کوٹرنکہ میں نیشنل کانفرنس کا ماہانہ اجلاس
کوٹرنکہ//کوٹرنکہ میں نیشنل کانفرنس کا ماہانہ اجلاس بلاک صدر ایوب پہلوان کی صدارت میںمنعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران کوٹرنکہ وگردونواح سے کارکنان نے شمولیت کی ۔اس موقعہ پر عوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیاگیا۔چوہدری محمد شفیع نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جس طریقے سے پنچایتی الیکشن کرائے جارہے ہیں ،یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ سرپنچ کا الیکشن براہ راست کروایاجائے ۔انہوں نے کہا کہ تعمیر وترقی کے نام پر سرکار تو بنی ہوئی ہے لیکن اس شعبے میں کوئی کام نہیں ہورہا۔ان کاکہناتھاکہ سابق دور حکومت میں شروع ہوئے کاموںکو بھی مکمل نہیں کیاگیا بلکہ کئی کام تو بند کروادیئے گئے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ لوگوںکے مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں اور حکومت ان کو سننے کو بھی تیار نہیں ۔
دبڑ پوٹھہ میں 15دنوںسے پانی کی سپلائی معطل
رمیش کیسر
نوشہرہ //نوشہرہ کے گائوں دبڑ پوٹھہ میں پچھلے پندرہ روز سے پانی کی سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی کو سخت مشکلات کاسامنا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایاکہ دونوں دیہاتوں میں پچھلے پندرہ دنوں سے پانی کی سپلائی نہیں جس کی وجہ سے دونوں دیہاتوں کی چھ ہزار آبادی مشکلات کاسامنا کررہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ دبڑ پوٹھہ دیہاتوںمیں پانی کی سپلائی ہرماہ بند کردی جاتی ہے اور متعلقہ حکام اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے۔ ان کاکہناتھاکہ پانی کی سپلائی ٹھیک کی جائے تاکہ ان کو مشکلات کاسامنا نہ کرناپڑے ۔ جب اس سلسلے میں میکینکل ونگ کے جونیئر انجینئر سے بات ہوئی تو ان کاکہناتھاکہ موٹر خراب ہونے کی وجہ سے پانی کی سپلائی ٹھیک نہیں ہے تاہم جلد موٹر مرمت کرکے سپلائی بحال کردی جائے گی۔
شوکت کاظمی نے پٹواریوںکی کارکردگی کاجائزہ لیا
نیوز ڈیسک
راجوری//ریجنل ڈائریکٹر سروے و لینڈ ریکارڈ س پیر پنچال شوکت کاظمی نے ڈی سی کمپلیکس راجوری میں ایک میٹنگ منعقد کرکے خطہ میں کام کررہے پٹواریوںکی کارکردگی کاجائزہ لیا ۔انہوںنے تمام پٹواریوںکی کارکردگی کاجائزہ لینے کے بعد ان کو ہدایت دی کہ وہ مزید محنت اور لگن سے کام کریں اور محکمہ مال کے ریکارڈ کی تجدید میں دن رات ایک کردیں ۔انہوںنے کہاکہ جمع بندی کے معاملات مکمل کئے جائیں اور سبھی کام مقررہ مدت میں کئے جائیں ۔ اس دوران پٹواریوں نے بھی کچھ مسائل کو اجاگر کیا جس پر شوکت کاظمی نے کہاکہ وہ انہیں حل کرنے کی کوشش کریںگے ۔ انہوںنے کہاکہ تمام جائز مطالبات کوپور اکیاجائے گا۔
تھنہ منڈی میں بیداری کیمپ کا اہتمام
تھنہ منڈی//فوج کی طرف سے یوتھ سنٹر تھنہ منڈی میں سیریکلچر کے موضوع پر ایک بیداری پروگرام منعقد کیاگیا جس دوران فیلڈ اسسٹنٹ امرت لعل نے توسیعی خطبہ دیا ۔ انہوںنے محکمہ سیریکلچرراجوری کی طرف سے چلائی جارہی مختلف سکیموں کے بارے میں بھی جانکاری فراہم کی اور لوگوں کو ان سکیموںسے فائدہ اٹھانے کی تلقین کی ۔ اس توسیعی خطبے کامقصد لوگوںکو جانکاری فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں روزگار کے مواقعوں سے بھی روشناس کراناتھا تاکہ وہ خودروزگا رسکیموںسے جڑ کر خود کفیل بن سکیں ۔امرت لعل نے کہاکہ یہ شعبہ انتہائی قدیم ہے جس سے کئی قسم کی مصنوعات تیار کی جاسکتی ہیں ۔ تاہم انہوںنے کہاکہ موجودہ دور میں اس کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے جو تشویش کی بات ہے ۔انہوںنے کہاکہ اس علاقے کا خدوخال اور موسم سلک کی پیداوار کیلئے موزوں ہے اس لئے لوگوںکو اس کاروبار سے جڑ جاناچاہئے ۔ انہوںنے کہاکہ کسانوںکو بتایاکہ وہ کس طرح سے اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔بیداری کیمپ میں شرکت کرنے والے لوگوں نے فوج کا کیمپ منعقد کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہاکہ اس سے انہیں مفید جانکاری ملی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اس طرح کے پروگرام آئندہ بھی منعقد ہونے چاہئیں اوران سکیموں کا فائدہ ملناچاہئے جو لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے شروع کی گئی ہیں ۔
اڑائی میں اپر موہری سڑک کاکام شروع
حسین محتشم
