس
جموں// آل جموں و کشمیر پی او کے 1947 شرنارتھی انٹکچول فورم کی کور کمیٹی کی میٹنگ ایڈوکیٹ امریک سنگھ کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں مر کزی سرکار خصوسی طور سے وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے جموں و کشمیر پر خصوصی توجہ مر کوز کرنے کی سراہنا کی گئی اور لمبے عرصہ سے صوبہ جموں سے ہو رہے امتیازی سلوک کرنے کی امید وابستہ کی گئی ۔1947کے شرنارتھیوں کو مودی سرکار کی جانب سے ساڑھے پانچ لاکھ فی کنبہ جاری کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے اور بقایا رقم جو کہ 25لاکھ فی کنبہ یکمشت دیئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔تنظیم کے جنرل سیکریٹری سردار سر جیت سنگھ نے مر کزی سرکار کی طرف اسمبلی حلقوں کی حد بندی بڑھانے کی صورت میں مقبوضہ کشمیر کی 24اسمبلی سیٹوں کو واگزار کرنے کی صورت میں 8اسمبلی حلقہ جات شر نارتھیوں کے لئے وقف کرنے کی مانگ کی ہے۔غریبی سطح پر BPLکے زمرہ میں آنے والے کنبہ جات کی نئے سرے سے تشکیل دینے اور نشاندہی کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔اس سے پہلے بھی فہرستیں سیاسی دبائو میں تیار کی گئی ہیں جس سے شر نارتھی طبقہ کے لوگ نظر انداز ہوئے ہیں اور ان کے بچے بھی وظیفہ حاصل نہیں کر سکے ہیں۔اس موقعہ پر سردار پرمجیت سنگھ کارپوریٹر،پرمجیت سنگھ شنگاری،نصیب سنگھ ،اوتار سنگھ،جگجیت سنگھ،بلبیر سنگھ،پرمجیت سنگھ نیمی نے بھی خطاب کیا ۔آخر میں فورم کے صدر گورنر ستیہ پال ملک سے ملنے کیلئے وقت مانگا ہے۔
لوپیڈ ایمپلائز فیڈریشن کا ایڈہاک
کنٹریکچول ورکروں کی غیر مناسب برخاستگی پر تشویش کا اظہار
جموں // آل جے اینڈ کے لو پیڈ ایمپلائز فیڈریشن نے ایڈہاک /کنٹریکچول اور یومیہ اجرتوں پر تعینات ورکروں کی غیر مناسب برخاستگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ایک پریس بیان میںفیڈریشن کے صدر عبدالمجید خان نے گورنر انتظامیہ کی 29-04-2010 اور 17-03-2015 کے بعد تعینات ایڈہاک /کنٹریکچول اور یومیہ اجرتوں پر تعینات ورکروں کی غیر مناسب برخاستگی پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قانونی یا غیر قانونی طور سے کی گئی تعیناتیاں حکام کی ذمہ واری ہے لیکن گونر انتظامیہ 5 سے10سال کی خدمات انجام دینے کے بعد انہیں فارغ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اچانک اس مرحلہ پر انہیں فارغ کرناانہیں اور انکے اہل خانہ کو فاقہ کشی کی جانب دھکیلنا ہے۔انہوںنے اس حکم کو واپس لینے کا مطالبہ کیا،تاکہ ناراض ورکروں کو یقینی فاقہ کشی سے بچایا جا سکے۔انہوں نے گرمائی اوقات کے برسوں کلینڈر کو واپس لینے کی بھی تنقید کی اور کہا کہ ملازموں نے اس کی سخت تنقید کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملازموں کی تنقید کرنا حق بجانب ہے کیونکہ موسم گرما میں درجہ حرارت اتنا بڑھ جاتا ہے کہ کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔انہوں نے انتظامیہ کو یہ حکم واپس لینا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ مرحوم جسٹس آر پی سیٹھی کی قیادت والی بار ایسو سی ایشن نے بھی موسم گرما میں مارننگ ٹائم جاری کرنے کے خلاف ایجی ٹیشن جاری کی تھی ،جس کا ملازموں نے مخالفت کی تھی اور سرکار نے صدیوں پرانے دفتری اوقات یعنی کہ 8بجے سے2بجے بعد دوپہر تک کیا تھا ۔اسکے پیش نظر عبدالمجید خان نے سرکا رسے جموں کیلئے صدیوں پرانے گرمائی دفتری اوقات 8بجے سے2بجے بعد دوپہر تک کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جموں کے بس اسٹینڈ علاقہ میں میڈیکل فارمیسی سربمہر
نیوز ڈیسک
