نٹرنگ کی سنڈے سیریز،ہندی افسانہ ’دو کلار‘ پر مبنی کھیل پیش
عظمیٰ نیوز
جموں//بھگوتی چرن ورما کا تحریر کردہ ہندی کہانی ’دو کلاکار ‘ پر مبنی ناٹک نٹرنگ کی سنڈے سیریز کے تحت پیش کیا گیا۔ بلونت ٹھاکر کی ہدایت کاری میں ملک میں کلاکاروں کی بد حالی اور ان کی جد و جہد بھری زندگی کے بارے میں خوبصورت عکاسی کی گئی ہے ۔ کہانی کار کا کہنا ہے کہ اگر چہ ان فنکاروں کی زندگی دور سے چمک دھمک سے بھرپور لگتی ہے لیکن حقیقت میں وہ بہت ہی قابل رحم حالت میں گزر بسر کر رہے ہوتے ہیں۔ کہانی ایک شاعر چرامنی اور مارتنڈ نامی ایک مصور کے ارد گرد گھومتی ہے ۔ مارتنڈجہاں فلمی نغمہ نگار بننے کی چاہ رکھتا ہے وہی پینٹر خود کو ایک تخلیق کار کے طور پر قائم کرنے کی جد و جہد کرتاہے لیکن تقدیر ان کا ساتھ نہیں دیتی اور وہ اپنی تخلیقات کو فروخت کر کے ضروریات زندگی پورا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ شیتل نے چورا منی اور ذیشان حیدر نے مارتنڈ کے رول بخوبی نبھائے ۔ رکشست اروڑہ بلاکی داس، رئیس احمد خان رام ناتھ اور شوم شرما پرمانند کے کردار میں نظر آئے ۔
ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر جمعیة شدید برہم
پونچھ// امریکہ اور اس کے حواریوں کے تین اہداف ہیں۔پہلا ہدف یہ ہے کہ مسلمان کتنا بھی گیا گزرا کیوں نہ ہو کتنا ہی بے عمل کیوں نہ ہو ایمانی حدت و ملاوٹ سے محروم ہوکر بھی عشق رسول کی چنگاری اس کے دل میں فروزاں رہتی ہے۔ دوسرا ہدف یہ ہے کہ مسلمانوں کے قرآن و سنت جیسے مراکز عقیدت کو نشانہ بنا کر انہیں مشتعل کیاجائے تاکہ وہ اپنے ہی ملکوں کی املاک کو نقصان پہنچائیں۔ تیسرا ہدف یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں انتہا پسندی اور اپنے سفیروں کیلئے حفاظت خوداختیاری کا بہانہ بنا کر وہاں اپنی فوجیں اتار دی جائیں۔یہاں جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار جمعیتہ کے آل انڈیا جنرل سکریٹری مولانا شہزاد انوری نے سرینگر میں مرکزی جامع مسجد دانا واری میں ماہانہ مجلس میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہالینڈ میں اسلام سے متعلق توہین آمیز خاکوں پر الجمعیتہ شدید مذمت اور احتجاج کرتی ہے،اس طرح کے کارٹون مقابلے مسلمانوں کے عالمی سطح پر جذبات مجروح کرنے اور اشتعال کا باعث بنیں گے،پوری دنیا کا مسلمان کسی بھی صورت ایسی گستاخانہ حرکت کبھی برداشت نہیں کرسکتا اور نہ ہی ہم سے توقع رکھی جائے کہ ہم ایسی گستاخی کو برداشت کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں سے ہماری برداشت کا امتحان لیا گیا ہے اور یاد رکھا جائے کسی بھی فورم پر ایسی حرکت کرنے والوں کے دل شکنی کی جائے گی اور ہر فورم پر اپنا احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے مذموم اعلان کے خلاف احتجاج کرنا ہر مسلمان کا ایمانی فریضہ اور حضور سے محبت کا تقاضہ ہے کیونکہ ایک ملعون نے پوری امت کو للکاراہے۔ مولانا انوری نے کہا کہ با صلاحیت، مالا مال مسلم ممالک کے سربراہوں کی گستاخانہ خاکوں پر خاموشی انتہائی افسوسناک ہے۔ان کاکہناتھاکہ چند برس قبل فرانس کے ایک جریدے شاغلے ایبدو کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے مسلم دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کوٹھیس پہنچی تھی اور یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو جاری ہے ، کبھی گستاخانہ خاکے بنا کر ، کبھی حجاب اور داڑھی پر پابندی لگا کر ، کبھی قبلہ اول کو اسرائیلی تحویل میں لینے کی بات کر کے۔ انوری نے کہاکہ ملک میں گائے اور مذہبی منافرت پر قتل وغارت گری بھی بدترین دہشت گردی ہے جس سے ہمارا ملک جوجھ رہا ہے -ان کاکہناتھاکہ مغرب اور یورپی یونین کو دنیا کا امن عزیز ہے توانہیں گستاخانہ مواد کی اشاعت کو روکنا پڑے گانہیں تو وہ متنبہ کرتے ہیں اگر مغربی ممالک میں ایسے واقعات کی روک تھام نہ کی گئی تو دنیا میں تیسری جنگ عظیم چھڑ سکتی ہے۔
