ڈوگرہ فرنٹ و شیو سینا کا دفعہ35اے کیخلاف احتجاج
یو این آئی
جموں،//جموں میں ڈوگرہ فرنٹ اور شیو سینار ورکروں نے دفعہ35-Aہٹانے کے حق میں احتجاجی ریلی نکالی۔ اشوک گپتا کی قیادت میں شیو سینا کارکنان نے سیاہ لباس پہن کر احتجاج کیا۔ انہوں نے دفعہ35Aکو سیاہ قانون قرار دیتے ہوئے اس کو ختم کرنے کی مانگ کی۔مظاہرین نے ہاتھوں میں قومی جھنڈے ، بینرز اور پوسٹر اٹھارکھے تھے ۔ اہوں نے کہاکہ دفعہ35-Aکو آئینِ ہند کا حصہ بنانے کے لئے آرٹیکل368کے تحت واضح طریقہ کار نہیں اپنایاگیا۔ یہ ایگزیکٹیو آرڈر سے لایاگیاہے جبکہ آئین میں ترمیم وتنسیخ کا حق صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے ۔ دفعہ35اے دفعہ14(حقوق یکسانیت)کی خلاف ورزی ہے کیونکہ جموں وکشمیر کی جن خواتین کی بیرون ریاست شادی ہوتی ہے ، انہیں یہاں پر مالکانہ حقوق حاصل نہیں۔ جموں میں دفعہ 35اے کے خلاف کوئی احتجاج نہیں ہورہا، البتہ سوشل میڈیا پر خلاف مہم چھیڑی گئی ہے ۔
اکھنور میں گوجروں کی ہراسانی باعث تشویش: اصلاحی کمیٹی
انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ، احتجاج کا انتباہ
عظمیٰ نیوز
جموں//گوجربکروال اصلاحی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری نے انتظامیہ سے مانگ کی ہے کہ راج پورہ منڈی اکھنورروڈپرگوجروں کوہراساں کرنے والے افرادکے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔ یہاں جاری پریس بیان میں گوجربکروال اصلاحی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری چوہدری اخترحسین نے کہاہے کہ خسرہ نمبر 481-482 جو2700کنال سرکاری اراضی ہے ،جس پرپورے گائوں نے ناجائز قبضہ کیاہواہے ۔اخترچوہدری نے کہاکہ گائوں کے ستیش شرمااورمنگانامی افرادنے اس اراضی کوملکیت بتاکر دس لاکھ روپے گوجروں سے وصول لیے تھے ،جب گوجروں کوحقیقت معلوم ہوئی توعرصہ درازسے پیسے واپس کرنے کے بجائے انہیں بھگانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ گوجروں پرالٹاناجائزقبضہ ثابت کیاجارہاہے ۔چوہدری اخترحسین نے کہاکہ سرکار2700کنال سرکاری ناجائزقبضہ کوخالی کرایاجائے نہ کہ صرف چھ گوجربکروال کنبوں کوہراساں کرے۔انہوں نے کہاکہ پچھلے سال ان گوجروں کے کلے مسمارونذرآتش کیے گئے تھے ۔گھریلوسامان تباہ کیاگیاتھا۔انہوں نے کہاکہ چندغنڈہ عناصرکے کہنے پرانتظامیہ بھی سازش کاحصہ بن رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ خانہ بدوش پہلے ہی غربت وافلاس کے مارے ہوئے ہیں اوراوپرسے انتظامیہ انہیں عتاب کاشکاربنارہی ہے جوکہ ناانصافی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کچھ عناصر مسلم کش پالیسی پرعمل پیراہیں اورگوجروں کے خلاف سازشیں رچ کرانہیں بھگانے پرتلے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ نے ہوش کے ناخن نہ لیے اورشرپسندعناصرکے خلاف کاروائی عمل میں نہ لائی توگوجروں کواحتجاج کیلئے سڑک پراترنے کیلئے مجبورہوناپڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے گوجروں سے رقم اینٹھ لی ہے ان کے خلاف پولیس نے کیس درج نہیں کیاہے ۔انہوں نے کہاکہ پولیس کوفوری طورپران کے خلاف معاملہ درج کرناچاہیئے۔
جاد، ریاسی میں طبی کیمپ کا انعقاد
؎ریاسی //ریاست کے دور افتادہ علاقوں میں مقامی لوگوں کی مدد کے لئے فوج نے اپنی انتھک کوششیں جاری رکھتے ہوئے ضلع ریاسی کے موضع جاد کے رہائش پذیر لوگوں کے طبی مشکلات کم کرنے کے لئے ایک طبی کیمپ کا انعقاد کیاگیا۔ کیمپ کا اہتمام علاقہ کے لوگوں کو گھروں کے دہلیز پر ہی بنیادی طبی خدمات فراہم کرناتھا، جن کو معمولی سی بیماری کے لئے بھی گول کا رُخ کرنا پڑتا ہے۔۔ فوجی ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کی ٹیم نے کیمپ میں 225سے زائد مریضوں کا معائنہ کیا گیا ۔کیمپ میں غریبوں اور ضرورتمند مریضوں میں مفت ادویات بھی تقسیم کئے گئے ۔ میڈیکل سٹاف نے حفظان صحت اور صفائی و ستھرائی ،پینے کے صاف پانی کی اہمیت اور دور جدید میں طرز زندگی سے متعلق بیماریوں پر کونسلنگ فراہم کی۔مقامی لوگوں نے فوج کی جانب سے یہ نیک کام انجام دینے پر فوج کی ستائش کی۔سرپنچ جاد نے یہ طبی کیمپ منعقد کرنے پر فوج کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سے عوام کو نہ صرف اپنے گھروں کے پاس ہی طبی سہولیات میسر ہوئیں بلکہ انہیں صحت و صفائی ،حفظان صحت اور صحت مند طرز زندگی بسر کرنے میں بھی مدد ملے گی۔طبی ٹیم نے اس موقعہ پر لوگوں میں مختلف بیماریوں اور اچھی صحت قائم رکھنے میں بیداری بھی پیدا کی۔
مالی بے ضابطگیوں کا الزام
ایگزیکٹو انجینئرمہور معطل
ریاسی //مالی بے ضابطگی کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر پرسننا راما سوامی جی نے ڈویژن مہور کے تعمیرات عامہ کے انچارج ایگزیکٹو انجینئر ایم کے وکرم کو معطل کیا ہے۔دریں اثنا ڈی سی نے محکمہ تعمیرات عامہ اودھمپور۔ ریاسی سرکل کے سپرانٹنڈنگ انجینئر کو معاملہ کی محکمانہ تحقیقات کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔سب ڈویژنل منیجر مہور نے یہ معاملہ ڈی سی کی نوٹس میں لایا ہے۔معاملہ 50 بستروں پر مشتمل گوجر بکروال ہوسٹل مہوکی تعمیر کے سلسلہ میں ہے، جس کی تعمیر غیر معیاری پائی گئی ہے۔علاوہ ازیں ،مبینہ الزام ہے کہ پینلائزنگ کے بجائے کنٹریکٹر نے ،ایگزیکٹو انجینئر کو ملوث کیا ،جس نے مزید 20لاکھ روپے کی ادائیگی کی ،جو کہ اطلاعات کے مطابق بہت زیادہ ہے۔