پونچھ //ممبر اسمبلی پونچھ شاہ محمد تانترے نے تحصیل منڈی کے گاؤں اڑائی اپر موہری کی سڑک کی تعمیر کے کام کا آغاز کروایا۔ اس دوران مقامی لوگوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تانترے کو پھولوں کے ہار پہنائے اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سڑک رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے اس ترقی یافتہ دور میں بھی قدیم طرز کی زندگی گزارنی پڑ رہی تھی۔ لوگوں نے امید ظاہر کہ سڑک کو جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔ اس دوران مقامی لوگوں نے موصوف کو اپنے دیگر مسائل سے بھی روشناس کرایا۔ اپنے خطاب میں تانترے نے اڑائی کے لوگوں کا شکریہ ادا کیااور کہا کہ وہ عوامی خدمتگار ہیں اس لئے انہیں اس بات کا سخت احساس ہے کہ وہ عوام کے مسائل حل کریں۔انہوںنے کہا کہ وہ پوری کوشش کریں گے کہ عوام کو ہر طرح کی سہولت دستیاب کروائیں۔ تانترے نے مقامی لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ ان کے تمام مطالبات پورے کئے جائیںگے ۔
آئمہ مساجد کا مشاہرہ بڑھایاجائے:جہانگیر
نیوز ڈیسک
پونچھ //جموں و کشمیر قانون ساز کونسل کے سابق ڈپٹی چیئرمین جہانگیر حسین میر نے امامِ مساجد کے مشاہرے کو لے کر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ایک پریس بیان میں انہوں نے کہا کہ سماج کے اندر ایک امام سے بڑھ کر کسی کا مقام نہیں ہو سکتا اور ایک امام اپنا وقت قوم کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ معاشرے میں تیزی سے پھیل رہی خرابیوں کے خاتمے کے لئے بھی صرف کرتا ہے جبکہ اسی امام ِمسجد کو ماہانہ تین ہزار روپے دئے جاتے ہیں جو سرا سر ظلم ہے۔انہوں نے ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ ہندوستان کی باقی ریاستوں کی طرح ریاست جموں و کشمیر میں بھی مدرسہ بورڈ قائم کیا جائے تاکہ ائمہ مساجد کے اس مسئلے کو حل کیا جائے۔دریں اثناء سنی یوتھ ونگ جموں و کشمیر کے صوبائی صدر اعجاز احمد مدنی نے کہا کہ ائمہ مساجد وہ ہستیاں ہیں جن کی وجہ سے علاقے میں امن و امان قائم ہوتا ہے اور معاشرے میں نوجوان نسل کو سیدھی راہ کی طرف گامزن کرنا یہ امام کا ہی کام ہے لیکن حکومت کا ائمہ کے تئیں ایسا رویہ قابلِ مذمت ہے ۔حکومت کو چاہئے کہ ائمہ مساجد کے مشاہروں میں فوری اضافہ کرے ۔
این ایچ ایم ملازمین پر لاٹھی چارج قابل مذمت
بربریت کے بجائے مطالبات پورے کئے جائیں :بخاری
بختیار حسین
سرنکوٹ//نیشنل کانفرنس کے سینئرنائب صدروسابق ریاستی وزیر سید مشتاق احمد بخاری نے نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین پر پولیس لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اگر پی ڈی پی ۔بی جے پی سرکار نے امن پسند رہتے ہوئے ان ملازمین کے مطالبات پورے کئے ہوتے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی ۔سرنکوٹ میں کارکنان کے ایک اجلاسے خطاب کرتے ہوئے بخاری نے کہاکہ موجودہ حکومت لاٹھی چارج کے سہارے ملازمین کی آواز کو دبانے میں سکون مل رہاہے ۔انہوںنے کہاکہ یہ بات باعث شرم ہے کہ خواتین ڈاکٹروں اور ملازمین کو سڑک پر گھسیٹا جارہاہے اور حکومت ان ملازمین کے مطالبات پر بے پرواہ ہے ۔ان کاکہناتھاکہ بجائے اس کہ ان ملازمین کو ان کی خدمات دیکھتے ہوئے مستقل کیاجاتا اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیاجاتا،سر کار نے ا ن پر دھونس دبائو کی پالیسی اپنارکھی ہے جس کی وہ مذمت کرتے ہیں ۔بخاری نے کہا کہ سرکار نے بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملازمین خاص کر خواتین کی پٹائی کروائی ہے اور وہ ان ملازمین کیلئے کوئی پالیسی مرتب کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ۔انہوںنے کہاکہ جو حکومت ملازمین کے مستقبل کوتباہ ہونے سے بچانہیں سکتی اسے اقتدار چھوڑ دیناچاہئے کیونکہ یہ ناانصافی ہے کہ جو لوگ کئی کئی سال سے محکمہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں ، ان پرلاٹھیاں برسائی جائیں ۔بخاری نے کہاکہ این ایچ ایم ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے دیہی علاقوں میں طبی نظام مفلوج بن کر رہ گیاہے اور لوگ دربدر ہیں ۔انہوںنے کہاکہ ان کے مطالبات پورے کرکے انہیں واپس کام پرلایاجائے تاکہ لوگوںکو طبی سہولیات فراہم ہوسکیںنہیں تو کل کے روز مریض بھی سراپااحتجاج ہوںگے اور پھر ان کو سنبھال پانا حکومت کے بس میں نہیںہوگا۔