خورشید گنائی کا جموں میں عوامی دربارآج اور کل
نیوزڈیسک
جموں//گورنر کے صلاحکار خورشید احمد گنائی سٹیٹ گیسٹ ہاو¿س کنال روڈ جموں میںآج 27اگست2018 بروز سوم وار کو شام4 بجے سے6 بجے تک عوامی دربار میں لوگوں کی شکایات سُننے کے لئے موجودرہیں گے۔مشیر موصوف 28اگست2018 ء( منگل وار) کو بھی صبح 10 بجے سے 12 بجے تک عوامی دربار میں لوگوں کی شکایات سُننے کے لئے موجودرہیں گے۔
این سی لیڈر کا پارٹی کارکنوں سے خطاب
جموں//حلقہ انتخاب اندروال سے این سی لیڈر رکن پیارے لال نے متعدد عوامی جلسوں سے خطاب کیا۔ یہاں موصولہ ایک پریس ریلیز کے مطابق کاہرہ، چبہ باتھری میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اب وقت آن پہنچاہے جب لوگ پی ڈی پی۔بھاجپااور کانگریس کوان کی خطاﺅں کی سزادےں گے کیونکہ ان جماعتوں نے اس خطے کوتاریکی میں جھونک دیا۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو گمراہ کن نعرے دے کر ووٹ حاصل کرنے کے بعد یہ جماعتیں عوام سے کئے گئے وعدے وفاکرنے میں ناکام رہیں اورہرمحاذپرناکامی ان کی واحد حصولیابی ہے۔انہوں نے کہاکہ کانگریس نے اندروال کے لوگوں کوبڑے بڑے خواب دکھائے لیکن سب فریب ثابت ہوئے۔پیارے لال نے اندروال حلقہ کوہرشعبے میں نظراندازکرنے کاالزام عائدکرتے ہوئے کہاکہ اندروال کی غریب عوام کے ساتھ سوتیلی ماں والاسلوک روارکھاہواہے۔انہوں نےکہا کہ لوگ اب بیدار ہو گئے ہیں اور انہیں مزید گمراہ نہیں کیا جا سکتا ۔ اس موقعہ پر کئی افراد نے نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کر لی ۔این سی لیڈر نے شمولیت اختیار کرنے والے سیاسی کارکنان کا استقبال کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ مستقبل میں ا س سے پارٹی کو مزید تقویت حاصل ہوگی ۔
جموں میں عقیدت و احترام سے منایا گیا رکھشا بندھن ،خواتین نے فوجیوں کوراکھیاں باندھیں،نوجوان پتنگ بازی سے لطف اندوز
جموں// ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر ریاست میں بھی بھائی بہن کے مقدس رشتہ کا تہوار’رکشا بندھن‘ہندو طبقہ کی طرف سے عقیدت واحترام کے ساتھ منایاگیا۔بین الاقوامی سرحد اور حدمتارکہ پرملک کی حفاظت پرمامور فوجی اہلکاروں کو سکولی بچیوں اور مقامی خواتین نے راکھیاںباندھیں ،ماتھے پر تلک لگایا اور مٹھائی کھلائی۔پونچھ کے گاو¿ں جلاس اور کے جی سیکٹر میںخواتین نے آرمی جوانوں کو راکھیاں باندھ کر پیغام محبت دیا۔ انہیں مٹھائی بھی کھلائی۔ادھر جموں کے ارنیہ سیکٹر، سچیت گڑھ سیکٹر، پرگوال، رام گڑھ میں بین القوامی سرحد پر سکولی بچیوں اور خواتین نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھیاں باندھیں۔ اس موقع پر انتہائی جذباتی لمحات دیکھنے کو ملے۔ فوجی اہلکاروں کی آنکھوں سے خوشی کے آنسوو¿ ں بھی بہہ رہے تھے۔علا وہ ازیں کئی مقامات پر ملٹری اسٹیشنوں پر بھی رکشابندھن کے موقع پر خصوصی پروگرام منعقد ہوئے ۔ادھر جموں شہر میں صبح سے ہی رکشابندھن کو لیکر کافی جوش وخروش دیکھنے کو ملا۔ شادی شدہ خواتین صبح سویرے اپنے بھائی کے گھروں کی طرف جاتی دیکھیں۔ خصوصی پوجا پاٹھ بھی کی گئی۔ رکشا بندھن تہوار کے موقع پر جموں میں خصوصی پتنگ بازی کی جاتی ہے۔ صبح سے ہی شہر جموں میں آسمان پر رنگ برنگی پتنگیں اُڑتی دکھائی دیں جس میں دن چڑتے چڑتے مزید اضافہ ہوا۔جگہ جگہ نوجوان دوست وغیرہ ایک جگہ جمع ہوکر موسیقی کے ساتھ پتنگ بازی کرتے دکھائی دیئے۔آسمان میں اپنی پتنگ کو سب سے اوپر اُڑھانے کے بھی مقابلے دیکھنے کو ملے۔ پتنگ بازی کے لئے کئی دن پہلے ہی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں جس کے لئے پتنگ اور ڈوری ’گٹو‘تیار کی جاتی ہیں۔ انتظامیہ نے چین کی ڈوری پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس کو یقینی بنانے کے لئے کئی دکانوں پر چھاپہ ماری بھی ہوئی۔ چینی ڈوری کے استعمال سے کئی افراد زخمی بھی ہوجاتے ہیں، اس لئے اس کے استعمال پر پابندی ہے۔یو این آئی