جموں //منشیات کی بدعت کے خلاف جاری مہم کے تحت یہاں ترکوٹی کمپلیکس ،بس اسٹینڈ ،جموں میں جمعہ کے روز مزید ایک میڈیکل فارمیسی کو سربمہر کیا گیا ہے۔ڈسٹرکٹ اسپیشل برانچ او رپولیس اسٹیشن بس اسٹینڈ کی ایک ٹیم نے ایک شخض دیپک کمار ولد وجے کمار ساکن باہو فورٹ،جموں کو گرفتار کیا ۔ پولیس نے اسکی تلاشی کے بعد اسکے قبضہ سے ایک ممنوع منشیات Alprax tabletsبر آمد کی،جسے وہ بغیر کسی کوالیفائڈ میڈیکل پریکٹشنر کے نسخہ کے بغیر ہی لے جا رہا تھا ۔مذکورہ شخض نے پوچھ تاچھ کے بعد بتایا کہ اُس نے یہ دوائی سنجے میڈکوز ،ترکوٹہ کمپلیکس ،بس اسٹینڈ، جموں سے خریدی ہے۔پولیس نے یہ معاملہ ڈپٹی کنٹرولو ڈرگ اینڈ فوڈ کنٹرول آرگنائزیشن مٹھی کے ساتھ اُٹھایا ،جس نے ایس ایچ او پولیس اسٹیشن بس اسٹینڈ کی سفارش پر میڈیکل شاپ کو تا حکم ثانے سر بمہر کرنے کا حکم جاری کیا،جسے ایس ایچ او پولیس اسٹیشن بس اسٹینڈانسپکٹر راجیش جسروٹیہ نے عملایا۔
شرائن بورڈ نے بھون میڈیکل ٹیم کی عزت افزائی کی CEO
کٹرہ //شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر سمرن دیپ سنگھ نے بھون میڈیکل یونٹ/ڈسپنسری کے تین میڈیکل اہلکاروں کو نے ایک جواں سال ویشنو دیوی یاتری کی خاص طبی حالت سے نمٹتے ہوئے مثالی خدمات انجام دیں،جو 9جون 2019کو ماتا ویشنو دیوی جی کی یاترا کیلئے آیا تھا ۔ میڈیکل افسرڈاکٹر روہت بخشی، میڈیکل اسسٹنٹ منیش پادھا اور نرسنگ آرڈرلی راجندر سنگھ نے ایک خاص بیماری Takayasu arteritis کا علاج کیا ،جس کی تشخٰص کیلئے خاص آلہ کی ضروت ہوتی ہے،تاہم میڈیکل ٹیم نے اس جواں سال یاتری کا بر وقت علاج کرکے اسکی جان بچائی ۔ سی ای او شرائن بورڈ نے بھون میڈیکل ٹیم کی اس کام کی ستائش کرتے ہوئے انکی عزت افزائی کی۔سی ای او نے بذات خو د میڈیکل یونٹ کا دورہ کرکیٹیم کی عزت افزائی کرتے ہوئے توقع کا اظہار کیا کہ یونٹ مستقبل میں بھی اپنے فرائض بخوب انجام دیں گے۔یہ بات قابل ذخر ہے کہ 9 جون 2019 کوویشنو دیوی یاترا میں کافی رش دیکھا گیا اور اس روز تقریباً42000یاتریوں نے ماتا کے درش کئے۔
پینتھرس پارٹی سدھ مہادیو میں
۔16 سے 18 جون تک قومی یکجہتی کیمپ کا انعقاد کرے گی
جموں//جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی آئندہ 16 جون سے 18 جون 2019 تک سدھ مہادیو، تحصیل چنینی(اودھمپور) میں قومی یکجہتی کیمپ کا انعقاد کرے گی۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے جب وہ چنینی ۔گھورڈی سے 1978 میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے سدھ مہادیو یکجہتی کیمپ کی شروعات کی تھی اس وقت پروفیسر بھیم سنگھ نے ایک قومی یکجہتی کمیٹی، سدھ مہادیو تشکیل دی تھی جو ہر سال مختلف سماجی اور سیاسی نمائندوں کے تعاون اور رابطوں سے قومی اتحاد کیمپوں کا انعقاد کا رہی ہے۔روایت کے مطابق پینتھرس پارٹی حسب سابق 16، 17 اور 18 جون کو تین روزہ قومی یکجہتی کیمپ منعقد کرے گی، جس میں سد ھ مہادیو کی مقدس سرزمین پر امن، تعاون، تال میل اور سیکولر ہم آہنگی کی 42 ویں سالگرہ منائی جائے گی۔ اس سلسلے میں ایک آرگنائزنگ کمیٹی کی تشکیل دی گئی ہے، جس کے کنوینر بلونت سنگھ منکوٹیا اور تمام ضلعی صدر رکن ہوں گے۔ پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے ہر ضلعی صدر کو اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے ضلع کی تنظیمی کمیٹیاں تشکیل دینے کے لئے کہا ہے، جو امن، اتحاد، تعاون، بھائی چارے اور ترقی کے پیغام کے ساتھ اپنے وفد کو سدھ مہادیو کیمپ میں شامل ہونے کے لئے تیار کریں گے ۔ ہرشدیو سنگھ سے سدھ مہادیو کیمپ کی سربراہی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے تمام ایگزیکٹو رکن بھی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن ہوں گے۔ سدیش سنگھ کی صدارت والی کمیٹی کو کھیم راج شرما اور سودن کیش گپتا سمیت دیگر سرپنچوں کے ساتھ لنگر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس درمیان پینتھرس پارٹی اودھمپور یونٹ کے آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن مقرر کئے گئے ہیں، جن میں کھیم راج، بشارت علی، دھنی رام اتری، وشودیو سنگھ، اے این مہرہ، چرنجیت کیرنی، وجے سنگھ، کپور سنگھ، پون سنگھ، سنجیت کمار شرما، چندر شیکھر رائنا، سامنک بھسین، رتن شرما، کرشن سنگھ، رامپال بھگت اور سدیش شرما شامل ہیں۔